Azhar_Writes09
03/08/2024
روئے زمین پر پہلا انسانی قتل اور ہابیل قابیل کا واقعہ
🏜️یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب روئے زمین پر انسانی زندگی ابتدائی حالت میں تھی اور حضرت حواء کے بطن سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے۔ ایک ساتھ پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا نکاح دوسری مرتبہ پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کے ساتھ کر دیا جاتا تھا۔ ہابیل اور قابیل یہ دونوں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔جب یہ جوان ہوئے تو دستور کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کا نکاح غازہ کے ساتھ جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کرنا چاہا تو قابیل اس بات پر رضامند نہیں ہوا کیونکہ اقلیما ، غازہ کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت تھی۔جو قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کو سمجھایا کہ یہ اللہ کا حکم ہے لہٰذا تم یہ بات مان لو۔ اقلیما تمہارے ساتھ پیدا ہوئی ہے اس لئے وہ تیری بہن ہے، اس کے ساتھ تیرا نکاح نہیں ہوسکتا۔ مگر قابیل اپنی بات پر اڑا رہا ۔ با لآخر حضرت آدم علیہ السلام نے ان دونوں بھائیوں کو حکم دیا کہ تم دونوں اپنی اپنی قربانی اللہ کے حضور میں پیش کرو۔ جس کی قربانی مقبول ہوگی وہی اقلیما سے نکاح کا حق دار ہوگا۔ اس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی علامت یہ تھی کہ لوگ اپنی قربانیاں پہاڑ پر رکھ دیتے تھے اور آسمان سے آگ آکر انھیں کھا جاتی تھی (جلا کر ختم کر دیتی تھی)۔
قابیل کھیتی باڑی کرتا تھا اور ہابیل جانور پالتا تھا ۔ چنانچہ قابیل نے گندم کی بالیاں اور ہابیل نے ایک خوبصورت ، موٹا تازہ مینڈھا قربانی کے لئے ایک پہاڑ پر رکھ دیا اور اللہ سے دعا مانگی یا الٰہی ہماری قربانی کو قبول فرما ۔ آسمان سے آگ آئی اور اس نے ہابیل کی قربانی کو کھا لیا اور قابیل کی قربانی قبول نہیں ہوئی۔جس سے قابیل کے دل میں ہابیل کے لئے غصہ ،حسد اور بغض پیدا ہوگیا اور وہ ہابیل سے کہنے لگا کہ میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوگئی ہے۔ ہابیل نے قابیل سے کہا ۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کی قربانی قبول کرتا ہے اگر تو میرے قتل کے لئے مجھ پر ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاﺅں گا کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔
قربانی دے کر دونوں بھائی حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئے ، آدم علیہ السلام نے فرمایا اے قابیل تیری بہن اقلیما اب ہابیل پر حلال ہوئی اور تجھ پر حرام۔ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اقلیما اس کے نکاح میں نہیں آسکتی اس لئے وہ ہابیل کو مارنے کی تدبیر میں رہنے لگا۔ اس دوران آدم علیہ السلام جب مکہ چلے گئے ، تو ایک دن قابیل نے دیکھا کہ ہابیل سورہا ہے تو سوچنے لگا کہ اسے کس طرح سے ماروں کیونکہ اس زمانے تک کسی نے کسی کو نہیں مارا تھا۔جب شیطان نے دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا طریقہ نہیں آتا تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر دوسرا پتھر زور سے اس کے سر پر دے مارا جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ ترکیب دیکھ کر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کے ساتھ یہ ہی کیا اور زمین پر سے ایک پتھر اٹھا کر ہابیل کے سر پر دے مارا ،اور اپنے بے گناہ بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔
