Al Qalam

Al Qalam

Share

06/10/2026

Jokes Time

06/08/2026

"لو میں آیا" چینی لوک کہانی
چین کے مانگی چو شہر میں ایک مشہور ڈاکو رہتا تھا۔ اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا مگر سب اسے "لو میں آیا" کے نام سے جانتے تھے۔ وہ جہاں بھی ڈاکہ ڈالتا یا چوری کرتا وہاں کسی دیوار پر "لو میں آیا" ضرور لکھ دیا کرتا تھا۔

رفتہ رفتہ اس کی سرگرمیاں اتنی بڑھ گئیں کہ عوام نے حکومت سے درخواست کی کہ انہیں اس سے چھٹکارا دلایا جائے ۔ کوتوال کو حکم دیا گیا کہ کسی بھی طرح "لو، میں آیا" کو گرفتار کر لیا جائے ۔ گرفتاری کے لئے آٹھ روز کی مدت مقرر کر دی گئی۔

کوتوال سوچ میں پڑ گیا ۔ وہ کوئی عام چور نہیں تھا، وہ اتنا چالاک تھا کہ کسی کے پاس اس کی پوری معلومات نہیں تھی، کوئی اس کے رنگ روپ ، قد و قامت کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ ایسے چور کو ایک مقررہ وقت کے اندر گرفتار کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔

کوتوال اور اس کے عملے نے چور کی تلاش میں رات دن ایک کر دیے ۔ آخر ایک
شخص کو گرفتار کر کے منصف کے سامنے پیش کر دیا ۔ کوتوال نے کہا: حضور! یہی "لو، میں آیا" ڈاکو ہے۔ اسے سخت سے سخت سزا دے کر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کیجئے ۔“ منصف نے پوچھا۔ ” تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہی وہ ڈاکو ہے۔“

حضور !“ کوتوال نے عرض کیا، ہم نے بڑی ہوشیاری سے اس پر نگاہ رکھی اور اس کی نقل و حرکت کی خبر رکھتے رہے۔ یقین ہو جانے کے بعد ہی ہم نے اسے گرفتار کیا ہے۔“ منصف نے ملزم سے پوچھا۔ ” تمہارا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟“

"حضور! انہیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے کسی نہ کسی کو گرفتار کرنا ہی تھا۔ بد قسمتی سے میں ان کے ہتھے چڑھ گیا۔ یہ مجھے پکڑ لائے میں بے گناہ ہوں ۔ ملزم نے کہا۔

منصف کو شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر کوتوال نے کہا: ”حضور ! آپ اس کی باتوں کا اعتبار نہ کریں۔ یہ بہت چالاک ہے۔“

منصف نے کوتوال کی بات کا اعتبار کر لیا اور قیدی کو فی الحال قید خانے میں رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔

قیدی در حقیقت ”لو میں آیا“ ہی تھا۔ اس نے قید خانے پہنچتے ہی اپنی چالاکی دکھانی شروع کر دی۔ اس نے جیل کے محافظوں سے تو دوستی کی ہی ... جیل کے افسر سے تنہائی میں کہا: خالی ہاتھ بڑوں کی خدمت میں حاضر ہونا ہمارا شیوہ نہیں ہے۔ میرے پاس جو کچھ تھا وہ مجھے قید کرنے والے سپاہیوں نے چھین لیا۔ پھر بھی آپ کو میں ایک چھوٹا سا نذرانہ دینا چاہتا ہوں ۔ پہاڑی پر دیوتا کے مندر کے ایک اینٹ کے نیچے میں نے تھوڑی سی چاندی چھپا رکھی ہے۔ آپ اسے لے لیں“

افسر نے پہلے تو قیدی کی بات کا اعتبار نہیں کیا، مگر پھر بھی قیدی کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا اور نشان زدہ اینٹ ہٹا کر دیکھا تو وہاں سے ایک سیر چاندی برآمد ہوئی ۔ افسر نے وہ چاندی رکھ لی۔

اس واقعے کے بعد قید خانے کا وہ افسر ڈاکو کے ساتھ دوستانہ سلوک کرنے لگا۔ چند روز گزر گئے۔ ایک روز ڈاکو نے افسر سے موقع دیکھ کر کہا: ”صاحب، میں نے فلاں پل کے
نیچے بہت سے دولت گاڑ رکھی ہے۔ آپ وہ بھی لے لیجئے ۔ اب میرے تو کسی کام کی نہیں ۔“ افسر نے کہا: پل پر ہمیشہ لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے ۔ میں وہاں سے گڑی ہوئی دولت کیسے نکال سکتا ہوں؟“

