Quetta News

Quetta News

Share

22/05/2026

بلوچستان کی باصلاحیت بیٹی ولولہ بشیر کاکڑ نے امریکا کی معروف یونیورسٹی سے ماسٹرز ڈگری حاصل کر لی ، پہاڑوں کی سرزمین بلوچستان کے پسماندہ علاقے بوستان، کچلاک سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت بیٹی ولولہ بشیر خان کاکڑ نے امریکا کی معروف جامعہ "جارج ٹاؤن یونیورسٹی" سے بین الاقوامی ترقیاتی پالیسی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرکے بلوچستان کا نام روشن کر دیا۔
تفصیلات پہلے کمنٹ میں

21/05/2026

معزز سندھیوں کیلئے پیغام ۔۔۔۔۔سردار حبیب خان پہٹان 👍👍

16/05/2026

یہُ وہ۔ مبینہ خاتون کومل بٹ ہیں جو کہ سابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایم این اے عادل بازئی کی وجہ تنازعہ بتائی جاتی ہیں، جو پہلے پی ٹی وی سے منسلک تھیں

15/05/2026
15/05/2026

قلعہ سیف اللہ کے علاقے کڑنگ میں دو ٹرکوں کے درمیان خوفناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ حادثہ تیز رفتاری اور بے احتیاطی کے باعث پیش آنے کی اطلاعات ہیں۔ اطلاع ملتے ہی مقامی افراد اور ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی، جنہوں نے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیا

15/05/2026

اسلام آباد: رکنِ قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ پر سنگین الزامات عائد کر دیے

اپنے خطاب میں ملک عادل خان بازئی کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے انہیں ایک لڑکی کا نمبر بھیج کر اس سے ملاقات کرنے کا کہا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے ڈی سی سے سوال کیا کہ وہ لڑکی سے کیوں ملیں تو جواب دیا گیا کہ “یہ لڑکی آپ کی بہت بڑی فین ہے

ایم این اے کے مطابق جب انہوں نے ملاقات سے انکار کیا تو ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے مبینہ طور پر دھمکی آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “تمہارا پلازہ گرا کر میں نے ٹھیک کیا ہے، تمہارے ساتھ یہی ہونا چاہیے”۔ ملک عادل خان بازئی نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں یہ بھی کہا گیا کہ “تمہیں دیکھ لیں گے

انہوں نے قومی اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ اس تمام معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین ہو سکے

11/05/2026

ولی تنگی ڈیم، کوئٹہ کے گرد پھیلے ہوئے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں خاموشی، پانی اور پہاڑ مل کر فطرت کا ایک خوبصورت منظر بناتے ہیں۔ یہ جگہ ولی تنگی ڈیم کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اس کا نام تو سنتے ہیں مگر اس کی اصل خوبصورتی اور تاریخ سے کم ہی لوگ واقف ہوتے ہیں۔

یہ ڈیم بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تقریباً بیس سے پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کوئٹہ سے مشرق کی طرف سفر شروع کریں تو راستہ آپ کو آہستہ آہستہ پہاڑوں کے درمیان لے جاتا ہے۔ یہی راستہ آگے چل کر مشہور وادی اورک ویلی تک پہنچتا ہے۔ اس وادی کے آخری حصے میں پہاڑوں کے درمیان یہ خوبصورت ڈیم واقع ہے۔

ولی تنگی دراصل ایک تنگ پہاڑی درہ ہے۔ پشتو زبان میں “تنگی” اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں دونوں طرف پہاڑ بہت قریب ہوں اور درمیان میں ایک تنگ راستہ یا وادی بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام کو ولی تنگی کہا جاتا ہے۔

