Words Bubble
29/04/2026
*ایسی لڑکیاں جن کا نکاح ہو چکا ہو اور ان کے والدین مہنگائی کی وجہ ابھی رخصتی نہیں کر سکے، وہ یہ فارم فل کر کے اپنے ضلع زکوۃ دفتر میں جمع کروائیں اور گورنمنٹ کی طرف سے 10 سے 12 دنوں میں اہل ہونے پر دو لاکھ کا چیک مل جائے گا اور اپنی ضروریات کا سامان لے سکے گے.۔CP
شیئر کیجئے پلیز
30/12/2025
روس 🇷🇺 کا شرحِ پیدائش بڑھانے کا ایک انوکھا اور چونکا دینے والا طریقہ کار
جاپان اور مغربی یورپ کے کئی ممالک کی طرح روس بھی آج کل آبادی میں خطرناک حد تک کمی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ شرحِ پیدائش مسلسل نیچے جا رہی ہے، نوجوان آبادی سکڑ رہی ہے اور مستقبل کا سماجی و معاشی ڈھانچہ شدید دباؤ میں ہے۔ اس پر مستزاد یوکرین کے ساتھ حالیہ جنگ نے روسی آبادی کو ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
اسی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر روسی حکومت عرصے سے مختلف حکمتِ عملیاں آزما رہی ہے۔ زیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو سرکاری خزانے سے وظائف دینا، مالی مراعات، سہولیات اور مراعاتی پیکجز اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مگر ان تمام کوششوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے، جس کے بعد اب حکومت ایسے طریقوں پر غور کر رہی ہے جو بظاہر غیر معمولی بلکہ کچھ لوگوں کے نزدیک مضحکہ خیز بھی لگ سکتے ہیں۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق روسی حکومت ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ملک کے بعض حصوں میں رات دس بجے سے صبح دو بجے تک بجلی اور انٹرنیٹ کی فراہمی معطل کر دی جائے۔ مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ لوگ انٹرنیٹ، موبائل فون اور ٹیلی ویژن جیسی مصروفیات سے ہٹ کر ایک دوسرے پر توجہ دیں، گھریلو زندگی کو وقت دیں اور وہ سرگرمیاں اختیار کریں جو فطری طور پر خاندانی نظام کے فروغ کا سبب بنتی ہیں۔
اس اسکیم کا ایک دلچسپ اور قدرے طنزیہ پہلو بھی ہے۔ روس دنیا کے سرد ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور ان اوقات میں بجلی کی بندش کا مطلب یہ ہوگا کہ ہیٹنگ سسٹمز بھی کام نہیں کریں گے۔ شدید سردی میں، جب گھروں کے اندر درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہو جائے، تو لوگوں کے پاس گرم رہنے کے لیے محدود ہی راستے بچتے ہیں… اگر آپ میری بات سمجھ رہے ہوں۔
اگرچہ یہ منصوبہ تاحال صرف زیرِ غور ہے اور عملی طور پر نافذ نہیں کیا گیا، لیکن اس کا سامنے آنا ہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ روس آبادی میں کمی کے مسئلے کو کس قدر سنجیدہ اور خطرناک بحران سمجھ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے ریاست ہر ممکن راستہ آزمانے پر آمادہ نظر آتی ہے، چاہے وہ راستہ دنیا کو کتنا ہی عجیب، غیر روایتی یا مضحکہ خیز کیوں نہ محسوس ہو۔
یہ کہانی دراصل ایک ملک کی آبادیاتی بے چینی، مستقبل کے خوف اور وجودی جدوجہد کی عکاس ہے—جہاں سوال صرف بجلی اور انٹرنیٹ کا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے وجود کا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Doha