Abdur Rasheed Qureshi

Abdur Rasheed Qureshi

Share

20/02/2025

اللّٰہ تعالیٰ کا شکر رات کو راولپنڈی میں بارش ہوئی ہے موسم دوبارہ خوشگوار ٹھنڈا

14/02/2025

*آج کی یادگار پوسٹ۔۔۔جو آپ کو بہت بڑا سبق دے جائے گی۔۔۔۔*

*موت کی چھ علامتیں جو اس کے قریب ہونے کی نشانی ہیں۔۔*

*موت کے چھ مراحل ہوتے ہیں۔*

*پہلا مرحلہ "یوم الموت" کہلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ زمین پر جائیں اور انسان کی روح قبض کریں، تاکہ اسے اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار کیا جا سکے۔*

*بدقسمتی سے، کوئی بھی اس دن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اور جب وہ دن آتا ہے، انسان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ اس کی موت کا دن ہے۔*

*تاہم، انسان اپنے جسم میں تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔ مثلاً مؤمن کے دل کو اس دن خوشی اور سکون ملتا ہے، جبکہ برے اعمال کرنے والے کو سینے اور دل میں دباؤ محسوس ہوتا ہے۔*

*اس مرحلے پر شیاطین اور جنات فرشتوں کے نزول کو دیکھتے ہیں، لیکن انسان انہیں نہیں دیکھ سکتا۔*

*قرآن کریم میں اس مرحلے کا ذکر یوں کیا گیا ہے:*

*"اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔"*
*(سورة البقرة: 281)*

*دوسرا مرحلہ: روح کا تدریجی طور پر نکلنا*

*یہ مرحلہ پاؤں کے تلووں سے شروع ہوتا ہے۔ روح آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھتی ہے، ٹانگوں، گھٹنوں، پیٹ، ناف اور سینے سے گزرتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر پہنچتی ہے جسے "ترقی" کہا جاتا ہے۔*
*اس مقام پر انسان تھکن اور چکر محسوس کرتا ہے اور کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی جسمانی طاقت ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ اب بھی نہیں سمجھ پاتا کہ اس کی روح جسم سے نکل رہی ہے۔*

*تیسرا مرحلہ: "ترقی" کا مرحلہ*

*قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:*

*"ہرگز نہیں، جب روح حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا، کون جھاڑ پھونک کرے گا؟ اور وہ سمجھے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے۔ اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔"*

*(سورة القیامة: 26-29)*

*ترقی حلق کے نیچے کے دو ہڈیوں کو کہا جاتا ہے جو کندھوں تک پھیلتی ہیں۔*

*"وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ" کا مطلب ہے کہ کون روح کو لے کر جائے گا؟*

*یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ ڈاکٹر یا ایمبولینس بلانے یا قرآن پڑھنے کی بات کرتے ہیں، لیکن انسان ابھی بھی زندگی کی امید رکھتا ہے۔*

*"وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ" کا مطلب ہے کہ انسان کو موت کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن وہ اب بھی بقا کی کوشش کرتا ہے۔*
*"وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ" یعنی روح کے نکلنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اور جسم کے نچلے حصے بے جان ہو چکے ہیں۔*

*چوتھا مرحلہ: "حلقوم" کا مرحلہ*

*یہ موت کا آخری مرحلہ ہے، جو انسان کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے پردے ہٹ جاتے ہیں، اور وہ اپنے ارد گرد موجود فرشتوں کو دیکھتا ہے۔*
*یہاں سے انسان آخرت کو دیکھنا شروع کرتا ہے:*
*"ہم نے تمہاری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا، آج تمہاری نظر تیز ہے۔"*
*(سورة ق: 22)*

*قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:*
*"پھر کیوں نہیں جب روح حلق تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو، اور ہم تم سے زیادہ قریب ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔"*
*(سورة الواقعة: 83-85)*

*یہ وہ وقت ہے جب انسان اللہ کی رحمت یا غضب دیکھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے اعمال کو اپنی نظروں کے سامنے گزرتا ہوا دیکھتا ہے، اور شیطان اسے گمراہ کرنے کی آخری کوشش کرتا ہے۔*

