Hakeem Rai Khalid
13/05/2026
اس میں طب یونانی، نظریہ مفرد اعضاء اور دیگر طبی فلسفوں کا امتزاج شامل کیا گیا ہے۔
👂 سیلانِ گوش (کان کا بہنا): اسباب، علامات اور مجرب علاج
حکمت کے موتی:
> تندرستی ہزار نعمت ہے، جانیے قدر اس کی بیمار سے
> حکمت وہ علم ہے جو روح کو جلا اور جسم کو شفا دیتا ہے
>
📜 طبی تناظر اور فلسفہ (طبِ قدیم و جدید)
سیلانِ گوش محض ایک مقامی مرض نہیں بلکہ جسم کے اندرونی نظام کی خرابی کا عکاس ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء: اس مرض کا تعلق اکثر غدی عضلاتی (Warm & Dry) تحریک سے ہوتا ہے جہاں جسم میں حرارت اور رطوبت کے بگاڑ سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔
طبِ یونانی و اسلامی: اسے "فسادِ خون" اور دماغی فضلات کا کان کی طرف میلان قرار دیا جاتا ہے۔
آیو ویدک (سنسکرت): اسے 'کرنا سراو' (Karna Srava) کہا جاتا ہے، جو 'پت' اور 'کف' دوش کے عدم توازن سے پیدا ہوتا ہے۔
🚩 علامات (Symptoms)
کان میں شدید سوزش اور ٹیسیں مارنے والا درد۔
شدتِ درد کے باعث بے خوابی (نیند کا نہ آنا)۔
ابتداء میں زرد رطوبت اور بعد ازاں گاڑھی پیپ کا اخراج۔
مرض طول پکڑ جائے تو دماغی کمزوری اور سر چکرانے (Dizziness) کی شکایت۔
⚠️ وجوہات (Causes)
سردی کا لگنا یا نزلہ زکام کا بگڑنا۔
بدہضمی اور معدے کی تیزابیت۔
بچوں میں دانت نکلنے کا زمانہ۔
کان کی صفائی نہ رکھنا یا کسی بیرونی شے کا کان میں جانا۔
خون کی خرابی (فساد الدم) اور جلدی امراض۔
💊 مستند طریقہ علاج (Treatment)
1. مقامی صفائی و تدبیر:
سب سے پہلے کان کو ہائیڈروجن پر آکسائیڈ سے اچھی طرح صاف کریں۔ اس کے بعد سفید پھٹکڑی کا باریک سفوف (پاؤڈر) خالص شہد میں ملا کر فتیلہ (روئی کی بتی) تیار کریں اور دن میں دو بار کان میں رکھیں۔
2. اندرونی ادویات:
خون کی صفائی اور سوزش کے خاتمے کے لیے:
اطریفل شاہترہ یا عرق مصفیٰ خون ہمراہ شربتِ عناب استعمال کریں۔
🚫 اہم نوٹ:
اگر کان کے پردے میں سوراخ ہو تو پچکاری (Syringing) سے پرہیز کریں، کیونکہ پانی اندر جانے سے درد میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پیپ چھوت دار ہو سکتی ہے، لہٰذا مریض کے استعمال شدہ کپڑے اور تولیہ الگ رکھیں۔
🍽️ غذا اور پرہیز
پرہیز: تلی ہوئی اشیاء، کھٹی چیزیں (ترشی)، اور تیز گرم مسالہ جات سے مکمل اجتناب کریں۔
مفید غذا: زود ہضم اور مقوی غذا (دلیہ، یخنی، مونگ کی دال) استعمال کریں۔
👨⚕️ زیرِ نگرانی و سرپرستی:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشروں سے بنی نوع انسان کی خدمت میں مصروف)
معاونت:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
لائک کریں | شیئر کریں | فالو کریں
آپ کا ایک شیئر کسی کی زندگی میں شفا کا سبب بن سکتا ہے۔
#حکمت #اوکاڑہ #پاکستان #شفا
12/05/2026
خالد دواخانہ (اوکاڑہ) کی خصوصی پیشکش
ادھار: وہ جرم جس کی سزا ہر حال میں ملتی ہے!
