Sanjh Lok Raj

Sanjh Lok Raj

Share

Indigenous Philosophy 10/12/2025

Decolonizing punjab

Indigenous Philosophy 🌍✨ Dive deep into the mesmerizing realm of Indigenous Philosophy! In this eye-opening video, we unravel the profound wisdom and ancient teachings of Indigen...

Paving the way for the Generals to take over the Political System 28/11/2025

پاکستان 1947ء میں برطانیہ کی غلامی سے آذاد ھو کر 1954 ء میں امریکی غلامی میں چلا گیا۔ برطانوی غلامی کے دور کو کالونیلزم کہا جاتا ھے جب برطانیہ کا آپکے معاشی و سیاسی نظام پر براہ راست قبضہ تھا۔ نیو کالونیلزم اس دور کو کہتے ہیں جب عالمی سرمایہ داری کا آپکے معاشی نظام پر تو براہ راست قبضہ ھے مگر سیاسی نظام پر آپکی فوج کے ذریعے امریکہ کا قبضہ ھے۔ کالونیل غلامی کے خاتمے پر نیو کالونیل معیشت کو چلانے کیلئے ریاستی ڈھانچے میں جو تبدیلیاں کی گئیں وہ بیوروکریسی کی آمریت تھی جو کہ گورنر جنرل غلام محمد کے ذریعے کروائی گئیں۔ فوج کا کردار سیاست میں فوج کو بیوروکریسی کے جونیئر پارٹنر کے طور پر شامل کیا پھر 1958ء میں فوج نے پاکستان کے معاشی اور سیاسی نظام پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ قبضہ آج تک جاری ھے۔ پاکستان کے عوام کو اس قبضے کو سمجھنا اس لیئے ضروری ھے تاکہ وہ ایسی حکمت عملی بنانے میں مدد دے کہ عالمی سرمایہ داری کی ھمیں پسماندہ اور غریب رکھنے کے معاشی تدلط سے چھٹکارا مل سکے

Paving the way for the Generals to take over the Political System 🌟 Are the Generals the New Frontier of Political Power? 🌟 Dive into a scintillating discussion as we unravel the intricate dance between the military and p...

The Rawalpindi Conspiracy case was itself a Conspiracy 22/11/2025

راولپنڈی سازش کیس پاکستان کی 1947ء میں برطانیہ سے رسمی آذادی اور 1954 میں امریکی غلامی میں چلے جانےکی درمیانی تاریخ کا ایک واقعہ ھے۔ کچھ جرنیل اور فوجی افسران جو پاکستان کو امریکی غلامی میں دھکیلے جانے کی لیاقت علی خان کی کوششوں سے ناخوش تھے ان کی ایک میٹنگ کی مخبری پر کسطرح اس وقت کی حکومت نے فوجی بغاوت کا کیس بنایا، سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان نے کسطرح اپنا رستہ ھموار کیا۔ ان فوجی افسروں کو رستے سے ہٹا کر امریکی غلامی میں جانے کی راہ مکمل صاف کر لی۔ بعد اذاں ان افسروں سزائیں سنائی گئیں مگر جب پاکستان دفاعی معاہدوں کے ذریعے امریکہ کی فرنٹ لائن دفاعی ریاست بن گیا تو ان افسروں کو رہائی مل گئی ان میں سے پھر ہر ایک نے راولپنڈی سازش کیس پر کھل کر اظہار کیا اور عائشہ جلال نے امریکی اور برطانوی ڈی کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویزات کے حوالے سے لکھا کہ یہ مقدمہ امریکی خارجہ پالیسی اور سرد جنگ کا نتیجہ تھا

The Rawalpindi Conspiracy case was itself a Conspiracy 🌍 Dive into history's shadows with our explosive video on the Rawalpindi Conspiracy case! 🕵️‍♂️ Uncover the untold secrets behind this pivotal event that s...