*قرآن کہتا ہے:*
*"اور کہو، اے میرے رب، میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس سے بھی کہ وہ میرے پاس آئیں۔"*
*(سورة المؤمنون: 97-98)*

*پانچواں مرحلہ: "ملک الموت" کا داخلہ*

*یہ مرحلہ وہ ہے جہاں انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ رحمت والوں میں سے ہے یا عذاب والوں میں سے۔*

*اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:*
*"اور جن کی روحیں فرشتے سختی سے نکالتے ہیں، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں۔"*
*(سورة محمد: 27)*

*اگر انسان مؤمن ہے تو اس کی روح نرمی سے نکلتی ہے، جیسے پانی کا قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے۔*

*اللہ فرماتا ہے:*
*"اے اطمینان والی روح، اپنے رب کی طرف لوٹ، راضی اور مرضی، اور میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔"*
*(سورة الفجر: 27-30)*

*چھٹا اور آخری مرحلہ*

*یہ مرحلہ وہ ہے جب انسان کی روح مکمل طور پر جسم سے نکل جاتی ہے۔ اگر وہ گناہ گار ہے تو کہتا ہے:*

*"اے میرے رب، مجھے واپس بھیج دے، تاکہ میں نیک عمل کر سکوں۔"*
*لیکن اللہ فرماتا ہے:*
*"ہرگز نہیں، یہ صرف ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اور ان کے پیچھے ایک پردہ ہے، قیامت کے دن تک۔"*
*(سورة المؤمنون: 99-100)*

*"اور موت کی سختی حق کے ساتھ آئے گی، یہی وہ ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔"*
*(سورة ق: 19)*

*یہاں مؤمن کے لیے جنت کی بشارت ہے، جبکہ گناہ گار کے لیے عذاب کی وعید۔*

*ایک مفسر سے پوچھا گیا کہ لوگ موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟*

*انہوں نے جواب دیا:*
*"کیونکہ تم نے دنیا کو آباد کیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔"*

*اے میرے اللّٰہ! ہمارا خاتمہ دین اسلام پر فرما اور مرتے وقت ہمیں کلمہ شہادت نصیب فرما ۔۔۔ (آمین)*

Islam360 13/02/2025

)(((((((((((( شبِ برات)))))))))حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكرٍ الصِّدِّيقِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْحَجَّاجِ، ‏‏‏‏‏‏وسَمِعْت مُحَمَّدًا يُضَعِّفُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ:‏‏‏‏ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَسْمَعْ مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.

میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا۔ تو میں ( آپ کی تلاش میں ) باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ بقیع قبرستان میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ڈر رہی تھی کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا گمان تھا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان ۲؎ کی رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم اس سند سے صرف حجاج کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کی تضعیف کرتے سنا ہے، نیز فرمایا: یحییٰ بن ابی کثیر کا عروہ سے اور حجاج بن ارطاۃ کا یحییٰ بن ابی کثیر سے سماع نہیں، ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔

Sunan Tirmizi #739
کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

Download Islam360 Now :

Islam360 World biggest Quran & Hadith App

12/02/2025

: انسان پر کبھی "راستہ بند نہیں" ہوتا ،

: یہ بات یاد رکھی جائے
کہ
" ہر دیوار کے اندر " دروازہ" ہے ، جس میں سے مسافر گزرتے رہتے ہیں ،
: مایوسیوں کی دیواروں میں
_____ " اس کی رحمت" أمید کے دروازے کھولتی" رہتی ہے ، ___

: "انتظار ترک نہ" کیا جائے ۔ " """""رحمت ہو گی ۔""""""""
" أمید کا چراغ جلے گا ۔
___ " وہ وقت جس کا انتظار ہے ،
___ " آئے گا بلکہ وہ وقت آ ہی گیا ۔۔۔۔۔
______" مایوسیوں کے بادل ️ چھٹ جائیں" گے ۔۔۔_____