ہابیل کے قتل کے بعد قابیل یہ سوچ کر بے حد پریشان ہوا کہ اب اس لاش کا کیا کرے۔یہ روئے زمین پر کسی انسان کا یہ پہلا قتل تھا، کیونکہ اس سے پہلے کوئی آدمی مرا ہی نہیں تھا۔ اس لئے قابیل حیران و پریشان تھا کہ بھائی کی لاش کو کیا کروں، چنانچہ وہ کئی روز تک بھائی کی لاش کو اپنی پیٹھ پر لاد کر پھرتا رہا۔اللہ تعالیٰ کو اپنے اس نیک بندے کی لاش کی بے حرمتی منظور نہ تھی چنانچہ اس جگہ پر دو کوّے آئے اور وہاں آکر آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار ڈالا ۔ پھر زندہ کوّے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین میں گڑھا کھود ا اور اس میں اس مرے ہوئے کوّے کو ڈال کر مٹی سے دبادیا۔ کوّے کو دیکھ قابیل اپنے اوپر ملامت کرنے لگا کہ میں اس کوّ ے سے بھی گیا گزرا ہوں کہ اتنا بھی نہ کرسکا۔ اس طرح قابیل کو معلوم ہوا، کہ ہابیل کی لاش کو زمین میں گڑھا کھود کر دفن کردینا چاہیئے۔ چنانچہ اس نے ایک گڑھا کھود کر اس میں اپنے بھائی ہابیل کی لاش کو دفن کردیا۔
جب حضرت آدم علیہ السلام مکّہ سے واپس آئے اور ہابیل کو نہ پایا تو اس کو بہت تلاش کیا، مگر وہ نہ ملا، لوگوں سے پوچھنے لگے ، کسی نے جواب دیا کہ ہابیل کچھ دنوں سے نہ معلوم کہاں گیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ہابیل صدمے میں کھانا پینا اور سونا سب ترک کردیا اور شب و روز ہابیل کے غم میں رہنے لگے۔ ایک روز آپ نے خواب کی حالت میں دیکھا کہ ہابیل الغیاث الغیاث ، اے پد ر، اے پدر، پکار رہا ہے،حضرت آدم علیہ السلام نیند سے چونک کر اٹھے اور زار زار رونے لگے۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کو ہابیل کی قبر پر لے گئے ۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا نے قبر کھود کر ہابیل کو دیکھا کہ اس کا مغز نکلا ہوا ہے اوروہ خون سے آلودہ ہورہا ہے ۔ یہ حال دیکھ کر آپ ؑ دونوں بہت روئے۔
اور ہابیل کی لاش کو ایک تابوت میں بند کرکے اپنے مکان میں لاکر دفن کردیا ۔ اس وقت آپ ؑ کے ایک سو بیس بیٹے تھے جن میں سے سوائے ہابیل کے کوئی نہیں مرا تھا۔ روایت ہے کہ جب ہابیل قتل ہوگئے تو سات دن تک زمین میں زلزلہ رہا ۔ قابیل جو بہت خوبصورت تھا بھائی کا خون بہاتے ہی اس کا چہرہ بالکل سیاہ اور بدصورت ہوگیا۔ آدم علیہ السلام نے قابیل کو اپنے دربار سے نکال دیا اور وہ یمن کی سر زمین عدن میں چلا گیا ، وہاں ابلیس اس کے پاس آکر کہنے لگا کہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے اس لئے کھالیا تھا کہ وہ آگ کی پوجا کرتا تھا لہٰذا تو بھی آگ کی پرستش کیا کر۔ چنانچہ قابیل پہلا شخص ہے جس نے آگ کی پرستش کی اورزمین پریہ پہلا شخص ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی اور زمین پر خون ناحق کیا۔ یہ وہ پہلا مجرم ہے جو جہنم میں ڈالا جائے گا۔حدیث میں ہے کہ زمین پر قیامت تک جو بھی خونِ ناحق ہوگا۔اس کے عذاب کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ قابیل پر بھی ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا۔ قابیل کا انجام یہ ہوا کہ اس کے ایک لڑکے نے جو کہ اندھا تھا۔ اس کو پتھر مار کر قتل کردیا۔ اور یہ بدبخت آگ کی پرستش کرتے ہوئے گمراہی و شرک کی حالت میں اپنے لڑکے کے ہاتھ مارا گیا۔ (ماخوذ : تفسیر ابن کثیرجلد دوم صفحہ۶۵ تا ۰۶ ۔ روح البیان جلد دوم، صفحہ۱۸۳)
