PSO BMC unit
"اساتذہ کی بے عزتی قابلِ مزمت ہے۔ اس رویے کی کبھی تائید نہیں کی جا سکتی"۔ طلباء الائنس کے نمائندوں نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنٹرولر امتحانات کے ساتھ بے ادبی کے رویے کو کبھی سراہا نہیں جا سکتا۔الائنس کی طرف سے اگر تلخ کلامی ہوئی ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں اور رسم و رواج کے مطابق ان کے پاس میڑ لیجانے کے لیے تیار ہیں ۔اس کو بہانہ بنا کر طلباء کے امتحانات منسوخ کر کے ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنا نا قابلِ قبول ہے ۔ طلباء کی ایک غلطی کو سیاسی رنگ دیکر کرپشن کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش کی گئی ہے۔ الائنس کے نمائندوں کا مزید کہنا ہیں کہ جلد از جلد طلباء کے نئے ڈیٹ شیٹس جاری کئے جائیں تا کہ طلباء دوبارہ اپنی تیاری جاری رکھ سکیں ۔
بی ایم سی طلباء الائنس
(پی ایس او ,پی ایس ایف، بی ایس اے سی، بی ایس او)
17/04/2022
بسماللہ الرحمٰن الرحیم۔
معزز صحافی حضرات و دوست احباب
السلام علیکم۔
آج آپ سب کو زحمت دینے کا مقصد ایک اہم شعبہ کی زبوں حالی کی طرف توجہ دلانا یے تاکہ آپ دوست ہمیشہ کی طرح ایک۔بار پھر ہماری آواز صاحب اقتدار اور ہماری فریاد عوام تک پہنچانے میں آپنا کردار ادا کرسکیں۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میڈیکل کے شبعے میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں نمایاں نام بولان میڈیکل کالج کا رہا یے
اب تک ملک بھر بلکہ بیرون بھی صحت کے شبعہ میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز اس تاریخی ادارے سے گریجویٹ ہوئے ہیں۔
یہ ادارہ بلوچستان کی تاریخ میں اہم سنگ میل کی حثیت رکھتا ہے صوبے بھر کے غریب مزددور قلم کار ہم اور اپ یعنی زیر دست طبقے سے تعلق رکھنے والے ہونہار محنتی بچوں کے میڈیکل کی تعلیم کے حوالے سے مواقع فراہم کرتا ہے
معزز صحافی حضرات۔
سال 2020 ء کے آواخر میں بولان میڈیکل کالج کے اپنے پرانی حیثیت میں بحالی کے بعد حکومت کی جانب سے ادارے کے بہتری طلباء و طالبات کو بہترین سہولتوں دینے تاکہ طلباو طالبات بغیر کسی رکاوٹ و ذہنی دباو اور انتشار کے اپنی پڑھائی جاری رکھ سکیں خطیر رقم فنڈ کی شکل میں جاری ہوئے۔ (ضروری ثبوت جس دوست کو درکار ہو فراہم کئے جائیں گے۔)
مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا سہولتیں تو درکنار گزشتہ 18ماہ سے طلباو طالبات کو ملنے والی سکالرشپ کا اجرا تک نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے طلبا و طالبات کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔
معزز صحافی حضرات۔
جس طرح یہ جان کر آپ سب کو خوشی ہوئی ہوگی کہ بولان میڈیکل کالج میں مختص سیٹوں میں اضافہ کیا گیا تاکہ صوبے بھر میں آبادی کی تناسب سے ڈاکٹرز کی کمی پوری ہوسکے ۔ مگر دوسری جانب اپ سب کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ سیٹوں میں اضافے کے بعد دانستہ یا غیر دانستہ طورپر تین نجی ہاسٹلز کو ختم کردیا گیا جس کی وجہ سے سٹوڈنس کی رہائش کے حوالے سے بحران پیدا ہو گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تعداد کے لحاظ سے مزید ہاسٹلز کا انتظام کیا جاتا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہاسٹلز میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے گرلز ہاسٹل میں سٹور روم میس ٹی وی ہال میں بھی درجنوں طالبات رہائش پر مجبور ہیں ایسے میں ہڑھائی کا متاثر ہونا لازمی امر یے۔