: چراغاں ہو گا ،
: انسان انسان کے قریب آ جائے گا ،
: پتھر موم ہو جائے گا ،
: دل محبت سے معمور ہو جائیں گے ،
: پیشانیاں سجدوں سے سرفراز ہو جاہیں گی ،
: زندگی کو زندہ رہنے کا استحقاق مل جائے گا ،

" انسان مایوس نہ ہو ۔
___ کشتیاں جلا دی جائیں تو" کامیابی قریب" آجاتی ہے ،

: کامیابی یہی ہے
کہ
" زندگی کو وثوق مل جائے ،
" آرزوئیں پوری نہ ہوں
____ تو" بے آرزو رہنے کی آرزو پیدا" کر دی جائے ، ______
_____ یہی بڑی کامیابی ہے ، ______

: کامیابی کسی" نقطے کا نام نہیں" ،
: یہ "مزاج کا نام " ہے ،
: بڑے بڑے فاتحین جنگیں" ہارنے کے بعد" بھی
: _____ فاتحین ہی رہے ،______

: ہمارے پاس مثال موجود ہے ،
______ جسے اللہ تعالیٰ نے فتح مبین قرار دیا ۔۔۔۔ ____

: کربلا کی شکشت فتح کی بشارت ہے ۔
: ہم جسے "تاریکی سمجھ " رہے ہیں ،
: یہی کاذب تو" صبحِ صادق کا آغاز" ہے ۔۔
: چلتے چلیں ۔۔۔
: منزلیں خود ہی سلام کرینگی
: دنیا کے خلاف فریاد نہ کریں ،
: ____ کوشش کریں
کہ
: کوئی آپ کے خلاف فریاد نہ کرے ،
:___ دوسروں کو خوش کریں" خوشی خود ہی مل جائے گی ،
: ____ اور یہی جینے کا راز ہے ۔۔۔۔

29/01/2025
24/01/2025

جمعہ مبارک

23/01/2025

(22 رجب : سوانح حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ)
پیشکش : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی،جامعہ نظام مصطفی بہاولپور

1.. آپ کی ولادت 17 ربیع الاول بروز سوموار 80 ہجری ایک روایت کے مطابق 83 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوںٔی- (مرأۃ الاسرار صفحہ ۲۰۹)
آپ کا اسم گرامی"جعفر" کنیت, ابوعبداللہ ایک روایت کے مطابق آپ کی کنیت "ابواسماعیل" ہے-

2..آپ کا مشہور لقب "صادق" ہے،اس کے علاوہ دیگر القاب میں "فاضل اور صابر بھی شامل ہیں.

3..آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے : امام حعفر صادق بن محمد باقر بن علی بن حسین بن علی بن ابو طالب-

4..اللہ تعالی نے خاندانی شرافت نجابت کے ساتھ ساتھ آپ کو بے پناہ علم وفضل سے بھی نوازا تھا اور ہو بھی کیوں نہ کہ آپ اب مدینۃ العلم(شہر علم کے دروازے )سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے نونہالوں کے پروردہ تھے, آپ بلند پایہ محدث اور وقت کے امام تھے, آپ کا علمی غلغلہ دور دور تک محسوس کیا جاتا تھا اسی لیے دور دراز مقامات سے طالبان علوم نبویہ اپنی علمی تشنگی بجھانے کے لیے لمبا سفر طے کرکے آپ کی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہوتے اور آپ کی صحبت بابرکت میں رہ کر خوب خوب فیضیاب ہوتے تھے آپ کے ہزاروں شاگردوں کی علمی وفکری تربیت فرماکر اسلامی تعلیمات عام کرنے میں گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں آپ کے شاگردوں میں امام اعظم ابو حنیفہ , امام مالک, امام سفیان ثوری اور سفیان بن عینیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے ممتاز ومنفرد المثال اکابرین ملت اور اساطین امت کا سر فہرست ہین-
امام الاںٔمہ امام اعظم ابو حنیفیہ سید نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ کی بارگاہ میں دو سالوں تک اکتساب فیض کا شرف حاصل کیا اور ان دو سالوں میں آپ نے ان سےوہ کمال پیدا کیا کہ آپ ان کی اس نسبت شاگردی کا تذکرہ کرتے ہوے یوں ارشاد فرماتے ہیں: لولا السنتان لهلک النعمان یعنی اگر دوسال (جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام جعفر صادق کے پاس حصول علم میں گذارے)نہ ہوتےتو نعمان (امام اعظم رضی اللہ عنہ)ہلاک ہوجاتا-