آپ اپنے ساتھ دو چار جوڑے کپڑے لے جائیں۔ ساتھ میں ایک خالی تھیلا بھی لے جائیں ۔ سب سمجھیں گے آپ ندی پر کپڑے دھونے گئے ہیں۔ آپ دولت نکال کر تھیلے میں ڈال لیں۔ کپڑے بھی پانی میں گیلے کر کے تھیلے میں ڈال لیں اور تھیلا لے آئیں ۔ کوئی آپ پر شک نہیں کر سکتا ۔ قیدی نے ترکیب بتائی۔

افسر نے قیدی کی ترکیب پر عمل کیا اور پل کے نیچے سے دولت نکال لایا ۔ اب ان دونوں کی دوستی اور گہری ہوگئی۔

ایک رات افسر اپنے قیدی دوست کے لئے جیل خانے میں شراب لایا۔ دونوں نے بیٹھ کر شراب پی۔ جب افسر کو نشہ چڑھ گیا تو قیدی نے اس سے کہا، آج رات مجھے گھر جانے کی اجازت دیجئے ، سویرے تک میں لوٹ آؤں گا۔ آپ اپنے دل میں یہ خیال بالکل نہ لائیں کہ میں فرار ہونا چاہتا ہوں، اگر میں فرار ہوتا ہوں تو اس کا مطلب ہوگا کہ میں نے اپنے جرم کو قبول کر لیا اور میں بھاگوں کیوں؟ آج نہیں تو کل منصف مجھے رہا کر ہی دے گا کیونکہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔“

قیدی نے اتنے اعتماد سے یہ بات کہی کہ کوتوال پس و پیش میں پڑ گیا۔ قیدی کے فرار ہونے یا جیل خانے سے باہر جانے کی بات پھیل جاتی تو اس کی ملازمت کو خطرہ ہو سکتا ہے مگر قیدی پر اسے بھروسا ہو چکا تھا، اس لئے اس نے اسے اجازت دے دی۔

قیدی نے باہر جانے کے لئے دروازے کا استعمال نہیں کیا۔ وہ چھت پر سے کود کر قید خانے سے باہر چلا گیا۔ صبح ہونے سے پہلے وہ واپس بھی آگیا۔ اس نے خراٹے لے کر سو رہے افسر کو جگا کر کہا " لو میں آیا۔“

واہ ! تم بڑے شریف آدمی ہو ۔ تم نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ میں تم سے خوش ہوں۔ افسر نے خوش ہو کر کہا۔
آتا کیسے نہیں؟ میرے نہ لوٹنے سے آپ کی عزت خاک میں مل جاتی ۔ مجھے یہ گوارا نہ تھا۔ آپ نے جو احسان مجھ پر کیا ہے اسے میں زندگی بھر نہیں بھول سکوں گا۔ شکریے کے اظہار کے لئے میں آپ کے گھر میں، ایک چھوٹا سا تحفہ دے آیا ہوں ۔ آپ گھر جا کر تحفہ دیکھ آئیں۔ مجھے تو اب قید خانے سے جلد ہی رہائی مل جائے گی ۔ قیدی نے کہا۔

قید خانے کا افسر فورا گھر پہنچا۔ اس کی بیوی نے خوشی خوشی اسے خبر دی .... جانتے ہو آج کیا ہوا ؟ سویرا ہونے میں تھوڑی دیر باقی تھی کہ روشن دان میں سے ایک گٹھری اندر آگری۔ میں نے کھول کر دیکھا، اس میں سونے چاندی کی تھالیاں تھیں ۔“

افسر سمجھ گیا کہ قیدی اسی تحفے کا ذکر کر رہا تھا۔ اس نے بیوی کو ہدایت دی ۔ کسی سے اس بات کا ذکر نہ کرنا۔ ان تھالیوں کو چھپا کر رکھ دو۔ جب کچھ وقت گزر جائے گا تب ہم انہیں بیچ کر نقد روپے حاصل کر لیں گے ۔“

دوسرے دن عدالت میں کئی فریادی حاضر ہوئے ۔ سب کا کہنا یہی تھا کہ رات ان کے گھر میں سونے چاندی کا قیمتی سامان چوری ہو گیا ... سب کے گھر کی دیواروں پر لو میں آیا لکھا ہوا تھا..

منصف نے کوتوال سے کہا۔ ” وہ قیدی صحیح کہتا تھا ، وہ لو میں آیا نہیں ہے۔ وہ تو قید خانے میں ہے اور ”لو، میں آیا اب بھی دھڑلے سے چوریاں کر رہا ہے۔ اصلی چور کی تلاش کی جائے اور اس بے گناہ کو آزاد کر دیا جائے۔

قید خانے کا افسر اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ یہی اصلی چور ہے مگر وہ کسی سے اس حقیقت کا اظہار نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس نے چور سے نہ صرف پہلے بلکہ حالیہ چوری میں سے بھی حصہ حاصل کیا تھا ۔ قیدی آزاد کر دیا گیا۔