معزز صحافی حضرات۔
جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا کہ خطیر رقم فنڈ کی شکل میں حکومت کی جانب سے جاری کیے اور ادارے نے خرچ کر لیے مگر بدقسمتی سے نہ تو پینے کے پانی کا مسئلہ ختم ہو سکا ہے اور نہ ہی ہاسٹلز میں کسی قسم کے مرمت و ترقیاتی کام ہوسکے یہاں تک کہ الیکٹرک و پلمبنگ کے معمولی نوعیت کے مرمت کے کام بھی انتظامیہ نہ کراسکی ہے اور طلباء اپنی مدد آپ کے تحت یہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ باقی ہاسٹلز کی حالت قابل رحم ہوچکی ہے۔
معزز صحافی حضرات
کالج انتظامیہ کی ترحیحات سمجھ سے بالاتر ہیں طلبا کو سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے فنڈز کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے غیر ضروری اشیاءخرید کر عوامی پیسہ ضائع کیا جارہا ہے۔ اور جلد غیر ضروری اور غیراستعمال شدہ اشیاء اونے پونے نیلام کیے جائیں گے یا پڑھے پڑھے ناکارہ ہوجائیں گے۔
جب کے دوسری جانب نہ تو لائبریری کو توجہ دی گئ نہ ہاسٹلز کو۔
حکومت بلوچستان وزیراعلیٰ بلوچستان۔ صوبائی وزیر محمکہ صحت سے ایپل کرتے ہیں کہ سٹوڈنس سکالرشپ جلد از جلد جاری کئے جائیں۔
ہاسٹلز کی مرمت کی جائے
نئے ہاسٹلز کا انتظام فوری کیا جائے۔
کالج گزشتہ 18ماہ سے خرچ ہونے والے فنڈ کا احتساب کیا جائے تاکہ سٹوڈنس اور انکے ہاسٹلز کے نام پر خرچ ہونے والے فنڈز کا پتہ لگایا جاسکے تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کے عناصر کو طلبا و طالبات کے استحصال کرنے کی جرات نہ ہوسکے۔
معزز صحافی حضرات اخر میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں اپ سب کے توسط سے کہ اگر ہمارے جائز مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا، اور ان تمام ناگزیر حقائق کو نظر انداز کیا گیا تو جلد پوری شدت کے ساتھ احتجاج کا اغاز کیا جائے گا جس میں وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا بھی شامل ہوگا۔
آپ سب کا ایک بار پھر شکریہ۔
بولان میڈیکل کالج سٹوڈنس آلائنس۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج اور گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پشتونخوا اسٹوڈنٹس ارگنائزیش بی ایم سی یونٹ۔
پچھلے پانچ مہینوں سے صوبے کے ڈاکٹرز عوامی سہولیات کے لئے سراپا احتجاج ہے اور انہی مطالبات کو حکومتی وزراء نے بار بار تسلیم کیا ہے ۔ لیکن اسکے باوجود نوٹیفکیشن جاری نہ کرنا اور اج ڈاکٹرز پر پولیس کی غنڈہ گردی سمجھ سے بالا تر ہے۔ ہمارے صوبے کے وزیر اعلی نے اس صوبے کا بیھڑا غرق کر دیا ہے سارے صوبے میں احتجاج ہی احتجاج ہے لیکن صاحب ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں ۔
ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گرفتار ڈاکٹرز کو جلد از جلد رہا کیا جائے اور ہسپتالوں سے ایف سی اور پولیس کو واپس نکالا جائے ، ورنہ بھرپور احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا ۔
10/03/2022
غني ټول عمر غني وو، ټول مزاج یې د باغـي وو
نه مــلا وو؛ نه قــاري وو؛ لېـونی وو؛ فلسـفي وو...!
غنی خان.
ASHRAF GHANI IS HERO OF PASHTOON AFGHANS
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the organization
Telephone
Website
Address
Bolan Medical College Quetta
Quetta
0812