انسانی زندگی میں جرائم کی کئی اقسام ہیں؛ کچھ قانونی ہیں، کچھ سماجی، کچھ معاشرتی تو کچھ اخلاقی۔ مگر ایک جرم ایسا ہے جو بظاہر کسی مروجہ قانونی کتاب میں درج نہیں، لیکن اس کی سزا انسان کو جیتے جی کاٹنی پڑتی ہے... اور وہ ہے "ادھار"۔
حکمت کی نظر میں یہ ایک ایسا دو دھاری خنجر ہے کہ:
اگر کسی کو ادھار دے دیں، تو اکثر اپنا مال بھی گنواتے ہیں اور وہ تعلق بھی۔ سزا یہ ملتی ہے کہ مانگنے پر آپ ہی "برے" بن جاتے ہیں۔
اور اگر مجبوری میں انکار کر دیں، تو سامنے والا اسے انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے اور آپ کی مروت کو سنگدلی سمجھ کر قطع تعلق کر لیتا ہے۔
حکمت اور فلسفہ کی روشنی میں ادھار کا نفسیاتی اثر
1. طبِ یونانی و اسلامی نقطہ نظر:
طبِ یونانی میں ذہنی سکون کو صحتِ جسمانی کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اکثر دعا فرمایا کرتے تھے: *"اے اللہ! میں گناہ اور قرض کے بوجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" (بخاری)۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ: *"قرض سے بچو! کیونکہ اس کا آغاز پریشانی (غم) ہے اور انجام دشمنی (جنگ) ہے۔"
2. نظریہ مفرد اعضاء (صابر ملتانیؒ کا فلسفہ):
جب انسان قرض کے بوجھ تلے دبتا ہے یا ادھار کے لین دین میں الجھتا ہے، تو اس کے اعصاب (Brain) پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ یہ ذہنی تناؤ جسم میں خشکی و تیزابیت (عضلاتی تحریک) کو بڑھا دیتا ہے، جس سے نیند کی کمی، ہائی بلڈ پریشر اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے۔ گویا ادھار صرف جیب پر نہیں، آپ کے جگر اور دل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
3. آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ:
سنسکرت کے قدیم دانشور کہتے ہیں کہ "قرض دار شخص مردے کے برابر ہے"۔ وہ شخص جو اپنی چادر سے باہر پیر پھیلاتا ہے، وہ اپنی "پران شکتی" (Life Force) کو خود ہی ضائع کرتا ہے۔
حکمت کے علمی خزانوں سے منتخب
> قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
> رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
> (مرزا غالب)
>
> محسنؔ برے دنوں میں نیا دوست کون ہو
> ہے جس کا پہلا قرض اسی سے سوال کر
> (محسن اسرار)
>
> رہتا نہیں ہوں بوجھ کسی پر زیادہ دیر
> کچھ قرض تھا اگر تو ادا بھی ہوا ہوں میں
> (ظفر اقبال)
>
مشورہِ خاص از طبیبِ حاذق
پچھلے پانچ عشروں سے انسانیت کی خدمت میں مصروف، پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (اوکاڑہ) کا نچوڑ یہ ہے کہ: "جسمانی بیماریوں کا بڑا سبب وہ ذہنی بوجھ ہے جو ہم غیر ضروری مالی الجھنوں کی صورت میں پال لیتے ہیں۔ صحت مند رہنا ہے تو مروت میں آکر اپنی صحت اور مال داؤ پر نہ لگائیں۔"
منجانب:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پچھلے 50 سال سے مطب کی خدمت - ضلع اوکاڑہ)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789
اس پوسٹ کو لائک کریں، شیئر کریں اور پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت کی باتیں دوسروں تک پہنچ سکیں۔
12/05/2026