Pakistan's First Non-Communal Party 14/11/2025

پاکستان کے پہلے گورنر جنرل نے جو سیاسی رحجان متعارف کروایا تھا کہ مرکز صوبوں کو اپنی مقبوضات اور کالونیوں کیطرح چلائے گا، مرکز سے اختلاف رکھنے والی صوبائی وزارتیں برطرف کی جا رہی تھیں۔ پریس کوکنٹرول کرنے کیلئے سیفٹی ایکٹ مسلسل نافذ تھا لوگوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ایمرجنسی نافذ تھی، مسلم لیگ کو پاکستان لیگ بنانے یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کے قیام کی اجازت دینے کےامکان کو قاِئداعظم خود مسترد کر چکے تھے۔ ایسے میں پہلی غیر فرقہ وارانہ سیاسی جماعت مسلم لیگ ہی سے الگ ھوئے دو قائدین میاں افتخارالدین اور سردار شوکت حیات نے بنائی۔ وہ سمجھتے تھے کہ برطانیہ نے ہمیں سیاسی رسمی آذادی دی ھے مگر معاشی آذادی نہیں دی۔ وہ پاکستان ڈومینین کو آذاد نہیں سمجھتے تھے انہوں نے اس نئی پارٹی کا نام " آذاد پاکستان پارٹی " رکھا۔ پارٹی کا منشور تھا کالونیل معیشت سے آذادی، جاگیرداری کا خاتمہ ، معاشی انصاف اور جمہوریت۔ اس سے پہلے ایک کوشش پاکستان پیپلز پارٹی بنا کر کی گئی مگر گورنر جنرل کے حکم سے اس کے تمام لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا اور انکی گرفتاری پر احتجاج کرنے والوں پر سیدھی گولیاں چلا کر 700 کے قریب احتجاجیوں کو مار دیا گیا۔

Pakistan's First Non-Communal Party 🌟 Unveiling History: Discover Pakistan's First Non-Communal Party! 🌟 In this groundbreaking video, we dive deep into the revolutionary steps taken towards ...

Was Allama Iqbal a Philosopher? 12/11/2025

ایک زمانے میں علم کا منبع و ماخذ کسی شخصیت کو سمجھا جاتا تھا جیسے فلسفے میں ارسطو کے خیالات نے ایک ہزار سال تک علم کی دنیا پر راج کیا۔ کیونکہ یہ بات ارسطو نے کی ھے یہی آخری سچائی تھی ۔ کوئی اس پر سوال اٹھاتا تو لوگوں کی غصے اور قہر والی نگاھوں کی ذد میں آ جاتا۔ اس طرح کی شخصیت کو اتھارٹی یا سند کہا جاتا تھا۔ آپ نے اب بھی یہ انداز تحریر دیکھا ھوگا کہ فلاں نے فرمایا۔ پھر سائنس کے آغاز میں اتھارٹی پر سوال اٹھنے لگے اور کسی دعوے کی سچائی کیلئے تجرباتی تصدیق لازمی قرار پائی۔ جیسے ارسطو نے کہا تھا عورت کے دانت تعداد میں مرد سے کم ھوتےہیں۔ برٙرینڈ رسل نے کہا کہ چونکہ اب ثابت ھو چکا ھے کہ عورت کے دانت مرد کے برابر ھوتے ہیں۔ ارسطو کی دو بیویاں تھیں اس نے ان کے منہ میں انگلی ڈال کر دانتوں کی تعداد کی تصدیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ یہی مقام علامہ اقبال کو حاصل ھے۔ ان کی بہت ساری باتیں زندگی کے تجربہ نے غلط ثابت کردی ہیں۔ مگر ریاست انہیں فلسفہ پر اتھارٹی منوانے پر بضد ھے

Was Allama Iqbal a Philosopher? 🌟 Discover the genius of Allama Iqbal in today's video: "Was Allama Iqbal a Philosopher?" 📚 Uncover the depth behind his poetry and philosophy as we explor...

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Pakpattan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


College Road
Pakpattan
57400