Reporter Quetta

Reporter Quetta

Share

17/04/2026

نادرا نے MDCAT 2026 کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دے دی، 18 سال سے کم عمر طلبہ کو Juvenile Card حاصل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد — پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے MDCAT 2026 کے امیدواروں کے لیے اہم اعلان کرتے ہوئے نادرا (NADRA) کی بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

اس نئی پالیسی کے تحت تمام امیدواروں کے لیے امتحان کے دن بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے امیدواروں کو اصل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) ساتھ لانا ہوگا، جبکہ 18 سال سے کم عمر کے امیدواروں کے لیے نادرا کا جاری کردہ Juvenile Registration Card (جونئیر رجسٹریشن کارڈ یا Juvenile Smart Card) لازمی قرار دیا گیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق، بغیر درست شناختی دستاویز اور بائیو میٹرک تصدیق کے کوئی بھی امیدوار MDCAT 2026 میں شرکت نہیں کر سکے گا۔ B-Form یا دیگر دستاویزات اب قبول نہیں کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد امتحانی عمل کو مزید شفاف، محفوظ اور دھاندلی سے پاک بنانا ہے۔

نادرا کے مطابق، Juvenile Card 18 سال سے کم عمر کے پاکستانی بچوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا CNIC لازمی ہے اور بچے کی موجودگی کے ساتھ والدین کی بائیو میٹرک تصدیق بھی ضروری ہوتی ہے۔ طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بروقت نادرا کے قریبی مرکز سے اپنا Juvenile Card بنوا لیں تاکہ MDCAT رجسٹریشن اور ٹیسٹ کے دوران کوئی پریشانی نہ ہو۔

یہ پالیسی MDCAT 2026 کے لیے فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ تمام متعلقہ طلبہ و طالبات کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دستاویزات جلد از جلد مکمل کر لیں۔

17/04/2026

بلوچستان میں ایمبولینس بحران: 100 سے زائد گاڑیاں مبینہ طور پر سیاست دانوں کے گھروں میں


بلوچستان میں سرکاری ایمبولینسوں کے استعمال سے متعلق تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 100 سے زائد سرکاری ایمبولینسیں سرکاری ڈیوٹی کے بجائے بااثر سیاسی شخصیات اور سرداروں کے گھروں میں کھڑی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض سیاست دان، خان اور نواب سرکاری کھاتے سے فراہم کی گئی ایمبولینسیں اپنے گھروں میں ذاتی ایمرجنسی کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری سہولت میسر ہو سکے۔

دوسری جانب عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبے کے کئی سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اسٹریچر تک میسر نہیں جبکہ غریب مریض ایمبولینس جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر ذاتی استعمال میں رکھی گئی سرکاری ایمبولینسیں فوری طور پر واپس لی جائیں اور انہیں دوبارہ عوامی خدمت کے لیے ہسپتالوں اور ریسکیو سروسز کے حوالے کیا جائے۔

حکومتی سطح پر اس معاملے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کی جائیں تو بڑی تعداد میں سرکاری ایمبولینسوں کے اصل مقامات کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔

یہ رپورٹ جمعے کے روز بلوچستان 24 پر نشر ہوئی تھی ۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Quetta