Professionals

Professionals

Share

28/02/2018

تصوُف کیا ہے۔۔۔ رضوان خالد چوھدری
مِرزا زید صاحب نے پُوچھا ہے۔ تصوُف کیا ہے۔ اس سوال کے جواب کے لیے اسلامی معاشرے کے ارتقاء اور علم کے مقصد سے بات شُروع کرنی ہوگی۔
انسان کی تخلیق کے مقاصِد میں سے ایک بڑا مقصد معرفتِ اِلٰہی ہے اور الگ الگ عُلوم اِس ضِمن میں الگ الگ راستے دیتے ہیں۔
گو کہ سائنسدان کا ظاہری مقصد اللہ کی نہیں اپنی ہی معرفت ہوتا ہے لیکن اپنی معرفت ہی خالِق کی معرفت کی سیڑھی کا پہلا زینہ ہے۔
اپنی پہچان کی کوئی حدُود ہوتیں تو تو سبھی عُلوم مُکمل ہو چُکے ہوتے۔ابھی تو انسان اپنی شناخت کے مراحِل میں ہے۔ تبھی سائنسی اور مُعاشرتی عُلُوم تیزی سے نِت نئی معلُومات دینے میں لگے ہیں۔
تصوُف دیگر عُلوم کے برعکس اپنی شناخت کی بجائے اپنی ہی معرفت کا عِلم ہے جسکی آخری سیڑھی معرفتِ الٰہی کا پتہ دے گی۔ یاد رہے کہ پہچان شناخت کے بعد کا مرحلہ ہے۔
سادہ سی بات تو یہ ہے تصوُّف اور سائنس سُنّتِ نبویﷺ کے خلاف نہیں بلکہ کئی نسلوں کے سُنّتِ رسُولﷺ پر عمل کے تسلسُل کا حاصل ہے۔
حالیہ دور میں تصُّوف یا صُوفی ازّم کو شرک سمجھنا نہ صرف عام مذہبی طبقے کے غیر رسمی اجماع جیسی شکل اختیار کر گیا,
بلکہ قُرآن کے جدید مُحقیقین کے زیرِاثر جدید تعلیم یافتہ افراد کا عمُومی بیانیہ بھی تصُّوف کو اسلام سے مُتوازی ایک الگ دین کہتا ہے۔
اگر میں نے رُوح کو جانا ہی نہیں تو اُسکی کُچھ پہچان کرلینے والے صُوفیوں کی ہر بات کا غیر شرعی لگنا میری کم علمی کا منطقی نتیجہ ہو گا۔
چُونکہ رُوح کے علم سے مُتعلّق مُجھے اپنی جہالت کا بھرپُور احساس ہے لہٰذا میں صُوفیوں کو مُشرک نہیں سمجھتا۔
میرا یہ ایمان ایک بالکُل الگ بات ہے کہ افضل ترین کام قُرآن کے اُصولوں کو مُعاشرے میں اُگانا ہے۔
کیونکہ اسلام کی رُوح فلاحی مُعاشرے کا قیام ہے۔
یہ کام مُحمدﷺ کی بطور رسُول سُنّت یعنی حکمتِ عملیوں کو عین اُسی ترتیب سے اختیار کر کے مُمکن ہوگا جو ترتیب مُحمدﷺ نے خُود اختیار کی۔
اہم بات یہ ہے کہ سبھی انسان چاہ کر بھی ایک طرح نہیں سوچ سکتے۔
دُوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلامی تاریخ نے ایسے ادوار بھی دیکھے جب زکوٰۃ لینے والے بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔
یعنی اُس دور کے اُس مُعاشرے کی حد تک نسلوں کی محنت نے دین کا نفاذ کر دیا تھا۔
ایسے میں بعض ذہین و فتین افراد کو لگا کہ مُسلمانوں کی نسل در نسل محنت سے اسلامی مُعاشرے کی بُنیاد رکھ دی گئی ہے۔
تب اُن ذہین لوگوں نے قُرآن میں موجُود اُن کُنجیوں کی طرف دھیان دینا شُرُوع کیا جو عظیم خزانوں کا پتہ دیتی تھیں۔ اللہ کی پہچان کی جُستجُو شُروع ہُوئی۔
یہی وہ دور تھا جب ان ذہین لوگوں میں سے بعض نے قُرآن سے سائنسی عُلُوم اور بعض نے علم تصوُّف اخذ کر کے ان دونوں عُلوم کو کھوجنا شُرُوع کیا۔
یعنی کُچھ سائنسدان کہلائے کُچھ صُوفی۔
نسلوں کے بعد یہ وقت آنا ہی تھا۔
ہر الہامی پیغام کے نفاذ کے ایک مخصُوص وقت بعد یہ وقت پہلے بھی بہت بار آیا تھا جب کُچھ ذہین لوگوں نے اپنی شناخت کر لینے کے بعد اپنے خالق کی پہچان کا سفر شُروع کیا تھا۔
