Escribiring

Escribiring

Share

As i am writing this sitting in library,post failure day 1 of FCPS 1.Upon realizing what i missed after giving a dedicated attempt and studying full course with convincingly placing myself in RATTA MAAR category is LUCK.My side of story.WHAT's YOURS??????

09/09/2023

پارٹ 4
پڑھائی اور سکھانے میں مگن رہے ارو پھر امتحان میں اپنی قسمت آزمانے کا وقت آیا۔
اس بار کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی پڑھائی میں۔جتنا کر سکتے تھے اس سے زیادہ محنت کی اور اس بار ایک اور کام کیا جو پہلے نہ کيا تھا۔ وظیفہ بھی کر بیٹھے اور دعائیں بھی کہ اگر میرے لیے اس میں خیر و عافیت ہوئی تو میرے مولا کشتی کنارے لگا دیں۔کب سے ناؤ میں بیٹھے کوشش کررہے ہیں کہ زمین کی خوشبو نصیب ہو جائے۔
اپنی گاڑی میں بیٹھ کے روانہ ھوئے اور راستے میں سوچ رہے تھے کہ انشاء اللہ اس بار سفلتا ضرور مِلے گی ۔
امتحان کے مرکز پہنچے تو کچھ دوستوں کو شکل دیکھ کے ترس آیا اور ہماری ہمت باندھی ۔کچھ ہماری طرح تھے جو دلدل میں پھنسے ہوئے تھے۔
میں نے بھی اپنی پڑھائی کی داستانیں اور اپنی محنت کے غوطے بتائے اور انہوں نے افسردگی بھی دکھائی ۔امتحان کے سینٹر گئے تو اپنی نشست پر براجمان ہوئے اور گڑھی کو دیکھنے لگے اور دل ہی دل میں دعا کرنے لگے کہ اللہ مدد کرا دیں اور اگر نہ آئے تو تکے لگا دیں۔
پہلے حصے کے احتتام پر باہر نکلے تو سینا چوڑا کر کے نکلے اور دل میں اطمینان اور چہرے پے مسکراہٹ عیاں تھی۔دوست بولے ہوجائےگا تیرا انشاء اللہ اس بار۔ہم بھی پر مسرّت بولے وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا ۔چائے اور سموسے کھا کے دوبارہ امتحان کہ مرکز میں گئے اور کرسی پر بیٹھ کے لیپ ٹاپ کو گھورنے لگے اور کلمے پڑھ کر امتحان دے دیا۔
خدا کی شان مجھے ٹیسٹ آسان لگا کیونکہ محنت اور پڑھائی بُہت ہو چکی تھی اتنی کہ اپنی کتاب لکھ لیتا۔
جب باہر آیا تو اوپر چھت کو دیکھا اور دعا کی کہ ہوگیا ہے انشاءاللہ اس بار۔
جسنے بھی پوچھا کہ کیسے ہوا۔ڈر کے مارے بول ہی نہ پائے کیونکہ پرانی شکستیں ہمیں یاد تھی ۔رات کو فیسبوک گروپ میں اپنے ٹیسٹ کی جوابات دیکھی اور دل ہی دل میں دعا کی کہ اس بات نیّا پار لگا دیں میرے مولا ۔
قسمت بھی معلوم تھی اپنی لیکن محنت پے بھروسہ تھا کہ شاید آنے والا وقت میرا ہوگا۔
اسی سوچ میں شامیں ڈھلتی گئی۔

Photos from Escribiring's post 12/02/2023

ماشاءاللہ ایمان تازہ ہوگیا میرا۔
اسرائیل سے جنگ لڑنے والے، بغیر قاضی کے فیصلہ سنانے والے ،لوگوں کو برہنہ کر کے روڈ پر گھسیٹنے والے اور اسلام کے علم بردار اور دنیا کی بڑی اسلامی ریاست اور ایٹم بم رکھنے والی قوم کا تو یہ حال نہیں ہو سکتا؟
یہ جنکا کارخانہ ہے یہ بھی شام کو چائے پے بیٹھ کے عمران خان،شہباز شریف اور فوجیوں کو گالیاں دیتے ہونگے اور سوچتے ہونگے کہ کاش کوئی اچھا حکمران آجائے تُو ہم اور ملک ترقّی کریں۔
بیٹا میرے،ترقّی اپنے اعمال ٹھیک کرنے سے ہوگی نہ کے جعلی دوائیاں بنا کے۔
میری لوگوں سے گزارش ہے کہ خدارا اچھے سٹور سے دوائیں لیں تا کے آپ شفا یاب ہو سکیں۔
پیسے آپ ویسے بھی دے رہے ہیں لہٰذا اپنے پیسوں اور اپنے صحت کی قدر کیجئے۔