کسی بے گناہ کو قتل کرنا (خون ناحق) بہت بڑا جرم ہے قابیل نے غصہ، حسد اور بغض میں گرفتار ہو کر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا اس سے معلوم ہو ا کہ حسد، غصہ اور بغض انسان کے لئے کتنی بری اور خطرناک قلبی بیماری ہے. اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا :” جو شخص کسی کو بلا وجہ مار ڈالے ، جبکہ اس نے نہ کسی کو قتل کیا تھا اور نہ زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ اور جو شخص کسی بے قصور شخص کے قتل سے باز رہے گویا اس نے تما م لوگوں کو زندگی دی “(پارہ ۶،سورة مائدہ )
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو غصہ حسد بغض اور تکبر اور ہر طرح کی گمراہی سے بچائے اور ان سے ہماری حفاظت فرمائے۔“ (آمین)
شاہ جی کا گھرانہ جب سے پڑوس میں آباد ھوا تھا محلے میں غیر محسوس انداز سے چند اچھی روایات کا پھر سے احیاء ھوا تھا ۔ لیکن اس میں سارا کمال ان کے چھوٹے سے کم سن برخودار زین کا تھا۔ وہ تقریبا" ہر روز کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز یا سالن بھلے تھوڑی سی مقدار ہی میں صحیح لیکن ہمسائے میں بانٹنے آتا ۔ بڑی معصومیت سے پلیٹ پکڑاتے ھوئے کہتا ۔۔ " نانا جی نے بھیجا ھے " ہم شکریہ سے رکھ لیتے اور نانا جی کو سلام کا کہتے وہ فورا" وعلیکم السلام کہہ کر پلٹ جاتا۔ کبھی کسی کی ولادت کا ختم کبھی کسی کی شہادت کا ۔۔ ہم بڑوں تک کو معلوم نہ ھوتا لیکن متانت سے رکھ لیتے۔ کبھی ویسے ہی تحفتہ" کہ ہم نے بوٹی چاول بنائے تھے۔ آپ بھی لیں۔
بہت پیارا اور حسین سا معصوم چہرہ تھا لیکن ماں یا نانا کی تربیت بھی خوب تھی ۔ اب شرما شرمی اور بھی کچھ گھرانے ایک دوسرے کے ساتھ مل بانٹ کر کھانا شروع ھو گئے تھے ۔ اور بچے ہی نہی ہم بڑے بھی سلام کرنے میں پہل کرنے لگے تھے۔ لیکن ہم نے اس کے والد کے سواء کم ہی کسی کو دیکھا تھا۔ سید تھے تو پردہ تو سخت تھا ہی ۔ لیکن نانا جی بھی کبھی چھت یا گلی میں نظر نہ آئے ۔ چھت پر بھی وہی بچہ پرندوں کو دانہ دنکا ڈالتا نظر آتا۔
لیکن آج تو کمال ہی ھو گیا۔ میں چھوٹے شاہ جی سے پلیٹ پکڑ ہی رہا تھا کہ زلزلہ آگیا۔ زلزلہ شدید تھا ۔ میں اور باقی محلے دار تیزی سے باہر کو لپکے ۔ لیکن چھوٹے شاہ جی نے اچانک عجب حرکت کی۔ اس بچے نے بڑی زور سے زمین پر داہنا پاوں اٹھا مارا اور تحمکانہ لہجے میں گویا ھوا ۔
اے زمین مت کر !
دیکھتی نہیں ... ہم کھڑے تو ہیں ؟
زلزلہ تو خیر رک ہی گیا لیکن ہمیں ہنسی آگئی ۔ ہم سب نے ننھے زین کو گھیر لیا ۔ وہ گھر کو پلٹ رہا تھا۔ کہ میں نے پوچھا ۔ شاہ جی اگر یہ آپ کی بات نہ مانتی تو ؟
وہ بے نیازی سے بولا ۔ کیسے نہ مانتی !
میں نے کہا پھر بھی اگر نہ مانتی تو ؟
نہیں نانا جی نے بتایا ھے ایسا نہیں ھو سکتا ۔ عجب یقین و اطمنان تھا لہجے میں اور اک شان_ بے اعتنائی جو ہم بڑوں کو اب چبھ رہی تھی ۔
یار آج اپنے نانا جان سے تو ملواو ۔
ہیں ؟
اب وہ تیزی سے پلٹا تھا اور حیران ہماری جانب دیکھ رہا تھا
آپ لوگ نانا جان سے نہیں ملے ؟
عجب بے یقینی حیرت و اچھنبا تھا اس لہجے میں!
