The Great Rajputs
The Rajput code of honour calls for a very high standard of character, and that this high standard has been uninterruptedly maintained is shown by their present ready response to the call to arms.
تواریخ راجپوتاں کا قسط وار سلسلہ بہت جلد دوبارہ شروع کیا جائے گا
26/03/2026
26 مارچ یوم شہادت دلا بھٹی
دلا بھٹی جو کہ پنجاب کی تاریخ کے مایہ ناز کردار ہوئے اپنی دلیری اور مؤقف پہ ڈٹے رہنے کی وجہ سے تقریباً چار سو سال قبل آج کے روز سولی پہ چڑھا دیے گئے
19/01/2026
تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 54
عنوان : راجہ سینی عرف شینی یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی
راجہ سینی یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ
سینی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر والا یا شیر کے ہیں
راجہ شور نے اپنی حیات میں ہی شورپورہ کا والئی اپنے بڑے بیٹے شینی کو مقرر کیا -
راجہ شینی کے والد شُور نے اپنے نام سے ایک نیا شہر شُورپورہ بسایا جو متھرا کے نواح میں واقع تھا - اس شہر کو مرکزی مقام دے کر یادو بنس نے خوب رونق بخشی
راجہ شینی کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کُتب میں شینی یا سینی کے نام سے ہوا ہے
راجہ شور کے بیٹے سینی نے اپنے نام اور اپنے والد (شُور) نے نام سے شور سینی ونش چلایا اور اسی نام سے سموت اور ادبی خدمات بھی انجام دیں
یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں شورسین ریاست میں بولی جانے والی زبان کو شورسینی سنسکرت کہا جاتا تھا اور اسی شورسینی زبان کی شاخوں میں پنجابی ، سندھی ، مارواڑی ، راجستھانی ، گجراتی ، مہاراشٹری ، اتر پردیش ، ہریانوی اور پہاڑی کشمیری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں - کتاب "تین ہندوستانی زبانیں از ڈاکٹر کے ایس بیدی" صفحات نمبر 64 تا 66 پہ شورسینی زبان کے متعلق مفصل معلومات درج ہے
راجہ شینی کا تذکرہ تواریخ کی جن کتب میں آیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10
تاریخِ میو چھتری از حکیم عبد الشکور صفحہ نمبر 192-207 جبکہ 204 نمبر صفحہ پہ یادو ونش کی راجدھانیوں میں شُورپورہ کا تذکرہ ملتا ہے
نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحات نمبر 257 تا 265 تک شورسینی راجپوتوں کا مفصل تذکرہ موجود ہے
نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق کے صفحہ نمبر 457 پہ راجہ شُور سے متعلق کچھ یوں درج ہے :
شری برہما جی کے فرزند کا نام اترے اور ان کے پوتے کا نام سمدر اور سمدر کے لڑکے کا نام سوم یعنی چندر تھا
اور یہی بانئِ خاندان چند بنسی ہوا ۔ لیکن سوم کے بعد سات پشتیں گزر گئیں تو ججات کا جنم ہوا -
جو اپنے زمانہ میں نہ میں چکرورتی اور بڑا نامور مہاراجہ ہو گزرا ہے ۔ اس کے سب سے بڑے بیٹے کا نام یادو تھا ۔ اس کے نام سے قوم یادو بنسی مشہور ہوئی مہاراجہ یادو کے بیالیس (42) پشت تک یادو کی اولاد یادو بنسی کہلاتی رہی لیکن اس کے بعد یادو بنسی قوم میں مہاراجہ دُورتہ کا بیٹا شُور نامی پیدا ہوا اور شُور کا بیٹا سینی کے نام سے موسوم ہوا - انہی باپ بیٹوں کے نام سے شورسینی قوم مشہور ہوئی - جو راجہ پرتابی ، تپستوی اور رعایا کو امن و امان سے رکھتا تھا وہ ایشور بھگت ہوتا تھا - اس کے نام سے قوموں کے نام مشہور ہو جاتے تھے - مہاراجہ شُور بڑا ایشور بھگت اور پرادپکاری تھا - شورسینی قوم کا بڑا مشہور شہر شُورپورہ اس کے نام پہ بسایا گیا - اور اس کے بیٹے سینی کے بھی اسی طرح ایشور پرست اور نہایت نیک تھا ۔ یہ دونوں باپ بیٹا بڑے مدبر ، عالی حوصلہ ، قول کے دھنی اور نیکی اور بہادری کی زنده منور مورتی ہونے کی وجہ سے ان کے اوصاف کے ترانے اب تک متھرا اور دیگر شور سینی علاقہ کے لوگ گاتے ہیں۔ ان کے رعایا کے ہر دلعزیز ہونے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ قوم کا نام جو 42 پشتوں سے یادو بنسی چلا آتا تھا ، شور سینی پڑ گیا
سینی کے بعد پانچ پشت تک کے فرمانروا شور سینی کہلاتے رہے یعنی شور اور سینی کے بعد اور شری کرشن جی سے قبل شورسینی بنس مشہور رہا ۔ مگر شری کرشن جی کے عہد میں شور سینی بنس کی بجائے یادو بنس زیادہ مروج رہا
مرقع میوات از خانزادہ شرف الدین احمد شرف صفحہ نمبر 23 پہ درج ہے :
راجہ دُورتھ کا بیٹا شور اور اس کا بیٹا سینی پیدا ہوا - تو انہی باپ بیٹوں کے نام پر قوم کا نام جادو بنسی سے بدل کر شورسینی مشہور ہوگیا - جو راجہ زیادہ زبردست اور دھرماتما ہوا ہے اس کے نام پر قوموں کا نام بھی مشہور ہوتے رہے ہیں لیکن راجہ سینی کے بعد صرف پانچ پشت تک ہی یہ نام مشہور رہا اسکے بعد سری کرشن کے زمانے میں وہی سابقہ یادو نام مشہور ہوا -
امین التواریخ از مولانا نور محمد معاون فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 پہ راجہ شور کا نام درج ہے
راجہ انور جنجوعہ کی کتاب "تاریخ بھٹی راجپوت" کے صفحہ نمبر 5 پہ دیے گئے شجرہ نسب میں راجہ شور بن دیورت کا نام درج ہے
راجہ شینی کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
شینی بن شُور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Rawalpindi West Ridge
RAWALPINDI