5..حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا علمی پایہ جس قدر بلند و بالا تھا یونہی آپ کا تقوی اور زہد و ورع بے مثال اور بے نظیر تھا چناں چہ آپ کے ایک جلیل القدر شاگرد اور اںمہ اربعہ میں دوسرے عظیم المرتبت امام حضرت مالک رضی اللہ نہ بیان فرماتے ہیں:
میں ایک زمانے تک آپ کی بارگاہ میں آتا جاتا رہا۔مگرمیں نے ہمیشہ آپ کو تین‌عبادتوں میں سے ایک میں مصروف پایا,یا تو آپ نماز پڑھتے ہوۓ ملتے یا تلاوت میں مشغول ہوتے ‌یا روزہ دار ہوتے, آپ بلا وضو کبھی حدیث کی روایت نہیں فرماتے تھے-"
( اولیاء رجال الحدیث, صفحہ 83،84)

6..آپ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے:
*اللهم‌ اعزنی بطاعتک ولا تحزنی بمعصیتک اللهم ارزقنی مواساۃ من قترت علیه رزقه بما وسعت علی مں فضلک* ,,, یعن اے اللہ مجھے عزت عطا فرما اپنی فرمانبرداری کےساتھ اور مجھے رسوا نہ کر معصیت کے ساتھ کے ساتھ اے اللہ جس پر تونے رزق تنگ فرما دیا ہے مجھے اس کی غمخواری کی توفیق عطا فرما اپنے اس فضل کے ساتھ جو تو نے مجھ پر وسیع فرمایا ہے-(البشیر,صفحہ70)

7..آپ کا وصال ایک قول کے مطابق 15 رجب اور دوسرے قول کے مطابق ماہ شوال میں ہوا. آپ کا یوم 22 رجب کو پاک و ہند میں زور شور سے منایا جاتا ہے، یہ دن کونڈوں کے دن کے نام سے معروف ہے.

8..آپ جنت البقیع میں اپنے والد ماجد حضرت سیدنا امام باقر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مدفون ہیں -
(اولیاۓ رجال الحدیث,بحوالہ اکمال وطبقات, صفحہ 85)

9.. امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے کچھ اقوال ملاحظہ ہوں.
* دروغ گو کو مروت اور حاسد کو راحت نہیں
* ابتلا ایک شرف ہے، اسی لیے خاصان حق اس میں مبتلا کیے جاتے ہیں
* فاجر سے محبت نہ کر کہ تجھ ہر فسق و فجور غالب آئے گا
*جو کوئی برے راستے جاتا ہے اسکو اتہام لگتا ہے
* ذوق صوفیاء کوئی اور طریق علاوہ کتاب و سنت نہیں
* ہمارا دین سراپا ادب ہے جو اسکو ملحوظ نہیں رکھے گا وہ حرمان نصیب ہے
* خوشامدی لوگ تیرے لیے تکبر کا تخم ہیں
* حقیقی تقوی یہ ہے کہ جو کچھ تیرے دل کے اندر ہے اگر تو اسے کھلے طباق میں رکھ دے، اور اسکو لے کر بازار کا گشت لگائے تو اس میں ایک بھی ایسی چیز نہ ہوجس کو اس طرح آشکارا کرنے میں تجھے شرم آئے، یا کوئی حرف گیری، نقطہ چینی یا انگشت نمائی کرسکے.
* دوسروں کے مال کا طمع نہ کرنا بھی داخل سخاوت ہے
* سعید وہ ہے جس کا دل عالم بدن صابر، اور موجودہ پر وہ قانع ریے
* مشورہ ایسے لوگوں سے کرو جو خوب اطاعت الہی کریں.
* ایک گناہ بہت ہے اور ہزار طاعت قلیل!!!!!!