24/01/2023

انڈیا اور بنگلادیش نے اِسلئے ترقی کی کہ اُنکے سیاستدان جیسے بھی ہو لیکن اُنکے محافظ سیاستدان نہیں بلکہ صحیح محافظ تھے اور دوسرا اُنکے سیاستدانوں میں جتنی بھی مخالفت ہو لیکن اُنھوں کے ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت کی سیاست کی نا کے فوج کے ساتھ۔
ہمارے ہاں مسئلہ ہی یہی ہے ہر کوئی فوج سے مفاہمت چاہتا ہے لیکن سیاستدان ایک دوسرے سے مفاہمت کر کے انکو بیرکوں میں نہیں بھیجتے۔
جب تک یہ کمپنی ادارہ نہیں بنتی اور سیاستدان عوام کے صحیح نمائندے نہیں بنتے اور عوام انسان کے بچےتب تک موڑ ہی موڑ ہونگے اور سارے نازک موڑ تا قیامت۔

Photos from Escribiring's post 21/12/2022

تنہائی کے کش لگاتے ہوۓ بیٹھا تھا کہ ایمرجنسی سے ایک مریض آگیا۔
جا کے میں نے جب مریض دیکھا تو ماشاء اللہ صحتمند اور خوبرو پورے دو سال کا نوجوان تھا۔
میں نے اُنکے گھر والوں سے سارا حال احوال پتہ کیا اور پھر اُسکے بعد تفصیلی معائنہ کیا۔
میں نے والدین سے کہا کہ ماشاء اللہ بچہ بلکل ٹھیک ہے اور آپ بس اسکو اچھا کھانا کھلائے اور اسے صاف رکھے ۔
والدین میرے ساتھ بد زبانی کر گئے کہ ڈاکٹر صاحب آپکو سمجھ نہیں ہے اور آپ اسے پاؤڈر لکھ دیں۔پاؤڈر سے مراد دوائی والا ہے مطلب اینٹی بایوٹک نہ کے دوسرے والا۔
خیر میں بھی اپنی بات پر قائم رہا کہ بچے کو کسی چیز کی ضرورت نہیں اور آپ مہربانی فرما کر بچے کو بلا ڈاکٹر کے نسخے دوائیاں نہ دیں۔
خیر بات بُہت آگے پہنچی پر میں نے کہا کہ ضرورت کے بغیر میں دوائی نہیں لکھونگا کیونکہ گھر میں اُنھوں نے بلا نسخے اور بلا ضرورت اینٹی بیوٹک پہلے سے ہی پانچ دن دی تھی ۔
آگے سے اسکی امی کہتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب KALRACID DS لکھ دیں ان پے اچھا کام کرتا ہے ۔میں نے کہا بس آپ خود لکھ لیتی میرے پاس لانے کی کیا ضرورت تھی۔
مراد یہ ہے کہ بچوں کو گھر سے کوئی پاؤڈر نہ دیں جب تک ڈاکٹر نہ لکھیں۔
اگر آپ ڈاکٹر کے پاس آئے تو انکی بات کا یقین کرے تا کے آپکے بچے کو صحت ملے۔
خدارا ہر کانسی اور بخار کے لیے پاؤڈر نا مانگیں اور ڈاکٹر حضرات سے بھی گذارش ہے کہ عوام کو اِسکے بارے میں تعلیم دیں کہ دوائیاں ہر مرض میں ضروری نہیں۔
عوام سے گزارش ہے کہ دوائی نہ لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹر کو سمجھ نہیں اور یا وہ ڈاکٹر تگڑا ہے جو زیادہ دوائیاں لکھتا ہے۔
ہمیشہ دوائیاں تب ہی دیں جب ڈاکٹر مریض دیکھیں اور وہ لکھیں۔
کسی فارمیسی اور سٹور سے سٹیرائڈز اور پاؤڈر کے دوائیاں دے دے کر اپنی آنے والی نسل کے لیے تباہیاں پیدا کر رہے ہیں خدارا ان چیزوں سے اجتناب کریں کیونکہ اگر یہ روِش جاری رہی تو آنے والے زمانے میں کوئی دوائی کسی بھی جراثیم پر کام نہیں کرے گی۔
بقلم جمال

Want your practice to be the top-listed Clinic in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Peshawar