Legal Point
پریزن (جیل) رولز کے مطابق، اگر کسی قیدی کا کوئی قریبی عزیز (Blood Relative) فوت ہو جائے، تو اسے درج ذیل شرائط اور طریقے کے تحت جنازے میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے:
1. پیرول پر عارضی رہائی (Release on Parole)
قانون کے تحت صوبائی حکومت یا ہوم ڈیپارٹمنٹ (Home Department) کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار (والدین، بہن بھائی، بیوی یا بچے) کے جنازے میں شرکت کے لیے عارضی طور پر (چند گھنٹوں سے لے کر ایک یا دو دن تک) رہا کر سکے۔
2. ضلعی انتظامیہ کا کردار (Role of Deputy Commissioner)
عام طور پر، قیدی کے ورثاء کو متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر (DC) یا ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست دینی ہوتی ہے۔
• درخواست کے ساتھ فوتگی کا ثبوت (ڈیتھ سرٹیفکیٹ یا ہسپتال کی رپورٹ) منسلک کرنا لازمی ہے۔
• انتظامیہ سیکیورٹی کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد پیرول کی منظوری دیتی ہے۔
3. پولیس سیکیورٹی اور حراست (Police Es**rt)
قیدی کو مکمل طور پر آزاد نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے پولیس کی سخت نگرانی (Police Custody) میں جنازے کے مقام تک لے جایا جاتا ہے۔
• قیدی کو ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے (سیکیورٹی رسک کو مدنظر رکھتے ہوئے)۔
• جنازہ پڑھنے یا آخری دیدار کرنے کے فوراً بعد پولیس اسے واپس جیل منتقل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
4. زیرِ سماعت ملزم اور سزا یافتہ قیدی (UTP vs Convicted)
• زیرِ سماعت ملزم (Under-trial Prisoner): اگر ملزم کا کیس عدالت میں چل رہا ہے، تو اس کا وکیل متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج یا جوڈیشل مجسٹریٹ) میں فوری درخواست دے سکتا ہے۔ جج صاحب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پولیس کو حکم دیتے ہیں کہ ملزم کو جنازے میں شرکت کروائی جائے۔
• سزا یافتہ قیدی (Convicted): سزا یافتہ قیدی کے لیے جیل انتظامیہ اور صوبائی حکومت (Home Department) سے رجوع کیا جاتا ہے۔
5. دہشت گردی یا سنگین جرائم کے مقدمات
اگر قیدی انتہائی خطرناک ہو یا اس پر دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات ہوں، تو انتظامیہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیرول کی درخواست مسترد بھی کر سکتی ہے، یا پھر انتہائی سخت سیکیورٹی میں صرف چند منٹوں کے لیے جنازہ گاہ لے جانے کی اجازت دیتی ہے۔
خلاصہ (Summary in Points)
• قانون: پاکستان پریزن رولز (پیرول سیکشن)۔
• درخواست: ڈپٹی کمشنر یا ٹرائل کورٹ کو دی جاتی ہے۔
• حق: یہ قیدی کا قطعی حق نہیں بلکہ انتظامیہ کی صوابدید ہے، لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عدالتیں اور حکومتیں عموماً اجازت دے دیتی ہیں۔
• واپسی: جنازے کے فوراً بعد یا مقررہ وقت (مثلاً 12 یا 24 گھنٹے) کے اندر واپسی لازمی ہوتی ہے۔
اگر ایسی صورتحال درپیش ہو، تو سب سے تیز طریقہ متعلقہ عدالت سے "رٹ" یا "درخواست برائے جنازہ" کے ذریعے آرڈر حاصل کرنا ہے، کیونکہ عدالتی حکم پر جیل انتظامیہ فوری عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
قیدی کے قریبی رشتہ دار کی وفات پر جنازے میں شرکت یا عارضی رہائی (پیرول) کے حوالے سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے متعدد بار انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کو ترجیح دی ہے۔
ذیل میں اس موضوع پر اہم عدالتی نظائر (Case Laws) درج ہیں جنہیں آپ قانونی حوالہ جات کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں:
1. 2021 SCMR 342 (سپریم کورٹ آف پاکستان)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے پیرول کے تصور کو واضح کیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ پیرول کا مقصد قیدی کو سماجی اور خاندانی بحران (جیسے موت یا شدید بیماری) کے وقت اپنوں کے ساتھ شامل ہونے کا موقع دینا ہے۔
• حکم: اگر کسی قیدی کا قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لکیر کی فقیری چھوڑ کر انسانی بنیادوں پر فیصلہ کرے اور قیدی کو آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دے۔
2. PLD 2017 Lahore 712 (لاہور ہائی کورٹ)