10..آپ کے شاگرد امام اعظم آپ کی فقاہت کے مداح ہیں. اس سلسلے میں مفتی محمد زین العابدین شاہ صاحب لکھتے ہیں :
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ نے سب سے زیادہ فقیہ کون دیکھا؟
انہوں نے فرمایا: میں نے امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ فقیہ کوئی نہیں دیکھا۔
جب عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام جعفر الصادق رضی اللہ تعالی عنہ کو مقامِ حِیْرہ میں بلایا تو مجھے پیغام بھیجا اور کہا: " ابو حنیفہ! لوگ امام جعفر بن محمد کے فتنے میں مبتلا ہو رہے ہیں، ان کے لیے مشکل مسائل تیار کرو۔" ۔۔۔ بہر حال میں نے چالیس مسائل تیار کیے اور عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے پاس گیا۔ امام جعفر الصادق ان کے دائیں طرف بیٹھے تھے۔ جب میں نے ان دونوں کو دیکھا تو امام جعفر الصادق کی ہیبت نے میرے دل میں وہ اثر ڈالا جو خلیفۂ وقت ابو جعفر منصور کی ہیبت سے بھی زیادہ تھا۔
میں نے سلام کیا اور مجھے بیٹھنے کی اجازت دی گئی۔ ابو جعفر منصور نے میری طرف رخ کر کے سیدنا امام جعفر الصادق سے پوچھا: "یہ شخص کون ہے؟"
آپ نے ارشاد فرمایا: "یہ ابو حنیفہ ہیں۔"
"یہ ہمارے پاس حاضر ہوچکے ہیں۔"
پھر خلیفہ نے کہا: "ابو حنیفہ! اپنے مسائل پیش کریں، تاکہ ہم ابو عبداللہ (جعفر بن محمد) سے ان کا جواب معلوم کریں۔"
میں نے مسائل پوچھنا شروع کیے اور سیدنا حضرت امام جعفر الصادق ہر مسئلے میں یوں جواب دیتے:
" أَنْتُم تَقُوْلُوْنَ فِيْهَا كَذَا وَكَذَا، وَأَهْلُ المَدِيْنَةِ يَقُوْلُوْنَ كَذَا وَكَذَا، وَنَحْنُ نَقُوْلُ كَذَا وَكَذَا "
"تم اس مسئلے میں یہ کہتے ہو، اہلِ مدینہ یہ کہتے ہیں، اور ہم یہ کہتے ہیں۔"
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، حضرت امام جعفر الصادق رضی اللہ تعالی عنہ کی اعلمیت و ثقاہت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے ان حسیں الفاظ میں اعتراف کرتے ہیں.
" فَرُبَّمَا تَابَعَنَا، وَرُبَّمَا تَابَعَ أَهْلَ المَدِيْنَةِ، وَرُبَّمَا خَالَفَنَا جَمِيْعاً، حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى أَرْبَعِيْنَ مَسْأَلَةً، مَا أَخْرِمُ مِنْهَا مَسْأَلَةً.
ثُمَّ قَالَ أَبُو حَنِيْفَةَ: أَلَيْسَ قَدْ رَوَيْنَا أَنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَعْلَمُهم بِاخْتِلاَفِ النَّاسِ؟ "
کبھی وہ ہماری موافقت کرتے، کبھی اہلِ مدینہ کی، اور کبھی ہم دونوں کی مخالفت کرتے۔ یہاں تک کہ میں نے چالیس مسائل پیش کیے، اور ہر مسئلے کا جواب انہوں نے دیا۔

