IPSS
27/03/2020
گھبراہٹ ایک عام انسانی احساس ہے ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی مشکل یا کڑے وقت سے گزرتے ہیں۔ خطرات سے بچاو، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میں عام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہے۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہو جائے، حد سے بڑھ جائے اور ہماری زندگی کے روانی کو متاثر کرنا شروع کر دیں تو پھر یہ نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔
گھبراہٹ کے کچھ علامات ذہنی اور کچھ جسمانی ہوتے ہے جیسا کہ ذہنی علامات میں (ہر وقت پریشانی کا احساس، دل کا دھڑکن محسوس کرنا، تھکن کا احساس، توجہ مرکوز نہ کر پانا، چڑچڑے پن کا احساس، نیند کے مسایل، غصہ، دل کا نہ لگنا، بے ہوش ہونے کا ڈر لگنا میں کمزور محسوس کر رہا ہو وغیرہ)
جسمانی علامات جیسے( دھڑکن کا تیز ہونا، ذیادہ پسینہ انا، پھٹوں میں کھینچاو او درد ہونا، سر چکرانا، بد ہضمی، اسہال وغیرہ)
اب زیادہ تر ایسے بندے کو یقین ہوجاتاہے کہ اس کو کوئی خطرناک جسمانی بیماری لگی ہے یا اس کا شکار ہونے والا ہے پھر اس گھبراہٹ کی شدت اور ذیادہ ہونے لگتا ہے اور بغض لوگوں کوغیر متوقع دورے انا شروع ہوجاتے ہے جس کو پینک(Panic Attack) کہا جاتا ہے جس سے اس بندے کےساتھ اور لوگ بھی تکلیف اور بے چینی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اسی کے ساتھ ڈیپریشن بھی شروع ہوجاتا ہے اور متاثرہ شخص اداس رہنے لگتا ہے جس سے ان کی بھوک ختم ہوجاتی ہے مستقبل تاریک اور نا امیدی کے بادل ان کے خیالات پے طاری ہوجاتے ہے جو اگے اور بیماریوں کے لیے راستہ ہموار کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ہماری قوت مدافعت اس بادلوں میں چھپ جاتے ہے اور ہمارا وجود خود کو ناکارہ اور کمزور سمجھ لیتا ہے اس لیے ہم کسی بھی چھوٹی سے بیماری کا بھی مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے۔
اس وقت ساری دنیا ایک خطرناک حالات کا سامنا کر رہی ہے اور یقیناًہر بندہ ایک ڈر اور خوف دماغ میں لیے عجیب کشمکش کا شکار ہے کیونکہ ہمہیں ایک ایسے چیز کا مقابلہ کرنا ہے جو نظر نہیں ا رہا لیکن موجود ہے پھیل رہا ہے لوگوں کو متاثر بھی کر رہا ہے اور یہاں تک کے موت بھی ریکارڈ ہورہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چلتی پھرتی روٹین زندگی پے بھی اثر انداز ہوا ہے جس کے وجہ سے ہر انسان کے لیے یہ ایک عجیب حالت ہے اور یہ جایز ہے کیونکہ چلتا پھرتا روٹین یک دم بدل جائے اور بیماری لگنے کا اندیشہ بھی ہو تو انسان لازمی طور پر نفسیاتی دباو ڈر اور گھبراہٹ کا شکار ہوگا۔
لیکن کیا یہ ڈر اور خوف ہمیں مرنے سے پہلے مار تو نہیں رہا؟ یہ ڈر ہمیں اور کمزور تو نہیں کر رہا ؟ یہ ڈر ہمارے وجود کو اور بیماریوں کے لیے کھوکھلا تو نہیں کر رہا ؟ یہ سوالات ہم نے پوچھنے ہونگے اپنے اپ سے تبھی تو ہم کسی اندیکھی بلا کا مقابلا کر سکیں گے نہیں تو شاید وبا سے تو بچ جائے لیکن اپنا ڈر موت کے قریب لے جائے۔ اگر اپ کا خوف اپ کو اس بات پے مجبور کر رہا ہے کہ اپ احتیاط کریں، میڈیکل ساینسز کے مطابق جو اقدامات ہم بذات حود کر سکتے ہے جیسے کہ زیادہ بھیڑ میں نہ جانا نہ بنانا، ایک دوسرے سے ایک میٹر فاصلہ رکھنا، ہاتھ صاف رکھنا ، گھروں میں کچھ دنو کے لیے بھیٹ جانا ، زکام اور بیماری کے صورت میں ماسک کا استعمال کرنا، اچھی غذا کھانا جیسے پھل سبزیاں پروٹین وغیرہ جس سے قوت مدافعت بھڑتی ہے تو پھر یہ ڈر فایدہ مند ثابت ہو رہا ہے ہمارے اپنے وجود گھر محلے شہر اور ملک کے لیے ۔
لیکن اگر یہ ڈر خوف اور گھبراہٹ ہمیں نا امید کر رہا ہے، مستقبل کو تاریک نظروں سے دیکھ رہا ہے، بھوک کے احساس کو ختم کر رہا ہے چڑچڑاپن پیدا کر رہا ہے ہمیں جینے سے بیزار کر رہا ہے تو پھر یہ کسی بھی وایرس اور بیماری سے زیادہ خطرناک ہے ہمارے اپنے وجود کے لیے اور ہمارے ساتھ رہنے والے لوگوں کے لیے۔
گھبراہٹ ڈر اور خوف کے چنگل سے بچنے کے طریقے۔
ہمیشہ ہر حالت میں مثبت پہلو پے نظر رکھیں حوا اپ کو وائرس لگ کیو نہ جائے کیونکہ ابھی تک اس کے متاثرہ لوگوں میں جو لوگ ٹھیک ہوئے ہے ان کے تجربے سے یہ بات سامنے ائی ہے کہ جتنا اپ حوصلہ کرتے ہے جتنا اپ دوران بیماری اپنے ذہن کو کنٹرول کرتے ہے اتنا اپ کا وجود اس وائرس کے خلاف کامیاب ہوتا جاتا ہے ابھی تک چاینا ایک ایسا مثال ہے جہاں سے یہ وبا پھوٹی تھی اور سب سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے تھے اور سب سے زیادہ واپس ریکور بھی ہوئے ہے جو کہ اب ایک نارمل زندگی گزار رہے ہیں۔
