Baloch Officers
بلوچستان کے مقامی پنجابی بمقابلہ اصلی پنجابی اور پنجابی فوج کی سازش!
بلوچستان میں لاکھوں پنجابی بولنے والے آباد ہیں۔ اور ان کی رشتہ داریاں بلوچوں میں ہیں اور ان کے آباؤاجداد کے قبرستان یہاں پر ہیں۔ بلوچ اور پنجابی فوج کے مابین ۷۷ سالہ لڑائی کے دوران کسی پنجابی آباد کار کے ناک سے نہ خون بہا، نہ ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا گیا، نہ ان کے کاروبار نقصان پہنچایا گیا اور نہ ان کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔
کوئیٹہ میں نواب بگٹی کا مکان چاروں طرف سے پنجابیوں کے مکانات میں گھرا ہوا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی و دیگر کالجوں میں کبھی بھی پنجابی ہونے پر کسی طالب علم یا استاد کو تعصب یا تنگ نظری کی بنیاد غیر سمجھا گیا ہے۔ حتی کہ پنجابی و اردو بولنے والے کی ایک کثیر تعداد بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ممبر تھے اور شائد اب ہیں۔
نواب محمد اکبر خان بگٹی کو شہید کرنے کے بعد عوامی ردعمل کو دبانے اور بلوچستان میں حقیقی پنجابی فوج کے خلاف ابھرنے والی تحریک کو دبانے کیلئے خود پاکستان کی جاسوسی اداروں نے بلوچستان کے مظلوم مقامی پنجابیوں قربانی کا بکرا بنا کر قتل کرنا شروع کردیا اور الزام بلوچ آزادی پسندوں کے تھونپ دی۔ اور ایک مصنوعی خوف کا ماحول بلوچستان کے مقامی پنجابی آبادی میں پیدا کی گئی۔ جس سے چند خاندان پنجاب منتقل ہوگئے۔ مگر مقامی پنجابی آبادی کو فورا اس سازش کا پتہ چل گیا اور انہوں اس سختی سے مزاحمت کی۔ اور جو لوگ بلوچستان سے منتقل ہوکر پنجاب گئے تھے کچھ ہی وقت میں انہیں پتہ چل گیا نہ تو پنجاب کا پنجابی انہیں قبول کرتا ہے اور نہ ہی ان کا مزاج اور رہن سہن پنجاب کے پنجابیوں سے میل کھاتا ہے اس لئے وہ واپس بلوچستان چلے آئے اس کی گواہی کوئیٹہ میں بسنے والے پنجابیوں سے کی جاسکتی۔ کچھ کوئیٹہ کے مقامی پنجابی اس فوجی سازش کے شکار ہوئے اور ان کی شہادت کو جواز بناکر پاکستانی پنجابی فوج نے بلوچوں پر وہ ستم ڈھائے کہ الامان و الحفیظ۔
لیکن مقامی پنجابیوں کے بااثر اشخاص کے دباؤاور پلان کے فائر بیک کرنے کے ڈر سے فوج نے اپنی مذموم سازش سے ہاتھ اُٹھا لیا۔
اس کے بعد آج لاکھوں مقامی پنجابی آبادی بلوچستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں رہتے ہیں۔ ان پر نہ کوئی ہاتھ اُٹھاتا ہے اور نہ کوئی نقصان پہنچاتا ہے۔ بلوچستان کے مقامی پنجابی کے خلاف فوج کی سازش کی دکان بند ہونے کے بعد اب انہوں نے پنجابی مزدور کا کارڈ کھیلنا شروع کیا ہے اور جو لوگ مارے جاتے ہیں یا نقصاں اُٹھاتے ہیں وہ پنجاب کے باشندے ہیں