یعنی صُوفی اور سائنسدان کم و بیش اُتنے ہی پُرانے ہیں جتنے الہامی مذاہب۔
اللہ کی پہچان کی کوئی حدُود ہوتیں تو صُوفی اور سائنسدان کی بھی لگامیں ہوتیں۔
وحدتُ الوجُود مُسلمان صُوفیوں کا دیا ہُوا ایک علمی نظریہ تھا,
جسکی بُنیاد قُرآن ہی کی ایک آیت تھی یعنی اللہ زمین اور آسمانوں کا نُورہے۔
اس نظریے میں شرک ڈھُونڈنا ہو تو میں اسکے شرک ہونے پر ایک کتاب لکھ دُوں۔
لیکن میرا ضمیر مُجھے ملامت کرے گا کہ میں نے اللہ کی پہچان کے انگنت راستوں میں سے سامنے نظر آنے والے ایک راستے کے دروازے پر لگے تالے کی کُنجی زنگ آلُود کردی۔
صُوفی کائنات کی ہر چیز میں اللہ کا نُور دیکھ کر ہی اپنی بات آگے بڑھاتا ہے
اور اُسے نُور ہی نُور نظر آئے گا تو وہ کسی سے نفرت کیسے کرے۔
تصوُّف اور سائنس سُنّتِ نبویﷺ کے خلاف نہیں بلکہ کئی نسلوں کے سُنّتِ رسُولﷺ پر عمل کے تسلسُل کا حاصل ہے۔
یعنی فلاحی اسلامی مُعاشرے کے قیام کے بعد مُعاشرے کے اعلٰی ترین دماغوں کا انفرادی راستہ ہے،
جسکی پیروی ہر مُسلمان پرواجب نہیں بس اُسی کا فرض ہے جسکی نسلیں اپنی شناخت کا ابتدائی امتحان پاس کر چُکی ہوں۔
انبیاء کی مُشترکہ سُنّت اور مُحمّدﷺ کی بطور رسُول سُنّت پر نسلوں تک عمل مُجھے میری شناخت دے گا۔
میری شناخت ہی درحقیقت خالق کی شناخت ہے
لیکن یہ خالق کی پہچان کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔
انسان کا بُنیادی مقصد بس اپنی ہی شناخت ہے۔
لیکن انسان کے ثانوی مقاصد بھی ہیں جو ہر انسان کے لیے لازم نہیں۔
لیکن لیکن ثانوی مقاصد کا حُصُول بعضوں پر بعض حالات میں فرض ہے۔
انسان کے ثانوی مقصد کا تعلُق خالق کے مقصد سے ہے۔
خالق کا مقصد اپنی معرفت ہے۔
اپنی شناخت پاتے ہی کسی بھی ذہین اور ذمّہ دار انسان کا پہلا فطری عمل تخلیق اور خالق کی معرفت کی کوشش ہی ہو گا۔
یہی صُوفی اِزّم اور سائنس کا فطری جواز ہے۔
یعنی سائنس اورصُوفی اِزّم انسانی شعُور کے ارتقا کا فطری بہاؤ ہے۔
انسان کے ثانوی مقصد کی تکمیل کے طریقوں میں بھی ڈائیورسٹی یعنی تنُوع ہے۔
ایک طریقہ مادے اورانرجی کو بُنیاد بنا کر خالق کی پہچان کا راستہ بتائے گا جیسے سائنس۔
ایک اورطریقہ رُوح کو بُنیاد بنا کرخالق کی پہچان کا راستہ بتائے گا یہی تصوُّف ہے۔
قُرآن میں ڈھُونڈنے والوں کو دونوں راستوں کے بند دروازوں پر لگے تالوں کی کُنجیاں ملیں گی۔
جو بھی کُنجی چُن لیں راستوں کا جنکشن ایک ہی ہو گا۔
یہ دونوں راستے آخرکار خالق کی پہچان کی ابتدائی رُکاوٹ دُور کریں گے۔
تنگ نظر مذہبی طبقہ ہمیشہ سے ان دونوں راستوں یعنی سائنس اورتصُّوف کے سامنے سیسہ پلائی ہُوئی دیوار بن کر کھڑا ہے۔
یہ میرے نزدیک اللہ کی پہچان کو محدُود رکھنے کی کوشش ہے۔
کہنے کو تو میں کہہ دُوں کہ اللہ نے رُوح کے بارے میں کسی کو علم نہیں دیا لیکن اللہ کی آیات میں سیکڑوں بار غور و فکر کا حُکم تو دیا ہے۔
روح کا لفظ قُرآن میں اُنیس جگہ استعمال ہوا اور ہر جگہ یہ واحد ہی استعمال ہوا۔ اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانی ہے۔
یہ تو ہم جانتے ہی تھے کہ رُوح اللہ کا امر ہے۔
