AMN TV

AMN TV

Share

11/05/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب

🟥 مولانا شیخ ادریس نہ تو کسی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کا حصہ تھے اور نہ ہی وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف گفتگو کرتے تھے، بلکہ وہ درس و تدریس میں مصروف ایک دینی شخصیت تھے۔ پھر سوال یہ ہے کہ انہیں دن دہاڑے کیوں شہید کر دیا گیا؟

🟥 ہم نے پہلے دن سے دہشت گردی کے خلاف کھل کر بات کی ہے۔ 2010 اور 2011 میں ہماری قیادت اور کارکن دہشت گردوں کے نشانے پر تھے۔

🟥 ہمارا قصور صرف یہ تھا کہ ہم عوام کو یہ بتاتے تھے کہ یہ مسئلہ صرف عوامی نیشنل پارٹی کا نہیں بلکہ پوری قوم اور اس سرزمین کا مسئلہ ہے۔

🟥 یہ جنگ ریاست نے مسلط کی، اور اس کے پراکسی کردار سب کے سامنے ہیں۔ یہ سب ریکارڈ پر ہے کہ جب روس افغانستان آیا تو انہی ملیٹنٹس کو یہاں تربیت دی گئی۔

🟥 ہم اپنی سرزمین کے تحفظ کی بات کرتے تھے، اسی لیے نشانے پر تھے۔ اُس وقت کوئی ہمارے ساتھ کھڑا نہیں تھا۔

🟥 چاہے شیخ ادریس ہوں، بنوں کے 29 شہداء ہوں یا کوئی بھی پشتون جو مارا جا رہا ہو، ہمیں دکھ ہوتا ہے ، کیونکہ ہم سب پشتون ایک ہیں اور یہ بدامنی ہمارا قومی مسئلہ ہے۔

🟥 ہمارے پارٹی رہنما مولانا خانزیب کو ہیڈکوارٹر میں دن دہاڑے شہید کیا گیا۔ ہم نے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کیا، وزیراعظم نے اعلان بھی کیا، مگر آج تک اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔

🟥 حالات دن بدن خوفناک ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ، مارٹر گولے، خودکش حملے اور بم دھماکے مسلسل ہو رہے ہیں۔ الزام تراشی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، اسمبلی میں سنجیدہ تجاویز دینا ہوں گی۔

🟥 صوبائی حکومت جرگے کرتی ہے اور پھر کہتی ہے کہ ہم بے بس ہیں۔ مرکز پختونخوا کو وفاق کا برابر حصہ نہیں سمجھتا، اور جن کے ہاتھ میں اصل اختیار ہے وہ خود کو اس ایوان کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے۔

🟥 اصل مسئلہ اختیار کا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمارا اختلاف صرف اتنا ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہے، آئین پر عمل کرے، اداروں میں مداخلت نہ کرے، انتخابات میں سیاسی انجینئرنگ نہ کرے اور سیاست سے دور رہے۔ ہمارا جھگڑا کسی ذاتی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی اور قانونی اصولوں پر ہے۔

🟥 اگر کوئی اس بات پر ناراض ہوتا ہے تو ہو جائے۔ ہماری سیاست کا مقصد قوم کی اصلاح اور عوام کی خدمت ہے۔ جو بھی اس راستے میں رکاوٹ بنے گا، ہم اس کے خلاف بات کریں گے۔

🟥 اس صوبے کو بدامنی سے نکالنا ہوگا۔ تقریباً پانچ کروڑ آبادی والے اس خطے میں باجوڑ سے وزیرستان اور جنوبی اضلاع تک ریاستی رِٹ نظر نہیں آتی۔ ہر جگہ دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں۔

🟥 یہاں میڈیا کو بھی کنٹرول کیا جا رہا ہے کہ کون سی خبر چلے گی اور کون سی نہیں۔ اگر کسی خبر میں مخصوص حلقوں کا فائدہ ہو تو وہ چلتی ہے، اور اگر پارلیمنٹ کو متنازع دکھانا ہو تو وہ دکھایا جاتا ہے تاکہ عوام کا اعتماد پارلیمان سے اٹھ جائے۔

🟥 امن و امان کے قیام کے لیے ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق ختم کی جائے اور واضح پالیسی قوم کے سامنے رکھی جائے۔

🟥 جب مولانا خانزیب اور شیخ ادریس شہید ہوئے تو قومی میڈیا نے اسے “قتل” کہا، جبکہ پنجاب میں کسی واقعے پر لفظ “شہادت” استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار کیوں؟

🟥 اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ ملک کے تمام مسائل سیاسی ہیں اور ان کا حل بھی سیاسی لوگ ہی نکال سکتے ہیں۔ یہ ان کا کام نہیں۔

🟥 ہمارے صوبے میں بے پناہ وسائل ہیں، مگر سارا کھیل انہی وسائل پر قبضے کا ہے۔ اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

| |

10/05/2026

شیخ ادریس صاحب کے ساتھ ہمارے خاندانی تعلقات رہے ہیں، اور ان کے لواحقین جو بھی فیصلہ کریں گے ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ہم نے اس معاملے پر سینیٹ میں بھی آواز اٹھائی ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور آج بھی دہرا رہا ہوں کہ PTI، PTM اور TTP ایک جیسے ہیں اور ایک ہی سمت سے ان کی رہنمائی ہو رہی ہے۔

ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی

|

Want your business to be the top-listed Media Company in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Pajagai Road
Peshawar
25000