Dubai Properties
28/10/2024
یہ تصویر دبئی کے مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتی ہے، جہاں جدید ترین عمارتیں اور ٹرانسپورٹیشن سسٹم نظر آتے ہیں۔ اس تصویر میں بلند و بالا عمارتیں، جدید ترین ٹرینیں اور سڑکیں دکھائی دے رہی ہیں جو مستقبل کی ترقی اور ٹیکنالوجی کی عکاسی کرتی ہیں۔
د͟ب͟ئ͟ی͟ ͟ک͟ا͟ ͟م͟س͟ت͟ق͟ب͟ل͟:͟ ͟ا͟ی͟ک͟ ͟س͟و͟ ͟س͟ا͟ل͟ ͟ب͟ع͟د͟
دبئی، جو آج بھی دنیا کے سب سے جدید شہروں میں شمار ہوتا ہے، ایک سو سال بعد کیسا ہوگا؟ یہ سوال ہمیں اس تصویر کے ذریعے ایک جھلک دکھاتا ہے۔ دبئی کی بلند و بالا عمارتیں، جدید ترین ٹرانسپورٹیشن سسٹم اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہمیں حیران کر دیتی ہے۔
ک͟ل͟ی͟د͟ی͟ ͟ن͟ک͟ا͟ت͟:͟
بلند و بالا عمارتیں جو آسمان کو چھوتی ہیں
جدید ترین ٹرینیں اور سڑکیں
ٹیکنالوجی کی ترقی اور انوویشن
اتحاد ریل: متحدہ عرب امارات کا قومی ریلوے منصوبہ جو ملک کے اہم تجارتی مراکز کو جوڑتا ہے
ایئر ٹیکسیاں: دبئی میں 2026 سے شروع ہونے والی جدید ترین ہوائی ٹیکسیاں جو شہر کے مختلف مقامات کو جوڑیں گی
لوپ ٹرین: ہائپرلوپ ٹیکنالوجی جو دبئی اور ابو ظہبی کے درمیان سفر کو صرف 12 منٹ میں ممکن بنائے گی
سعودی عرب کا نیوم پروجیکٹ: ایک مستقبل کی شہر جو 100% قابل تجدید توانائی پر مبنی ہے اور سعودی عرب کی اقتصادی ترقی کا حصہ ہے
پاکستان کی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے، کیا ہم بھی اپنے ملک کو اس طرح کے مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں؟ یا ہم بینظیر انکم سپورٹ، احساس کفالت اور دیگر خیراتی پروگراموں میں ہی الجھے رہیں گے؟
پاکستان کی قیادت کی ناکامی اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر توجہ دینے کی وجہ سے ہم ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک بننے سے قاصر ہیں۔ ہمیں اپنے نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکنالوجی کی ترقی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم بھی دبئی کی طرح ایک جدید مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔
15/02/2024
نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو یہ بات ایکسیپٹ کرنا پڑے گی کہ وہ ایک شفاف اور فری اینڈ فیئر الیکشن کرانے میں ناکام ہوئے ہیں جن پر تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز مطمئن ہو سکیں۔ہمیشہ کی طرح ہر جماعت الیکشن میں دھاندلی کا رونا رو رہی ہے۔ مجھے بتائیں کہ ایسے الیکشن کا کیا فائدہ کہ جس سے یہ واضح ہی نہ ہو کہ عوام نے کس کو مسترد کیا ہے اور کس کا انتخاب کیا ہے؟ خیبر پختون خواہ سے لے کر پنجاب بلوچستان سندھ کراچی اسلام اباد, ہر جگہ الیکشن نتائج کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔ ہر جماعت یہ کہہ رہی ہے کہ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، اور یوں اس دھاندلی کی آڑ میں ہر جماعت اپنا فیس سیف کر رہی اور ہزیمت کو چھپا رہی ہے۔ عوام کا انتہائی قیمتی وقت، قومی وسائل اور اربوں روپے الیکشن میں جھونک دیے گئے مگر نتیجہ کیا نکلا ؟ فساد، مایوسی، نفرت، احتجاج، انتشار اور الزام تراشیاں ؟ وہ وقت کب آئے گا جب جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سو فیصد فیئر اور اتھینٹیک الیکشن کرائے جائیں جن کو کوئی جماعت اور انٹرنیشنل ایجنسیاں بھی چیلنج نہ کر سکیں ؟
ایسا صرف بائیو میٹرک بیسڈ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم سے ہی ممکن ہے۔ میں نے بہت پہلے لکھا تھا کہ جب تک فوج کے ساۓ میں روایتی مینوئل اور پیپر بیسڈ الیکشنز ہوتے رہیں گے، الیکشنز کبھی فیئر نہیں ہونگے اور الیکشنز کے بعد یہ رولا پڑتا رہے گا۔
