Sadiq jamali
A few words about the life of the Holy Prophet (PBUH), at Middle School Ali Abad jamali.
28/06/2021
قرداد پاکستان
تحریر کردہ:صادق علی جمالی۔
قائداعظم محمد علی جناح 21 مارچ 1940 کو فیئر میل سے لاہور پہنچتے ہیں۔ممدوٹ ولا میں قیام کرتے ہیں۔
22 مارچ مسلم لیگ کے ستائیسواں اجلاس اقبال پارک میں بعد نماز جمعہ شروع ہوتا ہے اسٹیج موجودہ مینار پاکستان کی جگہ حاجی الف دین کے بدست بنایا جاتا ہے۔اسٹیج میں بینرز پر اقبال کا لکھا ہوا شعر۔
جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید رہتے ہیں۔
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔
استقبالیہ کمیٹی کے صدر نواب شاہ نواز ممدوٹ تھے
اجلاس کےلیے سب سے زیادہ تعاون نواب کالا باغ کرتے ہیں۔اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے حافظ محمد یعقوب حضروی کرتے ہیں۔میاں بشیر احمد نظم" ملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح "گاتے ہیں۔ جلسہ گاہ میں موجود لوگوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔نواب بہادر یار جنگ دو دفعہ اسپیچ کرتے ہیں۔جلسہ کے صدر محمد علی جناح تھے اپنے خطبہ صدارت میں برصغیر کے گذشتہ حالات کے ذکر کے بعد کہتے ہیں۔مسلمان ایک اقلیت نہیں ہر لحاظ سے ایک قوم ہیں۔ہندو مسلم اتحاد ناممکن اور ناقابل عمل ہے۔ایک ہزارسال کے قریبی رابطے کے باوجود جو قومیں پہلے کی طرح علیحدہ اور منفرد ہیں ان کو غیر فطری اور مصنوعی برطانوی حکومت کی زنجیروں میں جکڑ کر ایک قوم نہیں بنایا جاسکتا۔برصغیر کا مسئلہ فرقہ ورانہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے۔اگر برطانوی حکومت برصغیر میں حقیقی امن قائم کرنا چاہتی ہے تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ برصغیر کی اکثریتی اقوام کو علیحدہ علیحدہ خود مختار ریاستیں دیدی جائیں مسلم ہندوستان کسی ایسے دستور کو تسلیم نہیں کرسکتا جس کے نتیجے میں ہندو اکثریت کی حکومت قائم عمل میں آجائے" ہندومت اور اسلام دو مختلف نظام ہیں۔ ہندووں اور مسلمانوں کا ایک قوم بننا محض ایک خواب ہے۔مسلمان ایک قوم ہیں اور ملک کے بعض علاقوں میں واضح اکثریت رکھتے ہیں۔ دو ایسی قوموں کو ایک ریاست میں باندھ دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ نظام کی تباہی و بربادی ہوگی۔اس موقع پر قائداعظم نے کانگریسی لیڈر آر داس کے نام پنجاب کے لالہ جیت رائے کا ایک خط بھی پڑھا۔ آخر میں آپ نے کہا دوستو میں چاہتا ہوں کہ ہم قطعی فیصلہ کرلیں عام مسلمان بالکل بیدار ہیں وہ صرف تمہاری راہنمائی اور قیادت چاہتے ہیں مجھے یقین ہے کہ تم وہ طاقت ہوگے جسے ہر شخص تسلیم کرے گا۔
پھر اگلے روز 23 مارچ کو قائداعظم دوبارہ50 :3 منٹ پر پنڈال میں داخل ہوتا ہے۔بنگال کے وزیر اعلی مولوی فضل الحق قراد داد لاہور پیش کرتے ہیں۔
اس قراداد کے متن میں پہلے دو پیرے تمہیدی اور رسمی تھی۔اس قرارداد کا متن انگریزی میں تھا۔
اردو ترجمہ" آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس ملک میں کوئی دستوری خاکہ اس وقت تک مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا جب تک ان اصولوں کو مرتب نہ کیا جائے وہ یہ کہ جغرافیائی لحاظ سے متصل علاقے الگ خطے بنا دیئے جائیں اور ان میں جو علاقائی ترمیمیں سمجھی جائیں وہ کرلی جائیں تاکہ برصغیر کے شمال مغرب اور شمال مشرق میں جن علاقوں کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہے وہ یکجا ہوکر آزاد ریاستیں بن جائیں جن میں سے ہر اکائی خود مختار ہو" برصغیر کے دیگر علاقوں میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں دستور میں ان کے لیے مذہب، ثقافتی،اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا خود ان کے مشورے سے تحفظ مہیا ہونا چاہیے۔
قراداد کے پیش کیے جانے کے بعد سب سے پہلے تائید چوہدری خلیق الزمان نے کی اس کے بعد تائید مولانا ظفر علی خان نے پنجاب سے کی، سردار اورنگزیب خان نے سرحد سے، عبداللہ ہارون نے سندھ سے، قاضی محمد عیسی نے بلوچستان سے کی، خواتین میں سے تائید بیگم مولانا محمد علی جوھر نے کی۔ اس قراداد کو قراداد پاکستان کا نام انڈین اخبار اور ریڈیو نے دیا۔اس قراداد کی منظوری کے بعد قائداعظم نے اپنے سیکریٹری مطلوب الحسن سید سے کہا" کہ آج اگر اقبال زندہ ہوتے تو وہ خوش ہوتے کہ ہم نے ان کی خواہش پوری کردی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Jamali Street Usta Muhammad
Usta Muhammad