11..آپ سے کسی نے کہا میرا پڑوسی کہتا ہے کہ آپ ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے بیزاری اختیار کرتے ہیں۔"
" بَرِئَ اللهُ مِنْ جَارِكَ، وَاللهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَنْفَعَنِي اللهُ بِقَرَابَتِي مِنْ أَبِي بَكْرٍ "
"تمہارے پڑوسی سے اللہ بیزار ہو۔ اللہ کی قسم! میں امید کرتا ہوں کہ اللہ مجھے میری قرابت داری کے سبب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے فائدہ پہنچائے گا۔"
اسی طرح مختلف روایات میں سیدنا امام جعفر صادق نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق و عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے حق میں اپنی محبت اور ان کی عظمت کا اظہار کیا۔

12..آپ فرماتے تھے کہ خاندان صدیق بھی آل رسول ہے.
" كَانَ آلُ أَبِي بَكْرٍ يُدْعَونَ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ، آلَ رَسُوْلِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- "
" سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آل رسول کہا جاتا تھا۔"

13..آپ فرماتے تھے کہ رسول اللہ کی شفاعت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرنے والے کو ملے گی.
" يَا سَالِمُ! تَوَلَّهُمَا، وَابْرَأْ مِنْ عَدُوِّهِمَا، فَإِنَّهُمَا كَانَا إِمَامَيْ هُدَىً.
ثُمَّ قَالَ جَعْفَرٌ: يَا سَالِم شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ القِيَامَةِ إِنْ لَمْ أَكُنْ تَوَلاَّهُمَا، وَأَبرَأُ مِنْ عَدُدوِّهِمَا "
'اے سالم! ان دونوں سے محبت رکھو اور ان کے دشمنوں سے بیزاری اختیار کرو، کیونکہ وہ دونوں ہدایت کے امام تھے۔'
پھر سیدنا حضرت امام جعفر الصادق نے فرمایا:
اے سالم! قیامت کے دن محمد ﷺ کی شفاعت اس شخص کے لیے ہوگی جو ان دونوں سے محبت رکھے اور ان کے دشمنوں سے بیزار ہو۔'"
مزید فرمایا
" مَا أَرْجُو مِنْ شَفَاعَةٍ عَلَيَّ شَيْئاً، إِلاَّ وَأَنَا أَرْجُو مِنْ شَفَاعَةِ أَبِي بَكْرٍ مِثْلَه، لَقَدْ وَلَدَنِي مَرَّتَيْنِ. "
'مجھے کسی کی شفاعت کی امید نہیں سوائے اس کے کہ سیدنا ابوبکر صدیق کی شفاعت بھی اسی طرح ہو۔ وہ میرے دو مرتبہ جدّ امجد ہیں۔'
یعنی بروز قیامت جس طرح اللہ تعالیٰ مجھ پہ کرم فرمائے گا مجھے یقین ہے کہ اسی طرح میرے جد امجد نانا جان سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی کرم فرمائے گا.

14..آپ فرماتے تھے کہ میں معصوم نہیں ہوں.
" مَنْ زَعَمَ أَنِّي إِمَامٌ مَعصُومٌ، مُفتَرَضُ الطَّاعَةِ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيْءٌ، وَمَنْ زَعَمَ أَنِّي أَبْرَأُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيْءٌ. "
جو شخص یہ گمان کرے کہ میں معصوم امام ہوں جس کی اطاعت فرض ہے، میں اس سے بری ہوں۔
اور جو یہ گمان کرے کہ میں ابوبکر اور عمر سے بیزار ہوں، میں اس سے بھی بری ہوں۔'

خلاصہ کلام :
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اہل بیت کے عظیم چشم و چراغ ہیں، جنت البقیع میں مدفون ہیں، بارہ میں سے چھٹے امام ہیں، امام اعظم ابو حنیفہ کے استاد ہیں ، امام محمد باقر کے بیٹے اور امام زین العابدین کے پوتے ہیں. عظیم فقیہ ہیں.
آج 22 رجب آپ کا یوم ہے. ان کی خوب خوب یاد منائیے. ان کی نیاز دیجیے اور ایصال ثواب کیجیے.

22/01/2025

Salut

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Rawalpindi West Ridge?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Rawalpindi West Ridge