Mir Aslam Rind

Mir Aslam Rind

Share

12/04/2026

مرگ عشق

Photos from Mir Aslam Rind's post 22/03/2026

عالمی کشیدگی پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی اور قومی یکجہتی ہمارے لئے ناگزیر ہے

ذرا جرآت کے ساتھ
تحریر ؛ میر اسلم رند

دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر نیا دن کسی نہ کسی غیر یقینی صورتحال کو جنم دے رہا ہے بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت توانائی کے ذخائر اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں ان حالات کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑ رہا ہے جہاں پہلے ہی معاشی دباؤ مہنگائی اور توانائی کے بحران جیسے مسائل عوام کی زندگی کو مشکل بنا چکے ہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں صنعتوں کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور یوں مہنگائی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ایسے میں عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے جس کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے ان تمام تر مشکلات کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ خارجہ پالیسی کی تشکیل اور حساس عالمی معاملات میں فیصلہ سازی حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے ریاستی سطح پر کیے جانے والے فیصلے بسا اوقات ایسے عوامل کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں جو عام عوام کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ہم بطور قوم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ حکومت حالات کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہے اور وہ بہتر انداز میں جانتی ہے کہ اس نازک مرحلے پر ملک کے مفاد میں کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں تاہم اس حقیقت کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے اور وہ ہے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ اس وقت پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے ان میں کسی بھی قسم کا تضاد انتشار یا باہمی اختلاف نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ہم اس وقت اس پوزیشن میں نہیں کہ داخلی محاذ پر کمزوری کا شکار ہو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی دباؤ اور اندرونی چیلنجز کے اس حالات میں قومی یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے توازن اعتدال اور امن پسندی پر مبنی رہی ہے اسلامی دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ دینی ثقافتی اور تاریخی رشتوں پر استوار ہیں او آئی سی جیسے فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے مسائل کو موثر انداز میں اجاگر کیا ہے اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے موجودہ حالات میں بھی پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ کشیدگی میں کمی آئے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے یہی وہ نقطہ ہے جہاں داخلی استحکام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اگر ملک کے اندر ہی بے چینی بداعتمادی اور اختلافات کا ماحول پیدا ہو جائے تو ہماری عالمی سطح پر پوزیشن بھی کمزور پڑ جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم بطور قوم ایک پیج پر آئیں اور اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں علمائے کرام دانشوروں سیاسی اور سماجی رہنماؤں پر بھی اس وقت ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے انہیں چاہیے کہ وہ اپنے خطابات اور بیانات میں جذباتیت کے بجائے حکمت صبر اور برداشت کو فروغ دیں اشتعال انگیزی وقتی طور پر توجہ حاصل کر سکتی ہے مگر اس کے نتائج اکثر نقصان دہ ہوتے ہیں اسلام ہمیں اعتدال امن اور مکالمے کا درس دیتا ہے اور یہی وہ اصول ہیں جنہیں اپنانے کی آج اشد ضرورت ہے یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جذبات ہمیشہ درست فیصلوں کی ضمانت نہیں دیتے تاریخ گواہ ہے کہ بے قابو جذبات اکثر تباہی کا پیش خیمہ بنتے ہیں جبکہ صبرناستقامت اور دانائی قوموں کو مشکلات سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہیں آج ہمیں بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے ایک عملی اور مثبت پیش رفت یہ ہو سکتی ہے کہ ملک میں ایک مؤثر قومی مکالمہ شروع کیا جائے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز حکومت اپوزیشن ادارے علما اور عوام ایک مشترکہ میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع معاشی اصلاحات اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھی سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا تاکہ ہم بیرونی دباؤ کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ وقت آزمائش کا ہے مگر یہی وقت ہماری اجتماعی دانش صبر اور اتحاد کا بھی امتحان ہے ہم ان حالات میں تضادات کے متحمل نہیں ہو سکتے ہمیں ایک قوم بن کر سوچنا ہوگا ایک قوم بن کر فیصلے کرنے ہوں گے اور ایک قوم بن کر ہی آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ آج پاکستان کو سب سے بڑھ کر جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے قومی یکجہتی باہمی اعتماد اور مشترکہ جدوجہد اگر ہم نے یہ راستہ اختیار کر لیا تو کوئی بھی عالمی طوفان ہمیں کمزور نہیں کر سکے گا

20/03/2026

چاند رات و عید کی خوشیاں تمام اہل وطن کو مبارک ہو لیکن قومی یکجہتی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے

ذرا جرآت کے ساتھ
تحریر ؛ میر اسلم رند

رمضان المبارک اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو فضا میں ایک خاص سی خوشبو ایک روحانی تازگی اور خوشیوں کی ہلکی ہلکی دستک محسوس ہونے لگتی ہے چاند رات صرف ایک رات نہیں بلکہ صبر عبادت اور قربانی کے مہینے کی تکمیل کا خوبصورت لمحہ ہے یہ وہ گھڑی ہوتی ہے جب آسمان پر نظر آنے والا باریک سا چاند نہ صرف عید کی آمد کی خوشخبری دیتا ہے بلکہ ہمیں اتحاد برداشت اور شکرگزاری کا درس بھی دیتا ہے
بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے کچھ لوگوں کی طرف سے عید جیسے مقدس اور خوشیوں بھرے موقع کو بھی متنازعہ بنانے کی ایک روش سامنے آ رہی ہے حالانکہ محکمہ موسمیات کئی دن پہلے سائنسی بنیادوں پر چاند کی عمر اور رویت کے امکانات کے بارے میں واضح اعلان کر دیتا ہے جب یہ بتایا جاتا ہے کہ چاند کی عمر کم ہونے کی وجہ سے اس کا نظر آنا ممکن نہیں تو اس کے باوجود مختلف آراء کی بنیاد پر الگ الگ عید منانا نہ صرف انتشار پیدا کرتا ہے بلکہ روزہ داروں کے لیے بھی ایک الجھن کا سبب بنتا ہے دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں عید کا اعلان ریاستی سطح پر کیا جاتا ہے اور پوری قوم اس فیصلے پر متحد ہو کر خوشیاں مناتی ہے مگر ہمارے ہاں ہر شخص یا گروہ اپنی رائے کو حتمی سمجھ کر اجتماعی نظم کو نظر انداز کر دیتا ہے یہ طرزِ عمل نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی کمزور کرتا ہے یہ بات درست ہے کہ ہمیں اپنی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کا حق حاصل ہے اور ایک باشعور قوم ہمیشہ اپنے حکمرانوں سے سوال کرتی ہے لیکن جہاں بات ملکی مفاد قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کی ہو وہاں ذاتی یا سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال دینا ہی دانشمندی ہے ایسے مواقع پر تضاد پیدا کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں آج کل یہ رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہم بحیثیت قوم بعض اوقات اپنے ہی قومی مفادات کو نظر انداز کر کے دوسروں کے مفادات کا تحفظ کرنے لگتے ہیں یہ سوچ ہمیں کمزور کرتی ہے ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو مشکل وقت میں ایک پیج پر کھڑی ہو اختلافات کے باوجود اپنے ملک کے مفاد کو ترجیح دے گزشتہ دنوں اعلیٰ سطح پر ہونے والی ملاقاتوں میں ملکی حالات پر علمائے کرام کو اعتماد میں لیا گیا مگر اس کے بعد اختلافات کا جو طوفان اٹھا اس نے کئی سوالات کو جنم دیا علمائے کرام ہماری رہنمائی کا اہم ذریعہ ہیں اور ان سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ امت کے اتحاد بھائی چارے اور ملکی استحکام کو فروغ دیں گے اسلام بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہم نظم و ضبط اتفاق اور اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیں ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں امت کے اتحاد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف مذہبی جذبے کو برقرار رکھیں بلکہ اپنے ملک کے حالات اور ضروریات کو بھی مدنظر رکھیں چاند رات کی خوشیوں میں جب ہم اپنے گھروں کو سجاتے ہیں مہندی لگاتے ہیں اور نئے کپڑوں کی تیاری کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اصل خوشی اتحاد میں ہے عید کا دن صرف نئے لباس پہننے کا نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے رنجشیں ختم کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت بانٹنے کا دن ہے آئیں اس چاند رات کو یہ عہد کریں کہ ہم اختلاف کے باوجود انتشار نہیں پھیلائیں گے بلکہ اپنے وطن پاکستان کے مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے۔ ہم ایک قوم بن کر ایک آواز بن کر عید کی خوشیوں کو منائیں گے اس کالم کے ذریعے آپ سب کو چاند رات کی ڈھیروں خوشیاں اور عید مبارک اللہ تعالیٰ ہمیں اتحاد محبت اور ملکی استحکام کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
عید مبارک

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Quetta Cantonment?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


بلوچ اسٹریٹ
Quetta Cantonment
87300