شیخ صاحب بولے یار ہمیں تو وہ کبھی باہر نظر ہی نہیں آئے ؟
آپ سب ان کو نہیں دیکھتے ؟
وہ حیران و پریشان ھو گیا تھا ۔ تاسف اور شدید درد تھا اس لہجے میں ۔
کیونکہ ہم سب یک زبان بولے تھے ۔ نہیں ۔
اچھا ۔۔ پھر آپ لوگ مدینہ منورہ ہی ھو آئیں ۔
ایک سنسنی کی لہر تھی جو میرے رگ و پے میں دوڑ گئی ۔۔۔
یہ زلزلہ نہیں بھونچال تھا جو میرے تقوی کے بت کے درپے ہے ۔ میں میں نہی رہا ۔
وہ ذات کا ہی نہیں کردار کا بھی سید نکل آیا تھا۔
پاکستانی ماوں کا پسندیدہ ترین مشغلہ: بچوں کا سر بنانا
جیسے ہی آپ ماں بنیں گی آپکی امی، ساس، خالہ، پھوپھو، تائی، چاچی اور ہر رشتہ دار خاتون آپکو ایک مشورہ ضرور دیگی اور وہ ہے بچے کا سر کیسے بنایا جائے۔
ان مشوروں میں بچے کے سر کو آگے پیچھے سے دبانا، بچے کے سر کے نیچے گتا، لکڑی، پلیٹ یا کوئی سخت چیز رکھنا۔ گردن کو اسطرح رکھنا کہ سر بالکل سیدھا رہے، خاص تکیوں کا استعمال، سر پر اینٹ رکھنا تک شامل ہیں۔
جو عورت سر بنانے میں بہت expert مانی جائے گی اور اپنی کامیابی کے قصے سناتی نظر آئیگی اسکے بچے(جو کہ اب بڑا ہو چکا ہوگا) کا سر ایک بار غور سے دیکھیں۔ اسکا سر پیچھے سے سیدھا ہو گا
سر کا اس طرح سیدھا ہوجانا Flat head syndrome کہلاتا ہے۔ جو کہ پاکستانی ماوں کے مطابق ایک achievement ہے۔ دراصل ایک abnormal کنڈیشن ہے۔ سر کی ایک سطح کو بالکل سیدھا کر دینا اور ہڈی کی ساخت کو تبدیل کر دینا سراسر غلط ہے۔ flat head syndrome کے بچوں میں
● باریکی کے کام (یعنی fine motor skills)
●زبان کا استعمال( یعنی Language development)
● فہم و فراست ( یعنی cognitive skills)
● جذباتیات (یعنی emotional intelligence)
میں کمی آسکتی ہے۔
سب میں نہیں ہوتا لیکن ایسا ہونا ممکن ہے اور ایسے بہت سے کیسز رپورٹ بھی ہوئے ہیں۔
تو پھر سر بنانے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟؟
تو اسکا جواب ہے کہ بچے کو سکون سے جینے دیں۔ کچھ بھی مت کریں۔ بچے کو کبھی کروٹ اور کبھی سیدھا سلائیں سر کو ایک جگہ پہ fix نہ رکھیں تاکہ وہ کسی بھی جگہ سے flat نہ ہو جائے اور سر کی ہڈی کو اپنی اصلی شکل اختیار کرنے دیں جو کہ گول ہے۔
اور سر بنانے کا مشورہ دینے والوں کا مشورہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں۔
03/08/2024
چچا بشیر پیرس میں ایفل ٹاور کی سیر کر رہا تھا
کہ اچانک ایک خوبرو میم پر نظر پڑی،
بشیر اُس میم پر دل ہار بیٹھا۔
پریشانی تو یہ تھی کہ اب اس میم سے بات کیسے کرے سوائے پنجابی کے اس کو اور کوئی زبان بھی نہیں آتی تھی اچانک ایک ترکیب ذہن میں آئی،
کاغذ پر پینسل سے چائے کا کپ بنایا اور جا کر میم کو دکھایا...!!!!
میم نے دیکھا تو مُسکرا کے ساتھ چل دی ہوٹل میں بیٹھ کر بشیر نے پھر کاغذ پر کھانے کے برتن کی تصویر بنائی، میم کی طرف سے آفر قبول ہوئی، کھانے کا آرڈر دے دیا کھانے سے فارغ ہونے کے بعد میم نے بشیر سے پینسل کاغذ لیا اور ایک خوبصورت پلنگ کی تصویر بنا کر بشیر کے سامنے کی...!!!!
چاچا بشیر شرم سے پانی پانی ہوا جا رہا تھا
کہ اب کیا بولے میم کو،🤔🤔
آخِر ہمت کر کے ڈرتے ڈرتے میم سے
بولا تہانوں کِس طرح پتہ چلیا اے کہ
میں فرنیچر دا کم کردا واں🤔🤔
کیا اپ بھی وہی سوچ رہے جو بشیر چچا سوچ رہاتھا🤔 ؟
😳🙈🙈😂😂
کسی اور بشیرا سے اس واقعے کی مماثلت اتفاقیہ ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔🙃
02/08/2024
Independent Dreams 😳😳😂
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Satellite Town , Main City
Sargodha
40100