Medico guidance

Medico guidance

Share

21/12/2025

کسی بھی کمیونٹی یا تنظیم کی بقا کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کے افراد اپنی کمیونٹی سے مخلص ہوں، اور حکمران یا قائدین ذاتی مفادات کے بجائے کمیونٹی کے لوگوں کے لیے فیصلے کریں اور ان فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے کمیونٹی کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ بصورتِ دیگر، اگر کمیونٹی کے حکمران کمیونٹی کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے فیصلے کریں تو وہی کمیونٹی یا تنظیم ذلت کا استعارہ بن جاتی ہے۔
بالکل ایسی ہی صورتحال گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کی ڈاکٹرز کمیونٹی کے ساتھ پیش آ رہی ہے۔ میڈیکل فیلڈ گزشتہ کچھ عرصے سے پورے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں، تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ کچھ لوگ اس کو حکومت کی نااہلی قرار دیتے ہیں اور کچھ اسے عوام کی جہالت سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن اگر غور کیا جائے تو آج کل جو کچھ ڈاکٹرز کے ساتھ ہو رہا ہے اس میں شاید عوام کی جہالت یا حکومت کی نااہلی سے بڑھ کر ہماری اپنی کمیونٹی کے اندر تنظیم سے دوری، اور کمیونٹی کے بڑوں کی ذاتی انا اور من پسند فیصلے زیادہ ذمہ دار ہیں۔
پورے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا میں، صرف دو ہی ڈاکٹرز کی تنظیمیں ہیں جو خود کو غیر سیاسی بنیادوں پر ڈاکٹرز کمیونٹی کی خیرخواہ سمجھتی ہیں، اور یقیناً ماضی میں ایسا نظر بھی آتا تھا۔ لیکن آج کل جو تنظیمیں ہمیں نظر آ رہی ہیں وہ صرف اور صرف ذاتی مفادات کے لیے بن کر رہ گئی ہیں۔ نہ ان میں میرٹ نام کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی میرٹ کے لیے کوئی سنجیدہ کام کیا ہے۔
میں نے بطور پی جی ڈاکٹر اس بات کا بغور مشاہدہ اپنی پی جی شپ کے دوران کیا ہے کہ جب بھی پی ڈی اے یا وائی ڈی اے کے صدر یا چیئرمین کی کوئی ذاتی بات اَٹک جاتی ہے تو وہ آگے سے کمیونٹی کے لوگوں کو کسی الگ واقعے کے ساتھ مخصوص کر کے اپنی ڈیمانڈز ایڈمنسٹریشن سے منوا لیتے ہیں، اور کمیونٹی کا فائدہ کرنے کے بجائے اپنے ہی کام نکلوا لیتے ہیں۔ نتیجتاً کمیونٹی کو ذلت اور رسوائی ملتی ہے، جبکہ ان افراد کو مختلف پوسٹس مل جاتی ہیں۔ کسی کو ٹرینی شپ چاہیے ہوتی ہے تو کسی کو رجسٹرارشپ، لیکن کمیونٹی، یعنی عام ڈاکٹرز، کو مریضوں اور ایڈمنسٹریشن کے ہاتھوں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر کوئی مریض یا اس کا اٹینڈنٹ او پی ڈی یا ایمرجنسی میں لڑائی پر اتر آتا ہے تو وائی ڈی اے اور پی ڈی اے احتجاج شروع کر دیتی ہیں۔ اس احتجاج کا مقصد، ڈاکٹرز کو انصاف اور سیکیورٹی کی فراہمی کے بجائے، اپنے ذاتی فائدے حاصل کرنا ہوتا ہے؛ کبھی ہاسٹل کے کمروں کی صورت میں اور کبھی مختلف پوسٹس کی شکل میں۔ جتنے بھی وائی ڈی اے اور پی ڈی اے کے چیئرمین ہیں، چاہے وہ ایل آر ایچ، کے ٹی ایچ، ایچ ایم سی یا ایم ایم سی میں ہوں، ہمیشہ بغیر ایک روپیہ ادا کیے ہاسٹل کے کمروں میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ہر سنگل کیوبیکل وائی ڈی اے یا پی ڈی اے کے ممبر کو مل جاتا ہے، چاہے وہ جونیئر ہی کیوں نہ ہو۔ وہ آرام سے زندگی گزارتا ہے، کیونکہ اس میں احتجاج کے دوران زیادہ نعرے لگانے کا ہنر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ایڈمنسٹریشن بھی کچھ نہیں کر پاتی اور خاموشی سے انہیں کمرے یا پوسٹس دے دی جاتی ہیں، تاکہ وقتی طور پر معاملہ ختم ہو جائے، جبکہ عام ڈاکٹرز کے ہاتھ صرف رسوائی ہی آتی ہے۔
یہی رویہ اختیار کرتے کرتے بات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب ایک عام آدمی بھی موبائل سے ٹک ٹاک بنا کر گریڈ 18 اور 19 کے ڈاکٹرز سے لڑائی مول لے لیتا ہے، اور دھمکیوں پر اتر آتا ہے کہ میں یہ ویڈیو وزیراعلیٰ کو بھیج دوں گا۔ شاید وقت کے ساتھ حالات اس سے بھی بدتر ہو جائیں۔ آج تو پھر بھی عام آدمی ہے، کل کو ہسپتال کے صفائی والے ملازمین بھی انہی ڈاکٹرز کو دھمکیاں دیا کریں گے۔
اس لیے ان تمام مسائل کا حل ایک ہی ہے: وائی ڈی اے اور پی ڈی اے جیسی تنظیموں کو ختم کیا جائے۔ ایک ہی ڈاکٹرز کمیونٹی کی تنظیم ہو جو غیر سیاسی ہو، پورے خیبر پختونخوا میں تمام ہسپتالوں سے اس کی نمائندگی ہو، اور اس کا مشترکہ لائحۂ عمل ہو۔ اس تنظیم کی ممبرشپ خالص جمہوری بنیادوں پر ہو، اور جو بھی سربراہ ہو، اگر اس پر ذاتی مفاد کی بو بھی آئے تو اسے فوراً فارغ کر دیا جائے۔ تب ہی حالات میں کچھ بہتری آ سکتی ہے۔
اگر یہی رویہ جاری رہا تو آج کل تو صرف ویڈیو بنا کر لڑائیاں ہو رہی ہیں، کل بندوق اور پستول سے لڑائیاں کریں گے اور ویڈیوز بنائیں گے، اور یہی لوگ پھر بھی آزاد گھوم رہے ہوں گے، کیونکہ اس ملک میں قانون اور آئین نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ لہٰذا سوچیں اور اپنی روش درست کریں، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی اور پھر آپ صرف ہاتھ ملتے رہ جائیں گے
Children Physician Dr Ahmad Bacha

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Hayatabad Peshawar
Peshawar