VOP
کہ یہ بہت بے ضمیر اور بے غیرت لوگ ہیں۔ پنجاب نے آٹے پر پابندی لگا دی تھی، پھر سندھ کے وزیرِاعلیٰ نے بات کی مگر پنجاب راستہ نہیں دے رہا تھا کہ گندم ہمارے پنجاب سے نہ لاؤ۔ پھر وہ بلوچستان کے راستے لائے۔ جب گاڑیاں بھر گئیں اور بلوچستان سے خیبرپختونخوا کی طرف روانہ ہوئیں تو وفاقی حکومت نے راستے میں وفاقی ادارے کھڑے کر دیے جیسے فوج، رینجر، کانسٹیبلری، ایکسائز اور کسٹم۔ ان لوگوں نے گاڑیاں واپس کر دیں کہ اجازت نہیں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ پشتونوں کو پاکستان کی فوج ہر راستے اور ہر طریقے سے دبا رہی ہے۔ آرمی چیف جب امریکہ جاتا ہے تو کہتا ہے دہشت گرد ماروں گا، ڈالر دو۔ کبھی برطانیہ جاتا ہے، کبھی سعودی عرب جاتا ہے کہ آپریشن کروں گا، تیل دو۔ وہ سندھی کہہ رہا تھا کہ پشتونوں کے پاس پانی ہے، بجلی ہے، گیس ہے اور ہزاروں معدنیات ہیں۔ اگر خیبرپختونخوا ایک گھنٹے کے لیے بھی پاکستان بند کر دے تو شہباز شریف اور فوج کی چیخیں نکل جائیں، مگر پشتون بے غیرت بنے ہوئے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔
اسی طرح افغانستان کو بھی تنگ کیا جاتا رہا، مگر جب افغانستان نے فیصلہ کیا اور راستہ بند کر دیا تو اب پاکستان پریشان پھر رہا ہے، کبھی ایک جرگہ کرتا ہے کبھی دوسرا۔ افغانستان نے پاکستان کو سخت جواب دیا اور اس کی کمر توڑ دی۔ بلوچ نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لیے، اب پاکستان ہر روز پیغام بھیجتا ہے اور منتیں کرتا ہے، مگر بلوچ رہنما جو بیرونِ ملک ہیں وہ کہتے ہیں کہ مذاکرات کریں گے مگر پہلے بلوچستان سے اپنی فوج نکالو۔
اب آدمی کیا کہے؟ پھر تبلیغی لوگوں کی طرح یہی کہیں گے کہ اللہ رحم کرے، اور اگر رحم نہ کرے تو اللہ سب پشتونوں کو ہلاک کرے۔
ذمہ دار خود پشتون قوم بھی ہے،
کیونکہ پشتون قوم نااتفاقی کا شکار ہے۔
پشتون ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتے۔
قوم میں حسد، خود غرضی، لالچ اور قبائلی تقسیم بڑھ چکی ہے۔
آج پشتون قوم میں اجتماعی اور سیاسی شعور کمزور ہوچکا ہے۔
سود عام ہوچکا ہے، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کا قتل کیا جاتا ہے۔
پشتون قوم اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سے خراب امن و امان کے بارے میں سوال نہیں کرتی، کیونکہ اکثر لوگوں کو صرف ذاتی مفادات عزیز ہیں۔
جب تک پوری پشتون قوم اس ظلم کے خلاف متحد نہیں ہوگی، تب تک قوم اسی طرح ذلیل و خوار ہوتی رہے گی۔
پوری پشتون نوجوان نسل، مختلف مکاتبِ فکر، سول سوسائٹی، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سے گزارش ہے کہ پشتونخوا میں جاری ظلم اور خراب امن و امان کے خلاف بغیر کسی لالچ کے، متحد ہوکر پُرامن احتجاج شروع کریں۔
جو لوگ یا ادارے پشتونخوا کے امن کو خراب کررہے ہیں یا خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ان کے نام قوم کے سامنے لائے جائیں، چاہے وہ لوگ پشتون قوم کے اندر سے ہوں یا باہر سے۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر موجود غداروں اور قوم فروش عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا۔
゚
18/05/2026
تحصیل غزنی خیل لکیمروت
نا معلوم افراد کی طرف سے کوٹکہ نذر شاہ ڈگر کلی غزنی خیل کے ساتھ روڈ پر پل کے نیچے نصب کیا گیا بارودی مواد کا دھماکہ ، جانی نقصان کا خدشہ ، پولیس زرائع ،، دھماکے سے پورا علاقہ لرز اٹھا ، پولیس زرائع دوسری طرف زرائع کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات خیروخیل پکہ سڑک پر ڈگر کلی کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دھماکے کی اطلاعات ہیں، دھماکے کے بعد شدید فائرنگ بھی ہوئی ہے، نقصان کا اندازہ تاحال نہیں ہوا ہے، سیکورٹی ذرائع
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Al-Rawda