یہ ایک انتہائی اہم کیس لا ہے جس میں عدالت نے قیدی کی عارضی رہائی پر زور دیا:
• اصول: عدالت نے قرار دیا کہ کسی قیدی کو اس کے والدین یا اولاد کے جنازے سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 (انسانی وقار) کی خلاف ورزی ہے۔
• رہنمائی: اگر ہوم ڈیپارٹمنٹ پیرول کی اجازت دینے میں تاخیر کرے تو متعلقہ سیشن جج یا ہائی کورٹ مداخلت کر کے فوری حکم جاری کر سکتی ہے۔
3. 2019 P Cr. L J 455 (سندھ ہائی کورٹ)
اس فیصلے میں "خون کے رشتے" کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا:
• اصول: عدالت نے واضح کیا کہ قیدی کو صرف اس لیے جنازے سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ سنگین جرم میں ملوث ہے۔ اگر پولیس سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے تو اسے ہتھکڑی لگا کر بھی جنازے میں لے جانا ریاست کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
• نتیجہ: ملزم کو اس کے باپ کے جنازے میں شرکت کے لیے 12 گھنٹے کا پیرول دیا گیا۔
4. 2015 MLD 128 (لاہور ہائی کورٹ)
• اصول: اس کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ پیرول پر رہائی صرف حکومت کا اختیار نہیں بلکہ یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں بھی آتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ سمجھے کہ ملزم کے فرار ہونے کا خطرہ نہیں ہے تو وہ پولیس اسکواڈ کی نگرانی میں جنازے میں شرکت کی اجازت دے سکتی ہے۔
قانونی نچوڑ (Legal Gist for Copying)
اگر آپ کو کسی کیس میں یہ حوالہ جات دینے ہوں تو آپ اس طرح تحریر کر سکتے ہیں:
"اعلیٰ عدالتوں کے طے شدہ اصولوں (2021 SCMR 342 اور PLD 2017 Lahore 712) کے مطابق، کسی قیدی کو اس کے قریبی رشتہ دار کے جنازے میں شرکت سے محروم کرنا آئینِ پاکستان کے تحت دیے گئے انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ قانون قیدی کو پیرول پر رہا کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی سماجی اور مذہبی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔"
وفات کی صورت میں وقت بہت کم ہوتا ہے۔ ایسے میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے بجائے متعلقہ ٹرائل کورٹ (سیشن جج) میں "فوری درخواست برائے جنازہ" دائر کرنا سب سے موثر طریقہ ہے، کیونکہ عدالتیں ایسے معاملات میں اسی وقت (حتیٰ کہ چھٹی والے دن بھی) آرڈر جاری کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
24/01/2026
*متنازع ٹویٹس کیس، عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی*
ہم پر تشدد کیاجارہاہے، ہمیں پانی کھانا نہیں دیاجارہا،ایمان مزاری کا عدالت میں بیان
اسلام آباد کی عدالت نے ایمان مزاری کو شوہر سمیت متنازعہ ٹویٹ کیس میں مجموعی طور پر سترہ سترہ سال قید اور تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی،
عدالت نے قرار دیا ہے کہ دونوں مجرمان نے اپنے ٹویٹس کے ذریعے ریاست اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی,
پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت دونوں کو پانچ پانچ سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے, پیکا ایکٹ کے سیکشن دس کے تحت دس سال قید اور تین کروڑ روپے جبکہ پیکا ایکٹ کے سیکشن چھبیس اے کے تحت دو سال قید اور دس لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے، دفعہ گیارہ کے تحت لگائے گئے الزامات سے دونوں ملزمان کو بری کر دیا گیا،
فیصلے کے مطابق دونوں مجرمان نے بےبنیاد الزامات پر مبنی ٹویٹس کے ذریعے ریاست اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، عوام کو ریاستی اداروں سے متنفر کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت کے دوران ایمان مزاری کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا، ایمان مزاری نے کہا کہ ہم پر تشدد کیا جا رہا ہے، ہمیں پانی کھانا نہیں دیا جا رہا، ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔
جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مطلب آپ کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں، جج نے عدالتی عملے کو حکم دیا کہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں،
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the practice
Telephone
Website
Address
Shikarpur
78100