Thoracic/Chest Surgeon Dr Muhammad Rashid

Thoracic/Chest Surgeon Dr Muhammad Rashid

Share

28/03/2024

*ایک سوداگر نے بازار میں گھومتے ہوئے ایک عمدہ نسل کا اونٹ دیکھا سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوئی* اور آخرکار سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔

گھر پہنچ کر سوداگر نے اپنے نوکر کو اونٹ کی زین اتارنے کے لئے بلایا نوکر کو زین کے نیچے ایک مخملی تھیلا ملا جسے کھولنے پر قیمتی ہیروں اور جواہرات سے بھرا ہوا پایا۔

نوکر چلا کر بولا
"آقا آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آیا؟"سوداگر بھی حیران ہوا، اس نے اپنے نوکر کے ہاتھ میں ہیرے دیکھے جو چمک رہے تھے اور سورج کی روشنی میں اور بھی زیادہ جھلملا رہے تھے۔

سوداگر نے کہا... "میں نے اونٹ خریدے ہیں، ہیرے نہیں، مجھے انہیں فوراً واپس کر دینا چاہئے۔"
نوکر دل میں سوچ رہا تھا کہ میرا آقا کتنا بیوقوف ہے...

بولا مالک کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا ہیرے رکھ لیں لیکن تاجر نے ایک نہ سنی اور وہ فوراً بازار پہنچا اور اونٹ والے کو تلاش کر اس کو مخمل کا تھیلا واپس کر دیا۔

اونٹ بیچنے والا بہت خوش ہوا، کہنے لگا میں بھول گیا تھا کہ میں نے اپنے قیمتی پتھروں کو زین کے نیچے چھپا رکھا ہے۔

اب آپ کسی ایک ہیرے کو بطور انعام منتخب کر سکتے ہیں سوداگر نے کہا کہ میں نے اونٹ کی صحیح قیمت ادا کر دی ہے اس لئے مجھے کسی شکریہ اور انعام کی ضرورت نہیں۔

سوداگر نے جتنا انکار کیا، اونٹ بیچنے والے نے اتنا ہی اصرار کیا۔

آخرکار تاجر مسکرایا اور کہا کہ حقیقت میں جب میں نے تھیلی واپس لانے کا فیصلہ کیا تو میں نے پہلے ہی دو قیمتی ہیرے اپنے پاس رکھ لئے تھے۔
اس اعتراف کے بعد اونٹ بیچنے والے کو غصہ آگیا، اس نے فوراً ہیرے اور جواہرات گننے کے لئے تھیلا خالی کردیا۔

لیکن اس نے بڑی الجھن میں کہا، "میرے سارے ہیرے یہاں ہیں، تو سب سے قیمتی دو کون سے تھے جو تم نے رکھ لئے؟"

*سوداگر نے کہا... "میری ایمانداری اور میری خُوداری"*☘️☘️

25/03/2024

ا‎یک دانا آدمی سے اس کے کچھ احباب نے پوچھا کہ؛
"زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟"۔

اس دانا آدمی نے کہا اس سوال کے جواب کے لئے آپ سب رات کا کھانا میرے ساتھ میرے گھر پر تناول فرمائیں، آپ سب کی دعوت بھی رہے گی، گپ شپ بھی اور سوال کا جواب بھی مل جل کر ڈھونڈ لیں گے۔

رات کے کھانے پر سب احباب دانا آدمی کے گھر کھانے کی دعوت پر پہنچ گے۔ گپ شپ کے بعد جب کھانے کے لئے بیٹھے تھے تو دیکھا کہ ایک ہی برتن میں کھانا رکھا ہے اور سب مہمانوں کو اس برتن کے گرد ایک ایک گز لمبے چمچ دے کر بٹھا دیا گیا اور کھانا شروع کرنے کی دعوت دی گئی۔ لیکن کوئی بھی شخص ایک گز لمبے چمچ سے کھانا کھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

تب دانا آدمی نے اپنے گز بھر لمبے چمچ میں برتن سے کھانا بھرا اور اپنے سامنے بیٹھے مہمان کو کھلا دیا۔ اب ہر شخص کو یک دم یہ طریقہ سمجھ آ گیا اور ہر کوئی اپنے گز بھر لمبے چمچ کی مدد سے اپنے سامنے بیٹھے مہمان کو کھانا کھلانے لگا، سب اس طریقے سے بہت خوش ہوئے اور سب نے پیٹ بھر کر کھانا بھی کھایا اور انجوائے بھی کیا۔

تب دانا آدمی نے کہا؛

"زندگی میں کامیابی اسی کے قدم چومتی ہے جو زندگی کے دسترخوان پر دوسروں کی مدد کرتا ہے، جیسے گز بھر لمبے چمچوں کی مدد سے ہم نے ایک دوسرے کو کھانا کھلایا اور انجوائے بھی کیا تو اسی طرح زندگی میں ہم سب کی خوشیاں اور کامیابیاں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ دوسروں کو ان کی خوشیاں اور کامیابیاں دیتے جائیں آپ کی خوشیاں اور کامیابیاں آپ کو ملتی جائیں گی۔"

ایک قدیم افریقن کہانی سے ماخوذ

20/03/2024

*ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘*

مسافر اکثر لوگوں سے پوچھتا رہتا ہے ” تم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاﺅ کیا تم اپنے والد سے بہتر زندگی گزار رہے ہو یا نہیں؟“ ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے‘ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج کل آٹھ دس ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔

آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں‘ آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ایدھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا‘ سارا محلہ ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا‘ لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے‘ ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا‘ بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے۔

لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے‘ دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا‘ سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی‘ مرغ صرف بیماری کی حالت میں پکایا جاتا تھا جب مرغا یا مرغے کا مالک بیمار پڑ جاتا، اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا‘ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا‘ ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا‘ بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔

سائیکل خوش حالی کی علامت تھا اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا‘ گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی‘ کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتے تھے‘ گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا‘ وہ آدھی رات تک ”اوئے بالے”کی آواز پر دوڑ کر ممٹی پر چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا۔

پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا‘ سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی‘ نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے“ تو وہ اس سے استرا یا تیل مانگ لیا کرتے تھے اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے۔

بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور یہ ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا‘ امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔

آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی‘ ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی‘ اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!۔آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے‘ آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا جب کہ ہم اگر صرف تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔

سوال یہ ہے کہ
اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ مسافر جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے‘ ناشکری‘ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اللہ
تعالٰی ہمارے حال پہ رحم فرمائے اور ہمیں اپنا شکر گذار بندہ بنائے۔
(Copied)

Want your practice to be the top-listed Clinic in Taif?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


Taif

Opening Hours

Monday 6pm - 9pm
Tuesday 6pm - 9pm
Wednesday 6pm - 9pm
Thursday 6pm - 9pm
Friday 6pm - 9pm
Saturday 6pm - 9pm