SWAT TIMES

SWAT TIMES

Share

12/02/2025

گجر قوم کے لیے خوشخبری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں گوجری زبان کو سرکاری طور پر نصاب میں شامل کرلیا گیا ۔
خیرپختونخوا اسمبلی میں بل پاس ہو گیا ۔
یہ بل سردار محمد یوسف ( صدر مسلم لیگ ن کی پی کے) نے پیش کیا جسے بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا گیا ہے ۔
یقینی طور پر 1857ء کے بعد یہ گجر قوم کی تاریخ میں ایک سنہرا موڑ ہے ۔ 1857ء سے قبل گوجری زبان برصغیر کی سب سے بڑی زبان تھی ۔
لیکن 1857ء میں گجر قوم کی انگریزوں کے خلاف بغاوت اور جنگ کے نتیجہ میں ایسا وقت آیا کہ لوگ گجر کہلانے اور گوجری زبان بولنے سے کترانے لگے کیونکہ یہ گجرقوم پر تاریخ کا سب سے زیادہ مشکل ترین دور تھا ۔ انگریزوں نے ایکٹ 1870ء اور 1872ء کے تحت خاص طور پر گجر قوم کو انتقامی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس ایکٹ کے تحت گجرقوم کو کرمنل قراردیا گیا ۔ ان کی جاگیریں چھینی گئیں ، ان پر ملازمت اور کاروبار ، تجارت و زراعت پر پاندیاں عائد کر دی گئیں اور زمینوں کے مالکانہ حقوق بھی چھین لیے گئے ۔ یہ قوانین ہر اس انسان پر لاگو ہوتے تھے جو گجر کہلاتا تھا ۔
اس کے چند بڑے برے نتائج جو سامنے آئے وہ یہ تھے :
1۔ گجر قوم کی ایک بڑی تعداد نے گجر کہلانا چھوڑ دیا اور اپنی زمینیں اور اپنی جائیدادیں ، روزگار یا کاروبار بچانے کے لیے گجر کی بجائے کوئی دوسرا ٹائٹل اختیار کیا ۔ اس طرح گجر قوم میں ایک بڑی تحلیل کے ذریعے گجر قوم کا ایک بڑا حصہ کٹ کر قوم سے الگ ہو گیا ۔
2۔ گجر قوم کی بڑی تعداد نے گوجری بولنا چھوڑ دیا ۔ کیونکہ گوجری زبان ہی ان کی اصل شناخت تھی اور انتقامی ہتھکنڈوں اور جبری قوانین سے بچنے کے لیے لوگوں نے اس شناخت کو چھوڑ دیا اور اس طرح گوجری زبان بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد گوجری زبان سے الگ ہو گئی۔ اور اس کے نتیجے میں اردو اور ہندی زبانیں برصغیر کی سب سے بڑی زبانیں بن گئیں ۔ جبکہ اس سے قبل گوجری زبان ہی برصغیر کی سب سے بڑی زبان تھی ۔ خاص طور پر تیرہویں صدی عیسوی تک تو یہ برصغیر کی اکثر ریاستوں میں سرکاری زبان رہی لیکن اس کے بعد بھی مغلیہ دور تک گوجری زبان بولنے والوں کو اتنی اکثریت حاصل تھی کہ بادشاہ اکبر کے دربار میں اس پر بحث ہوئی کہ گوجری زبان سرکاری زبان ہو کہ فارسی ۔۔۔۔ چونکہ مغلوں کے حواری زیادہ تر فارسی تھے اس لی فارسی زبان کو مغلیہ حکومت میں سرکاری زبان قرار دیا گیا ۔ لیکن اس کے باوجود بھی گوجری زبان کا اتنا اثر رسوخ تھا کہ ترک اور فارسی بولنے والے بھی اسے بولنے پر مجبور تھے ۔ اسی اشتراک سے پھر اردو زبان وجود میں آئی جس مین اسٹریکچر اور ذخیرہ الفاظ بھی گوجری زبان پر مشتمل ہے ۔ جبکہ دوسری طرف ہندو طبقہ میں سنسکرت کی ملاوٹ سے گوجری زبان نے ہندی زبان کی شکل اختیار کی۔

Want your business to be the top-listed Photography Service in Swat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Swat