یہ ایک بہت ہی گہرا اور نفسیاتی موضوع ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے بوجھ کو بانٹنا چاہتا ہے، اور طب و فلسفہ کی رو سے یہ "نفساتی کتھارسس" (Psychological Catharsis) انسانی صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسمانی صفائی۔
کائنات کا خوبصورت ترین احساس: ایک ہمراز کا میسر ہونا
دنیا کے خوبصورت ترین احساسات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو اس کائنات میں کوئی ایک ایسا انسان مل جائے جس سے آپ کسی بھی موضوع پر گفتگو کر سکیں۔ اسے سب کچھ بتا سکیں، بغیر خود کو سنوارے، بغیر سوچے سمجھے، اسے اپنے تمام خیالات سنا سکیں، چاہے وہ کتنے ہی لغو، شرمناک یا تکلیف دہ کیوں نہ ہوں۔
فلسفہ و طب کی روشنی میں
منطق و فلسفہ: ارسطو اور سقراط کے نزدیک انسان "حیوانِ ناطق" ہے۔ بولنا اور اظہار کرنا اس کی فطرت ہے۔ جب انسان کے اندر کے خیالات زبان تک نہیں آتے، تو وہ روح پر بوجھ بن جاتے ہیں۔
طبِ یونانی و اسلامی: طبِ یونانی میں "ارواح و قویٰ" کا تصور ملتا ہے۔ جب دل کے خیالات اور دکھ کسی دوسرے تک منتقل ہوتے ہیں، تو "روحِ نفسانی" کو تسکین ملتی ہے، جس سے قلب کی حرارتِ غریزی متوازن رہتی ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء: اس نظریے کے تحت، مسلسل ذہنی دباؤ اور باتوں کو اندر روکنا اعصاب پر تحریک (Irritation) پیدا کرتا ہے، جو بعد ازاں جسمانی امراض کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک اچھا ہمراز درحقیقت آپ کے اعصابی نظام کا معالج ہوتا ہے۔
آیو ویدک و سنسکرت: قدیم فلسفے میں اسے "آتما کا ملاپ" کہا گیا ہے۔ جب دو دل ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر وا ہو جاتے ہیں، تو انسانی جسم میں موجود مثبت توانائی (Ojas) میں اضافہ ہوتا ہے۔
حکمت کے علمی خزانوں سے انتخاب
> کون ہوتا ہے حریفِ مےِ مرد افگنِ عشق
> مکرر لبِ ساقی پہ صلا ہے کہ نہیں
> (مرزا غالب)
>
> محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
> اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
>
معالجین کی رائے
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے مطب کی مسند پر بیٹھ کر ہم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سی جسمانی بیماریوں کی جڑ وہ "ان کہی باتیں" ہوتی ہیں جو مریض کسی سے کہہ نہیں پاتا۔ ایک سچا دوست یا ایک ہمدرد معالج وہی ہے جو آپ کی خاموشی کو پڑھے اور آپ کو وہ ماحول دے جہاں آپ "بغیر کسی ڈر" کے بول سکیں۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(50 سالہ تجربہ کار معالج)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
رابطہ و پتہ:
🏥 خالد دواخانہ
📍 چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر۔
📞 فون: 03127530789
نوٹ: اگر آپ ذہنی تناؤ یا کسی بھی طبی الجھن کا شکار ہیں، تو بلا جھجھک تشریف لائیں یا فون پر مشورہ کریں۔
👍 لائک کریں | 🔄 شیئر کریں | ✅ پیج فالو کریں
College
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Chownk Harniya Wala Ghala Godam
Okara
56300
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 19:00 |
| Tuesday | 09:00 - 19:00 |
| Wednesday | 09:00 - 19:00 |
| Thursday | 09:00 - 19:00 |
| Friday | 09:00 - 11:00 |
| Saturday | 09:00 - 19:00 |
| Sunday | 09:00 - 19:00 |