اب قُرآن میں رُوح کے لیے جمع کا لفظ استعمال نہ کرنا جبکہ لیے انسانوں اور نفس کے لیے جمع کا لفظ استعمال کرنا کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ رُوح کا تعلُق چونکہ اللہ سے ہے۔اسی لیے یہ واحد ہے۔
اور کیا یہ ادراک ہوتے ہی یہ عقدہ نہیں کھُلتا کہ اللہ کیسے آسمانوں کا نُور ہے؟؟
پھر میں کیسے صُوفیوں کے وحدتُ الوجُود کے فلسفے کے خلاف کتاب لکھوں۔
رُوح سے زندگی ہے.
قُرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ نیند کے وقت نفس کو قبض کر لیا جاتا ہے۔
یعنی اُس وقت جسم میں زندگی صرف رُوح کی مرحُون ِ منّت ہوتی ہے۔
اُس وقت ہم جو دیکھتے ہیں وہ آنکھ سے نہیں رُوح سے دکھتے چکھتے اور محسُوس کرتے ہیں۔
رُوح اللہ کا امر ہے یعنی اللہ کے امر سے اسباب کے بغیر دیکھنا، سُننا اور محسُوس کرنا مُمکن ہے۔
لیکن ہم اُس وقت شعُوری کیفیّت میں نہیں ہوتے۔
لیکن ایک سادہ اُصُول تو ہم نے جان ہی لیا کہ رُوح کے ذریعے بغیر اسباب سفر مُمکن ہے۔
صُوفی بس دو کام سیکھ لیتا ہے ۔۔
ایک تو وہ رُوح کو جان کر اس قابل ہو جاتا ہے کہ جب چاہے نیند کے بغیر ہی اپنی روح کو نفس کے اثر سے آزاد کر لیا کرے۔
دُوسرے یہ کہ کہ جب وہ رُوحانی سفر کرے تو اپنے شعُور کو سونے نہ دے۔
جب صُوفی اپنے شعُور کی نیند اورنفس کے رُوح پر اثرات پر قابُو پا لیتا ہے تورُوحانی سفر سے لُطف اندوز ہوتا ہے۔
رُوح چُونکہ واحد ہے لہٰذا صُوفی اپنے شعُور کی کپیسٹی کے مُطابق ہر اُس مخلُوق کے بارے میں کُچھ علم پا لیتا ہے جس میں وہی امر ہو۔
یاد رہے کہ اللہ کی ہر کائنات کا امر الگ ہے۔
تبھی صُوفی صرف اپنی دُنیا کے امر سے مُتعلِقہ حقائق کی بھی اُتنی ہی معلُومات جان سکے گا جتنی اُسکے شعُور کی حدُود ہوں۔
روح سے ہی نباتات، حیوان، چرند پرند، انسانوں اور کائنات کا نفس مُتحرّک ہے۔
اوررُوح اللہ کا امر ہے۔ اللہ ان سب کا خالق ہے۔
اب سوچیے اللہ کا مُجھ سے اور میرا ان سب سے اور ان سب کا آپس میں کا رشتہ بنتا ہے۔
اگر رشتہ بنتا ہے تو ذمّہ داری بھی بنتی ہے۔
جب ہر چیز سے میرا رشتہ ہے تو اس رشتے کو کھوجنے کے عُلوم یعنی تصوُّف اور سائنس حرام کیونکر ہُوئے۔
صُوفی، عالم اور سائنسدان مل کر کام کریں تو دین مُکمّل ہوتا ہے۔
سائنسدان کو کائنات کے سفر کے لیے وسائل چاہییں،
عالم کونسلوں کا سفر اور الہامی ہدایت کا نفاذ مُیسّر ہو تو ہی وہ شریّعت کے ثمرات کے ذریعے حقُّ الیقین پائے گا
لیکن صُوفی اسباب کے بغیرحقُّ الیقین ایسے پا لیتا ہے جیسے پانی میں تیرتی مچھلی لمحے بھر کو ہوا میں چھلانگ لگا کر سمندر کی بیرُونی سطح اور آسمان دیکھ لیتی ہے۔
کیا ہی خُوب ہو کسی ایسے کی امامت نصیب ہو جوان تینوں کا مُرکّب ہوکیونکہ سائنس اللہ کا قانُون سکھاتی ہے، عالم حدُودو قیّود سکھاتا ہے اور صُوفی رُوح کو نفس کی کثافت کو لطیف کر کے حواسِ خمسہ کے بغیر دیکھنا، سُننا، چکھنا، چھُونا اور بولنا سکھاتا ہے۔ رضوان خالد چوھدری
نوٹ: اس تحریر کا مُحرّک علم سیکھنا ہے کسی کے مذہبی عقائد کی تصدیق یا توثیق اور تنقید میرا مطمعٔ نظر نہیں۔

Want your business to be the top-listed Computer & Electronics Service in Okara?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


Okara
56300