بلوچوں کو اگر پنجابیوں سے نسلی یا زبان کی بنیاد پر اگرکوئی مسئلہ ہوتا تو بلوچستان میں لاکھوں مقامی پنجابی آباد ہیں اور ان کو نشانہ بنانا یا نقصان پہنچانا اتنا ہی آسان ہے جتنا کسی بچے کا چیونٹی کو مارنا۔ لیکن بلوچستان کا مقامی پنجابی اتنا ہی بلوچستان کا فرزند ہے جتنا ایک بلوچ۔ جس طرح ٹکے ٹکے کے اصلی پنجابی فوج کے ساتھ، بلوچوں کی جنگ پر نسل پرستانہ بیانئیے جاری کررہے ہیں وہ نسل پرستی اور بالادستی کی بدترین شکل ہے ان بیانات کو دیکھ کر ہی اندازہ لگائے کے پاکستانی فوج کی بلوچستان میں کاروائیاں کتنی بھیانک اور خونخوار ہوں گے اور بلوچ ۷۷ سال مسلسل اس ریاستی تشدد کا شکار ہے۔ بلوچ کے سیاسی اختیار کا فیصلہ کورکمانڈر ، جاسوسی ادارے اور آرمی چیف کرتے ہیں۔ اور ان سے فائدے سرفراز بگٹی، جمال رہیسانی اور انوارالحق کاکڑ قبیل کے لوگ اُٹھاتے ہیں۔
پنجابی فوج اور پنجابی دانشور ہوش کے ناخن لیں۔ بلوچستان کا مسئلہ نہ اتنا سادہ کہ ۵۰ ہزار روپوں پر بھرتی ٹوئٹر والوں کے دو لکیری تحریروں سے حل ہوگا اور نہ پاکستان کی فوج کشی اور بلوچ ٹٹ پونجیوں کی فوج بھرتی کرنے سے۔
یہ مسئلہ سنجیدگی سے تاریخی و سیاسی تناظر میں جانچ پڑتال سے کسی کروٹ بیٹھے گا۔
باقی پاکستانی وزیر اععظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، اور بلوچستان کنٹونمنٹ سرکار کے وزیر اعلی اپنا روزی روٹی کے خاطر بلاشک جتنا چاہے دعوی کریں۔ کوئی ان کے ناک کو نہیں کاٹے گا.
Waheed Baloch
26/09/2021
ساری آوازیں دبا دو سارے بندے مار دو
آپ کی مرضی ہے آقا جتنے بندے مار دو
پہلے ہی کڑواہٹوں کی زد میں ہے میری زمیں
اور تم اوپر سے میرے میٹھے بندے مار دو
اب تو اپنے جھوٹ سے نظریں ہٹانے کے لیے
ایک ہی رستہ بچا ہے سچے بندے مار دو
اپنے دامن پر لگے یہ داغ دھونے کے لیے
کیا عجب کلیہ ہے سارے اجلے بندے مار دو
یوں ہی درد سر بنے رہنے ہیں یہ شوریدہ سر
یوں کرو اک ایک کر کے اچھے بندے مار دو
جاں پناہ اب مارنے میں ہچکچاہٹ کس لیے
جیسے پہلے مارتے تھے ویسے بندے مار دو
یہ رہیں گے تو سوال اٹھتے رہیں گے حشر تک
مشورہ ہے میرے جیسے سارے بندے مار دو
بعد میں تحقیق کرنا ان کی گستاخی ہے کیا
گر بہت جلدی میں ہو تو پہلے بندے مار دو
اب جو گھر سےاٹھ رہی ہیں میتیں تو بین کیوں
کس نے بولا تھا کہ تم اوروں کے بندے مار دو
رات کی تحویل میں دے دو مرا شہر ملال
اور چن چن کر مرے جگنو سے بندے مار دو
سلوٹیں پہنا دو چہروں کو مکمل سوگ گی
اور پھر چوکوں میں ہنستے گاتے بندے مار دو
چھوڑیے دشمن سے لڑنا آپ کا شیوہ نہیں
آپ کے جب جی میں آئے اپنے بندے مار دو
خامشی کی لہر آہٹ ہے کسی طوفان کی
اتنی آوازیں اٹھیں گی جتنے بندے مار دو
کیا خبر کب گھر اٹھا لاو کوئی باہر کی آگ
کیا خبر کب کس سے ڈالر لے کے بندے مار دو
احمد فرہاد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Zarghoon Road
Quetta
87300