GULF TIMES

GULF TIMES

Share

Photos from GULF TIMES's post 27/03/2026

یاسر علی چناران بندیش کی وال سے کاپی شدہ۔۔۔ Yasar Ali
یہ تصویر میرے پیارے والد صاحب (آمیر نواز خان) کی ہے، جو تقریباً 30 سال قبل ہم سے جدا ہو گئے۔ ان کی جدائی کے بعد ہی میرا اس دنیا میں آنا ہوا، یوں میری زندگی کا آغاز ہی ایک ایسی کمی کے ساتھ ہوا جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔
میرے والد صاحب کوئی عام، ناخواندہ یا کمزور انسان نہیں تھے، بلکہ ایک بہادر، نڈر اور باہمت نوجوان تھے جنھوں نے 1989-90 میں دیر ڈگری کالج سے ایف اے کی تعلیم بھی حاصل کی تھی جو کہ ان کی شخصیت کی مضبوطی، عزم اور ہمت کی گواہی دیتی ہیں۔
آج جب اس کی ایک پرانی تصویر دیکھی تو دل میں ایک انجانی سی کیفیت جاگ اٹھی۔۔۔ اس تصویر کو AI کے ذریعے صاف کیا اور بہتر بنایا، تاکہ ان کی ایک جھلک کو قدرے واضح انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔ اس عمل کے دوران ان کے بارے میں دل کی گہرائیوں سے کئی احساسات ابھر آئے، جنہیں لفظوں میں سمیٹنا آسان نہ تھا، مگر پھر بھی دل نے چاہا کہ انہیں ٹوٹے پھوٹے انداز میں تحریر کر دوں۔

میں نے کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھا، نہ ان کی آواز سنی، نہ ان کی شفقت کو اپنے قریب محسوس کیا۔۔۔! مگر اس کے باوجود دل کے کسی نہ کسی گوشے میں ان کے لیے محبت آج بھی اسی طرح زندہ ہے۔
جب بھی اپنے والد کے دوستوں یا ساتھیوں کو دیکھتا ہوں تو والد صاحب یاد آ جاتے ہیں، اور جب وہ میرے والد کی یادوں اور قصوں کو سناتے ہیں تو دل بھر سا جاتا ہے، ان کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، اور دل کے اندر ایک نرم سی خواہش جنم لیتی ہے کہ کاش میں بھی اپنے والد کو دیکھ سکوں، ان کے قریب بیٹھ سکوں، اور انہیں "ابا" کہہ کر پکار سکوں۔
وقت گزرتا رہا، زندگی اپنے رنگ بدلتی رہی، مگر یہ کمی آج تک پوری نہ ہو سکی۔۔۔ یہ انتظار، یہ محبت، یہ ادھورا پن آج بھی ویسا ہی ہے جیسے پہلے دن تھا۔
ایک بیٹا آج بھی اپنے اُس والد کا منتظر ہے جسے اس نے کبھی نہیں دیکھا، مگر دل کی گہرائیوں سے ہمیشہ محسوس کیا ہے۔
میری بوڑھی دادی جان تقریباً پچیس سال اسی آس میں زندہ رہیں کہ کہیں سے کوئی پروانہ آئے گا اور وہ اپنے بیٹے کو ایک نظر دیکھ سکیں گی۔ وہ اس انتظار میں تڑپتی رہیں، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور وہ اس دنیا سے اپنے بیٹے کی ایک جھلک دیکھے بغیر ہی رخصت ہو گئیں۔
اسی درد اور اسی انتظار کی کیفیت آج تک میری بہادر ماں کے دل میں زندہ ہے۔ وہ بھی آج تک اسی امید پر جی رہی ہے کہ شاید کہیں سے کوئی خبر آئے، کوئی پروانہ پہنچے، اور وہ اپنے ہمسفر کو ایک نظر دیکھ سکے۔ ہم سب بھی اسی انتظار میں دن، ہفتے، مہینے اور سال گزار رہے ہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے، اور اسی کے فیصلے میں ہی ہماری بھلائی اور حکمت پوشیدہ ہے۔
آخر میں اللّٰہ تعالیٰ سے بس یہی دعا کروں گا۔۔۔
یا اللہ! میرے والد صاحب کو جہاں بھی رکھا ہو، اپنی حفاظت، رحمت اور امان میں رکھ، اور اگر ممکن ہو تو ایک دن ہمیں ملا دے، تاکہ یہ ادھوری سی کہانی مکمل ہو سکے۔
اور اگر وہ اس فانی دنیا سے چلے گئے ہوں تو انہیں اپنی بے پایاں رحمتوں کے سائے میں اعلیٰ مقام عطا فرما، ان کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما، انہیں جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرما اور ہمیں صبرِ جمیل عطا فرما اور اسی طرح ان کی یادوں کو ہمارے دلوں میں محبت اور احترام کے ساتھ ہمیشہ زندہ رکھ۔ آمین🤲😭💔🥰

21/03/2026

عید الفطر کے خوشیوں بھرے دن ایک دل دہلا دینے والی خبر…
فوجی سمیع الدین نے اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ 🇵🇰

یہ قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری عید کی خوشیاں ان بہادر سپاہیوں کی مرہونِ منت ہیں جو سرحدوں پر جاگتے ہیں۔
سمیع الدین جیسے بہادر جوان قوم کا فخر ہیں، جنہوں نے اپنی جان دے کر وطن کی حفاظت کو یقینی بنایا۔

اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین 🤲

ہم سب کی طرف سے شہید کو سلام اور خراجِ عقیدت
“یہ مٹی بڑی زرخیز ہے، ہر قطرہ لہو سے وطن بن

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Mecca?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Mecca