اس ڈیم کی تعمیر انیس سو ساٹھ کی دہائی میں کی گئی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد کوئٹہ شہر اور اس کے گرد و نواح کو پانی فراہم کرنا تھا۔ بلوچستان چونکہ ایک خشک خطہ ہے اس لیے بارش اور پہاڑوں سے آنے والے پانی کو محفوظ کرنا بہت ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے یہ ڈیم بنایا گیا تاکہ بارشوں اور پہاڑی نالوں کا پانی جمع کیا جا سکے۔

ولی تنگی ڈیم کا پانی دراصل زرغون کے پہاڑوں سے آنے والے چھوٹے چھوٹے نالوں اور بارش کے پانی سے جمع ہوتا ہے۔ جب بارشیں اچھی ہوں تو یہ جھیل بھر جاتی ہے اور نیلا پانی پہاڑوں کے درمیان ایک خاموش آئینے کی طرح نظر آتا ہے۔ دور سے دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے سخت اور خشک پہاڑوں کے درمیان فطرت نے اچانک ایک نرم اور پرسکون منظر پیدا کر دیا ہو۔

اس جگہ کی خوبصورتی اس کی سادگی میں ہے۔ یہاں نہ کوئی شور ہے نہ بڑی سیاحتی ہجوم۔ صرف پہاڑ، پانی اور خاموشی۔ شام کے وقت جب سورج پہاڑوں کے پیچھے ڈوبنے لگتا ہے تو سنہری روشنی پانی پر بکھر جاتی ہے۔ اس لمحے کی خاموشی انسان کو قدرت کے بہت قریب محسوس کراتی ہے۔

ولی تنگی ڈیم کے قریب ایک اور خوبصورت منظر بھی موجود ہے۔ اورک ویلی کے آخر میں ایک چھوٹا سا آبشار بہتا ہے جو اس علاقے کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔ بارشوں کے موسم میں جب پانی زیادہ ہوتا ہے تو یہ آبشار اور بھی دلکش لگتا ہے۔ بہت سے لوگ پہلے اورک ویلی کی سیر کرتے ہیں اور پھر آگے بڑھ کر ولی تنگی ڈیم تک پہنچتے ہیں۔

یہ مقام کوئٹہ کے لوگوں کے لیے ایک پر سکون تفریحی جگہ بھی ہے۔ چھٹی کے دن خاندان اور دوست یہاں آ کر وقت گزارتے ہیں۔ کوئی پہاڑوں کے دامن میں بیٹھ کر چائے پیتا ہے اور کوئی خاموشی سے پانی کو دیکھتا رہتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی سرزمین بظاہر خشک ضرور لگتی ہے مگر اس کے پہاڑوں کے اندر ایسی کئی خوبصورت جگہیں چھپی ہوئی ہیں۔ ولی تنگی ڈیم بھی انہی پوشیدہ مقامات میں سے ایک ہے جہاں فطرت اپنی سادہ مگر دل موہ لینے والی صورت میں نظر آتی ہے۔ یہاں آ کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ پہاڑوں کی خاموشی میں بھی ایک عجیب سی زندگی اور سکون موجود ہے۔
پچھلے کچھ برسوں سے والی تنگی بند کے اطراف میں عام لوگوں کا داخلہ محدود کر دیا گیا ہے اور زیادہ تر وہاں کمپنی یا متعلقہ اداروں کے افراد ہی جا سکتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ علاقہ پانی کے ذخیرے اور بعض حساس تنصیبات کے قریب آتا ہے، اس لئے احتیاطی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔
ہم نے جو تحریر لکھی وہ اس مقام کی قدرتی خوبصورتی اور اس کی جغرافیائی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے تھی۔ بہت سے لوگ ماضی میں یہاں تک جاتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے یہ جگہ سیاحوں میں معروف ہوئی۔ بہرحال قارئین کے لئے یہ معلومات جاننا بھی ضروری ہے کہ اس وقت وہاں جانے سے پہلے مقامی اجازت اور حالات کے بارے میں ضرور معلوم کر لینا چاہئے.

Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Shahrah-e-Zarghoon
Quetta
78000