اپ نے دیکھنا ہوگا کہ دنیا میں یہ پہلا وبا نہیں ہے اس سے پہلے بھی کافی وبائے دنیا میں ائی ہے اور کافی انسانوں کو لقمہ اجل بنا چکی ہے لیکن اس وقت انسان اتنا طاقتور نہیں تھا نہ ان کے پاس یہ ٹیکنالوجی اور ساینسی الات تھے جس سے وہ مقابلا کرنے میں طاقتور ہو لیکن شکر ہے اج کی تاریخ میں انسان کافی طاقتور اور عقلی ہتھیاروں سے لیس ہے ٹیکنالوجی اور ساینس نے انسان کو اس قابل بنایا ہے کے شاید اگلے ایک مہینے تک اس وایرس کا توڑ ایک انجیکشن میں ہر دکان میں ملے گوگل کر کے دیکھ لیجئے 35 ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ریس لگی ہے کہ کون پہلے ویکسین تیار کرے گا اور یہ کافی پر امید بات ہے۔
پھر بھی اپ کو لگے کہ اپ ڈرے ہوئے ہے یا اپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ اپ کا کوئی جاننے والا ایسی کیفیات سے گزر رہا ہے تو اپ ان سے اس مسئلے پے بات کریں چھپ نہ رہیں اور نہ ان کو چھپ رہنے دیں سوشل میڈیا کے زریعے۔
پہلے تو سوشل میڈیا کو تھوڑا اگنور کریں لیکن اگر استعمال ہی کرنا ہے تو ان کیسسز کے بارے میں معلومات لیں جو اس مرض سے صحتیاب ہوچکے ہے۔
پرسکون رہنا سیکھیں اور دوسروں کو سیکھائے تاکہ ہم مقابلہ کر سکیں۔
گھروں میں ایسے چیزوں میں خود کو مصروف کریں جس میں اپ کا دل لگتا ہو۔
گھر کے اندر ورزش کریں یوگا کریں گہری سانس لینے کے مشق کریں کتابیں مویز وغیرہ سے بھی اکتفا کر سکتے ہے۔
کسی کو نیند نہیں ارہی یا بھوک نہیں لگ رہی تو وہ گھر کے اندر کچھ ایسا ورزش کریں جس سے وجود تھک جائے تب تک بھیٹنا نہیں جب تک مکمل وجود تھکا ہوا نہ ہو پھر شاور لیں اور دیکھیں کیسے نیند اور بھوک نہیں اتی۔
نیند بلکل ریلکس اورا پورا کریں تقریباً8 گھنٹے۔
کسی کو ذیادہ مسلہ ہو تو کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کرلیں یا پھر اگر اور بھی زیادہ ہو تو کسی سایکاٹرسٹ سے مشورہ کر کے انٹی ڈیپریسںنٹ اور اینٹی اینزایٹی کی ٹیبلیٹ بھی لے سکتے لیکن بے حد ضرورت کے ٹایم میں ایسے کوئی ٹیبلٹ وغیرہ نہ لیں جب ضرورت نہ ہو۔
بقلم ۔۔۔فضل ماہر نفسیات
Admission open 2018
Study in China
MBBS & Engineering
* Low tuition fee
* Top Ranking Universities
* WHO & PMDC approved Universities
* 100 % Admission & Visa
----
Scholarship are Available in all fields
* Undergraduate
* Master
* PhD
* Chinese language
----
For Details:
+86 18811601372
China Education Consultant Dr,Norin from Beijing
19/07/2018
ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ - Catharsis
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ " ، ﯾﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮍﺍ ﺍﮨﻢ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﻤﻊ ﺷﺪﮦ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﻧﮉﯾﻞ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺳﮯ " ﺑﮭﮍﺍﺱ ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ " ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺴﮑﺎ ﺯﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﺘﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮈﯾﻢ ﯾﺎ ﺑﯿﺮﺍﺝ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺑﻨﺪ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﻭ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ۔
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺰﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﻨﺪ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺷﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ، ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﯾﺎ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﻭﮦ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺗﻨﺪ ﺭﻭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺷﺪﺕ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﮐﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺑﻨﺪ ﮐﻮ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﻮ ﺗﮩﺲ ﻧﮩﺲ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﺎﺭﮔﺮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺫﮨﻦ ﻭ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﻭ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺳﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺗﺤﺮﯾﺮ ﯾﺎ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺷﺎﺫ ﮨﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﯾﺎ ﮔﮭﭩﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺸﺮﻃﯿﮑﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﯾﺎ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﯾﺎ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻃﺎﻗﺖ ﻭﺭ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ۔
ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﻧﺴﻮ۔۔۔۔
ﮨﺮ ﺁﻧﺴﻮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺘﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮨﻠﮑﺎ ﭘﮭﻠﮑﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺎ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻮﻗﻊ ﻭ ﻣﺤﻞ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﻭ ﺩﯾﻨﺎ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻟﺘﻮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﯽ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ " ﮐﺘﮭﺎﺭﺗﺴﺰ ﺭﻭﻡ " ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻓﯿﺲ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﺗﻮﮌ ﭘﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻏﺼﮧ ﯾﺎ ﮔﮭﭩﻦ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻧﻔﺴﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﺳﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﻔﯽ ﺭﻭﯾﮯ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺳﻼﻡ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﺿﺎﺑﻄﮧ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﻤﻞ ﮨﻮ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮧ ﮨﻮ۔
ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﮨﯽ ﺫﮨﻨﯽ ﻭ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻋﺠﻤﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ " ﺩﻋﺎ " ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﮔﮍﺍ ﮐﺮ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺩﻋﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮐﺘﮭﺎﺭﺳﺰ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﮐﻮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺎ ﻣﻌﺬ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻋﺠﻤﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮧ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﻨﺎﺟﺎﺕ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺮﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﻭ ﺗﻮﺻﯿﻒ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﮬﮑﮍﮮ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺣﺎﺟﺖ ﺭﻭﺍﺋﯽ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺷﮩﮧ ﺭﮒ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﺑﺖ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﯿﻊ ﻭ ﺑﺼﯿﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﻘﯿﻦ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻋﻄﺎﺀ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺫﮨﻨﯽ ﻭ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺳﮑﻮﻥ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺮ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﻋﻄﺎﺀ ﮐﯽ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻭ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻗﻮﺕ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺟﺴﮑﻮ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻻﺯﻣﯽ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﻮ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﺎ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ۔
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺷﮑﺮ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺧﯿﺮ ﮐﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﻗﺼﺪﺍ ﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﻠﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ ﮐﮯ ﺫﻣﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﻟﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻟﮑﮭﯿﮯ، ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﻮﻟﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﺷﺪﮦ ﺧﯿﺎﻻﺕ، ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﯾﺎ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻟﯿﮯ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﻨﺸﯿﻦ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﭘﯿﺮﺍﮨﻦ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﺑﻨﺎﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ۔
ﺳﻮﭺ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺳﻮﭺ ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺳﻮﮨﺎﻥ ﺭﻭﺡ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮑﻤﺎ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔
ﺁﻣﯿﻦ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Shaheen Town Stop, Street #8
Peshawar
24000