06/05/2026

آخری بس۔ ایک سنسنی خیز کہانی

کراچی سے حیدرآباد جانے والی رات کی آخری بس ہمیشہ کی طرح مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ گرمی کا موسم تھا، مگر رات کی ہوا میں ہلکی خنکی شامل ہو چکی تھی۔ بس کے اندر پنکھے چل رہے تھے، مگر پھر بھی پسینے اور ڈیزل کی ملی جلی بو ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔

وقاص کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا باہر اندھیرے میں گزرتی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پچیس سال کا نوجوان تھا اور ایک نجی کمپنی میں ملازم تھا۔ دو دن پہلے اسے اطلاع ملی تھی کہ اس کے والد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، اسی لیے وہ جلدی جلدی کراچی سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔

بس میں مختلف قسم کے لوگ بیٹھے تھے۔ کوئی موبائل پر بات کر رہا تھا، کوئی اونگھ رہا تھا، اور کچھ لوگ خاموشی سے سفر کر رہے تھے۔

وقاص کے برابر والی سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا۔ اس نے سادہ شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور بار بار بے چینی سے اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کالا بیگ تھا جسے وہ کسی قیمتی چیز کی طرح سنبھالے ہوئے تھا۔

کچھ دیر بعد بس ایک ہوٹل پر رکی۔

کنڈکٹر نے آواز لگائی، “پندرہ منٹ کا اسٹاپ ہے۔ چائے پانی کرلیں۔”

لوگ اترنے لگے۔ وقاص بھی چائے لینے باہر چلا گیا۔

ہوٹل کے باہر ہلکی روشنی تھی۔ چند ٹرک ڈرائیور چارپائیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ وقاص ابھی چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ اس کی نظر بس کے قریب کھڑے دو آدمیوں پر پڑی۔

دونوں دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے۔

“پکا یہی آدمی ہے؟”

“ہاں، کالا بیگ اسی کے پاس ہے۔”

وقاص نے بے اختیار ان کی طرف دیکھا، مگر دونوں فوراً خاموش ہو گئے۔

اسے عجیب سا احساس ہوا، مگر اس نے زیادہ توجہ نہ دی۔

پندرہ منٹ بعد بس دوبارہ روانہ ہو گئی۔

کچھ دیر بعد زیادہ تر مسافر سو چکے تھے۔ بس اب سنسان سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ باہر مکمل اندھیرا تھا۔

اچانک…

ڈرائیور نے زور سے بریک لگائی۔

بس جھٹکے سے رکی اور کئی مسافر گھبرا کر جاگ گئے۔

“کیا ہوا؟” کسی نے پوچھا۔

سامنے سڑک پر ایک سفید کار ترچھی کھڑی تھی۔

اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، تین مسلح آدمی بس میں داخل ہو گئے۔

“سب لوگ خاموش رہیں!” ایک ڈاکو چیخا۔

بس میں خوف پھیل گیا۔ عورتیں سہم گئیں۔ ایک بچہ رونے لگا۔

ڈاکو ایک ایک مسافر سے موبائل اور پیسے لینے لگے۔

وقاص کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

اسی دوران ایک ڈاکو کی نظر اس شخص پر پڑی جس کے پاس کالا بیگ تھا۔

وہ فوراً اس کے قریب گیا۔

“بیگ دے!”

آدمی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

“اس میں کچھ نہیں…”

“میں نے کہا بیگ دے!”

اس شخص نے بیگ مضبوطی سے پکڑ لیا۔

اچانک دوسرے ڈاکو نے پستول سیدھا اس کے سر پر تان دیا۔

بس میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

پھر…

دھماک!!!

گولی چل گئی۔

ایک عورت چیخ پڑی۔

وقاص کے کان سن ہونے لگے۔

جس آدمی کے ہاتھ میں بیگ تھا، وہ سیٹ سے نیچے گر چکا تھا۔

اس کے سینے سے خون بہہ رہا تھا۔

ڈاکو فوراً بیگ اٹھا کر نیچے اترنے لگے، مگر جاتے جاتے زخمی آدمی نے وقاص کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی۔

وہ بمشکل بولا:

“یہ… بیگ… واپس… مت جانے دینا…”

اور پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چابی نکال کر وقاص کے ہاتھ میں رکھ دی۔

اگلے ہی لمحے اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔

وہ مر چکا تھا۔

وقاص ابھی سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسے احساس ہوا…

ڈاکو بس سے جاتے ہوئے کالا بیگ تو لے گئے تھے۔

مگر وہ چھوٹی چابی… اب اس کے ہاتھ میں تھی۔

اور بس کے آخری حصے میں بیٹھا ایک اجنبی شخص مسلسل اسے گھور رہا تھا…
قسط ختم ۔ کہانی جاری ہے ۔۔۔۔
اگلا قسط کل اپلوڈ کی جائے گی ۔ اگر کسی نے پوری کہانی ابھی پڑھنی ہے تو کمنٹ میں لنک موجود ہے ۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Miami?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Downtown Miami
Miami, FL