ShiaToday
07/09/2025
اگر پاراچنار کی تشیع چاہتی ہے کہ ان پر مسلط ظلم و ستم کا سلسلہ ختم ہو، مشکلات اور محاصروں کا خاتمہ ہو اور آنے والی نسلیں سکون و آزادی کی زندگی گزاریں، تو اب وقت آ گیا ہے کہ محض شکایتوں اور وقتی احتجاج پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ اپنا طرزِ عمل بدل کر راہِ کربلا کو لائحہ عمل بنایا جائے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں کہیں بھی اہلِ تشیع نے عزت و غیرت کے ساتھ مزاحمتی رخ اختیار کیا، وہاں وہ باوقار و خودمختار بن کر ابھرے۔ یمن کے انص۔۔۔ اللہ ہوں یا لبنان کی حز۔۔۔ اللہ، عراق کی حشدِ۔۔۔ شعبی ہو یا ایران کی اسلامی جمہوریہ—ان سب نے دنیا کو دکھا دیا کہ جب قوم اپنے اصولوں اور ایمان پر قائم ہو جائے تو کوئی طاقت ان پر ناجائز فیصلہ مسلط نہیں کر سکتی اور نہ ہی کسی جابر کو یہ جرات ہوتی ہے کہ ان کے حق کو پامال کرے۔
پاراچنار کی سرزمین کے باسیوں کو بھی اسی راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ صرف اتحاد، بیداری ہی وہ راستہ ہے جو عزت، وقار اور آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر اس تاریخی موقع پر بے عملی اور غفلت اختیار کی گئی تو یہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی بلکہ مزید گہری اور پیچیدہ ہو جائیں گی۔
یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ یا تو ہم اپنے شہداء کے لہو کو راہنما بنا کر عزت کی زندگی کا انتخاب کریں، یا پھر خاموشی اور کمزوری کے ساتھ ظلم کے بوجھ تلے دبے رہیں۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar