Universal Testing Forum
Universal Testing Forum is a platform open to all, to get information about any kind of admissions in higher studies regarding all the universities in Pakistan.
شدید سردی میں خان صاحب کی بہنوں اور کارکنان پہ واٹر کینن سے پانی پھینکا جا رہا یے.۔
دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی ضرورت کا ایک سے دوسال کا پانی ہمیشہ سے ریزرو میں رکھتے ہیں۔
مصر صرف دریائے نیل پر تین سالوں کی ضرورت کا پانی سٹاک کرلیتا ہے۔
امریکہ صرف کولاریڈو دریا پر پونے تین سال کی ضرورت کا پانی ذخیرہ کر لیتا ہے۔
جنوبی افریقہ صرف اورنج دریا پر ڈیڑھ سال کا پانی ذخیرہ کر لیتا ہے۔
بھارت بھی اپنی ضرورت کا 5 ماہ کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے ۔
پاکستان اپنے دو دریاؤں عظیم تر سندھ اور جہلم پر تربیلا اور منگلا ڈیم پر صرف ایک ماہ کی ضرورت کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔
26/08/2025
کچھ عرصہ قبل میں نے لکھا تھا کہ کسی کو غریب اور ضرورت مند سمجھ کر مدد کرلو اور پھر اسکی بدمعاشی کا شکار ہونے کے لیے تیار رہو۔۔۔۔اب آہستہ آہستہ اس چیز کی سمجھ آنے لگی ہے کہ اللہ نے جس کو جس مقام پر رکھا ہے ٹھیک ہی رکھا ہے۔۔ہم نے ذرا سیانے اور ہمدرد بن کے دکھایا آج نتائج بھگت رہے ہیں۔۔
ہمارے دانشوروں نے ان خوانچہ فروشوں کے درد میں فیس بک لکھ لکھ کر کالی کی ۔۔ویڈیوز بنا بنا کر الگ ان کے دماغ خراب کیے۔۔کہ جی اصل محنت تو کرہی یہی لوگ رہے ہیں۔ان سے رعائت نہ کراو۔۔جو مانگیں دے دو۔۔نتیجتا یہ طبقہ بد تمیز اور بدمعاش بنتا گیا۔۔گندے پھل بیچنا۔۔گورنمنٹ ریٹ سے زیادہ پر بیچنا ۔۔ایک سے خریداری نہیں کی اور دوسرے سے کرلی تو دشمنی پال لینا۔ اب یہ آپ کی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔۔۔ یہ غریب نہیں۔۔بد معاش بدمزاج اور بد عادات کا شکار لوگ ہیں۔
دیدہ دلیری دیکھیں ۔تشدد مار پیٹ اور جان لینے سے بھی نہیں ہچکچاے۔۔بڑی گاڑیوں والوں کی چاپلوسی میں تو پھل اٹھا کر گاڑی میں رکھ آتے ہیں۔۔ان کا زور بھی غریبوں پر چلتا ہے۔۔۔
ایسی ہی بدتمیزی ایک ریڑھی والے نے بازار میں میرے بھائی سے بھی کی تھی۔۔۔ایک تو سڑک پر ناجائز طور پر جگہ گھیرے کھڑا تھا۔اوپر سے کسی کو اس جگہ ٹھہرنے ہی نہیں دے رہا تھا۔۔گویا اب یہ جگہ میرے باپ کی ہے۔۔۔
میرا بھائی میرے انتظار میں وہاں رکا تھا
۔کہتا یہاں سے ہٹو۔۔بھائی نے کہا میری بہن آنے والی ہے ہٹتا ہوں۔۔۔
نہایت درشتگی سے اس نے گندی سے گالی بکی اور بھائی کو دھکا دیا ۔۔۔میرے بھائ نے بمشکل خود کو سنبھالا اور اسے تھپڑ مار دیا۔۔ اس بد بخت نے اپنے ساتھیوں کو بلا لیا۔۔کئی رہڑھیوں والے مارنے کے لیے دوڑے چلے آے ایک کے ہاتھ میں جانے کیا تھا میرے بھای کے سر میں مارا۔۔۔بھائی کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔۔وہ تو صد شکر میں موقع پر پہنچ گئی اور اپنے بھائی کے آگے آگئی۔۔ورنہ جانے یہ بد بخت کیا سلوک کرتے۔۔
میں اسی وقت پولیس اسٹیشن گئی رپورٹ درج کرائی۔۔اور کہا کہ جب تک اسے پکڑو گے نہیں یہی بیٹھی رہونگی۔۔۔۔پولیس بندے شناخت کرنے کے لیے ہم بہن بھائی کو ساتھ لے گئی۔۔یوں سمجھیں ساری مارکیٹ اس بندے کو بچانے کے لیے ایک ہوگئی۔۔۔اس وقت پورا مجمع بن گیا اور پولیس پر دباو ڈالنا شروع کردیا۔۔ایک پولیس والے نے ویڈیو بنانا شروع کردی۔۔۔اس وقت بندہ پکڑے بغیر واپس آنا پڑا۔۔انہوں نے مجھے یقین دہانی کرائی کل آپکا مجرم حوالات میں ہوگا۔۔ایک دن کا وقت دے دیں۔۔۔
اگلے دن پہلا فون مجھے اے ایس آئی کا آیا۔۔معمولی سا مسئلہ ہے۔۔غریب لوگ ہیں معاف کرکے معاملہ رفع دفع کرلیں اور ایف آئی ار کی طرف نہ جائیں۔۔۔میں نے کہا جتنا مسئلہ ہے اتنی ایف آئی آر کاٹ دیں۔۔مجھے یہ مشورہ نہ دیں۔۔۔
اب ایک اور پولیس والے کی کال تھی ۔اس بندے نے مجھے ڈرانے کی کوشش کی ۔۔کہ دشمنی بن جاے گی۔۔یہ لوگ کل کو پھر نقصان پہچا دیں گے۔۔میں نے کہا جب سزا مل جاے گی تو اگلی بار نقصان پہنچاتے ہوے ڈریں گے۔۔۔
صبح ہوگئی۔۔اب مارکیٹ کا صدر میرے والد کے پاس پہنچ گیا۔۔۔ابو پر دباو ڈالا کہ اس ریڑھی والے اور اسکے ساتھیوں کو ایف آئی آر سے بچا لو اپنی بیٹی کو کہو معاف کردے۔اب بیٹی تھانے جاے گی؟؟۔۔
ابو سادہ لوح آدمی۔۔پریشان ہوگیے۔۔میرے پاس آگئے۔۔بیٹا معاف کردو اسے۔
میں نے ابو سے کہا اس مارکیٹ صدر کو جواب دے دیں کہ میری بیٹی نہیں مان رہی۔۔۔اور تھانے میں انصاف کے لیے جانا پڑتا ہے۔۔بیٹی تھانے کیوں نہیں جا سکتی؟۔۔
تین چار جگہ سے فون آنے کے بعد مجھے معلوم ہوگیا یہ لوگ ایف آئی آر کاٹنے سے کترا رہے۔۔۔میں نے روز اور روہی چینل کے نمائندوں سے رابطہ کیا۔۔ان سے اچھی دعا سلام تھی۔۔ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ چلیں ۔۔کیمرے وغیرہ مت چلانا۔۔بس پولیس پر پریشر ڈالنا ہے۔۔
جب تھانے پہنچی کوئی تیس سے چالیس بندہ موجود تھا۔۔یہ اس ریڑھی والے کی سپورٹ میں آےہوے تھے۔۔رپورٹرز کو ساتھ دیکھ کر پولیس والے بھی کچھ الرٹ ہوگئے۔۔اور سمجھ گئے کہ اب ایف آئی آر تو کاٹنی ہی پڑے گی۔۔۔
ہمیں ایک بڑے سے کمرے میں بٹھایا گیا۔۔اور اے ایس ائی نے میرے بھائی سے دوبارہ واقعہ پوچھا۔۔بھائی نے بتایا تو کہتا غریب ہیں معاف کردو۔میں نے اس کومخاطب کیا۔۔آپ نے قانون پر عمل کرنا ہے یا غریبوں کی مدد؟؟؟
اب اس لڑکے کا باپ اٹھا اور میرے قدموں میں آکر بیٹھ گیا۔۔
زاروقطار رونے لگا
۔میں نے بوکھلا کر پاوں پیچھے ہٹاے ۔۔
اتنا تو میں جان گئی تھی مارکیٹ کا صدر ایف آئی آر نہیں ہونے دے گا۔۔کیونکہ ایموشنل بلیک میلنگ کا پورا سامان موجود تھا۔ اور یہ بھی سمجھ آرہا تھا کہ ان سب کےمفادات ایک دوسرے سے کتنے جڑے ہوے۔۔۔
میں نے کچھ سوچتے ہوے ایک شرط رکھی۔۔
اس لڑکے کو اسی چوک میں لے جا کر جوتے ماریں جایں۔۔تاکہ اسے عقل آجاے کہ اس جگہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرنی۔۔
یہ لوگ فورا میری شرط مان گئے
آگے ہماری اور پولیس کی گاڑی تھی اور پیچھے یہ موٹر سائیکلوں کا قافلہ بنا کر چل پڑے۔۔چوک میں جمع ہوے۔۔اس لڑکے کے سر میں باپ نے جوتیاں ماریں۔۔میں نے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔۔اور اپنے گھر کو چل پڑی۔۔۔ میں تو اس وقت سے جان گئی تھی کہ غریب غریب کہہ کر جو ایجج انکو ہم دیتے ہیں اسی غلطی کی سزا ہمیں انکی بدمعاشی کی صورت بھگتنی پڑتی ہے۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Multan
60000