اس کا واحد حل یہی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک ایسی ایپلیکیشن تیار کرے جو نادرہ کے ڈیٹا بیس کے ساتھ لنکڈ ہو اور بائیو میٹرک ویریفکیشن کے بعد ہر شخص موبائل ایپلیکیشن سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکے۔ اور یہ آج کے دور میں ممکن ہے۔ جب ہم ایک سِم اپنے نام پر ایشو کروا سکتے ہیں جب ہم اپنا بینک اکاؤنٹ اپنے موبائل سے ایپ کے ذریعے آپریٹ کر سکتے ہیں جب ہم کسی بھی موبائل ایپ میں لاگ ان کر کے اس کو یوز کر سکتے ہیں تو موبائل ایپ سے ووٹنگ کیوں کر ممکن نہیں ہے؟ نادرہ ڈیٹا بیس کے اندر ہر شخص کا ریکارڈ موجود ہے اور اس کو بائیو میٹرک کے ساتھ ویریفکیشن کرنے کے بعد موبائل ایپ کے ذریعے ووٹنگ ممکن ہو سکتی ہے. نادرہ نے پہلے ہی "پاک آئیڈنٹٹی" کے نام سے ایک ایپلیکیشن لانچ کی ہے جس کے تھرو گھر بیٹھے ہم اپنی فیملی رجسٹریشن، میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ یا اپنا پاسپورٹ رینیو کر سکتے ہیں بلکہ ابھی آنلائن آرمز لائیسنس کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ میں نے اپنا حالیہ پاسپورٹ آن لائن پاک ائیڈنٹٹی ایپ کے ذریعے ہی رینیو کروایا ہے اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی خود آنلاین بنایا ہے۔ اسی ایپ میں موڈی فیکیشن کر کے الیکٹرانک ووٹنگ کرائی جا سکتی ہے۔
سٹالک ہوم بیسڈ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹرول اسسٹنٹس کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں آٹھ ممالک ایسے ہیں جو پہلے ہی اپنے ووٹرز کو الیکٹرانک اور ڈیجیٹل بائیومیٹرک بیسڈ ووٹنگ کا رائٹ دے رہے ہیں۔ جن میں آسٹریلیا، کینیڈا، امریکہ کی کچھ ریاستیں اور یورپی ممالک شامل ہیں۔
آج کے دن، ایسٹونیا دنیا کا واحد ملک ہے جو سب سے سوفیٹیکٹڈ ڈیجیٹل ووٹنگ ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہا ہے اور جہاں کوئی بھی شہری اپنی قومی پارلیمنٹ (ریگیکوگو)، مقامی حکومتی کونسلوں، یا یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے انتخابات کے دوران ریموٹ الیکٹرانک ووٹ ڈال سکتا ہے۔
بالٹک ریاست، جو 2005 میں آن لائن ووٹنگ کی علمبردار بنی، اب انٹرنیٹ ووٹنگ ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ایک معیاری بنچ مارک ہے، اور ان کے شہری تیزی سے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 2019 کے ریگیکوگو انتخابات کے دوران، مثال کے طور پر، 247,232 ووٹرز نے آن لائن بیلٹ کاسٹ کیا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئی ٹی اور ڈیٹا ایکسپرٹس کے ساتھ بیٹھ کر الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم اور ووٹنگ ایپلیکیشن پر کام کرنا چاہیے تاکہ آئیندہ الیکشن میں دھاندلی کے الزامات سے بچا جاسکے اور سو فیصد فیئر الیکشن کا انعقاد ممکن ہو سکے ۔
تحریر مسعود باجوہ
13/02/2024
حامد میر صاحب
ریحانہ ڈار سے کل عدالت نے پوچھا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ آپ جیت گئے ہیں تمام پولنگ اسٹیشن کے اوریجنل فارم 45 دیکھائے ریحانہ ڈار کے وکیل نے عدالت میں ARY کا وہ سکرین شاٹ بطور ثبوت دیکھایا جہاں ARY نے عثمان ڈار اور عمر ڈار کے واٹس ایپ میسج کے بعد ان کی جعلی لیڈ دیکھائی تھی عمر ڈار اور عثمان ڈار نے الیکشن کی رات اپ کو بھی ایسے جعلی فارم 45 واٹس ایپ کیے تھے جس کو ڈبل چیک کیے بغیر آپ نے بھی جیو نیوز کے الیکشن سیل میں بیٹھ کر ریحانہ ڈار کی کامیابی کا اعلان کیا تھا۔ حامد میر صاحب جب PTI کے امیدوار آپ کو جعلی فارم 45 واٹس ایپ پر بھیجتے تھے تو آپ جیو نیوز کے الیکشن سیل میں بیٹھ کر اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے تھے الیکشن کمیشن والو نتائج کیوں نہیں دیتے اگر نتائج نہیں دینگے تو میں دونگا میرے پاس نتائج موجود ہیں حلانکہ آپ کے پاس جعلی نتائج موجود تھے آپ کے پاس واٹس ایپ کے زریعے PTI کے امیدوار جو نتائج بھیجتے تھے ان میں سے 90% نتائج جعلی اور فوٹوشاپ تھے آپ انہیں ڈبل چیک کیے بغیر نیشنل ٹیلی ویژن میں اعلان کرتے تھے کہ سیالکوٹ سے ریحانہ ڈار کو برتری حاصل ہے اسلام آباد کے تینوں سیٹوں پر PTI کو برتری حاصل ہے جب مکمل رزلٹ آئے تو ریحانہ ڈار کو بھی شکست ہوئی اسلام آباد کے تینوں سیٹوں سے بھی PTI کو شکست ہوئی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Culinary Team
Attire
Contact the public figure
Website
Address
Riyadh
12231