RomeoSoft

RomeoSoft

Share

©Official Page® █║▌│█│║▌║││ █║▌║ ▌║ Verified(facebook private limited)
www.twitter.com/RomeoSoftPK
www.ITSekho.COM

Photos 23/09/2017

یہ کیا ڈرامہ بازی چل رہا ھے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ھم یہ کرپٹ لیڈر اس لیے منتخب کرتے ھے کہ وہ قوم کی بجاۓ اپنے کرپشن چھپانے کے لیے قانون سازی کریں ۔ آج تو ویسے بھی پاکستان میں 2 ادارے ایسے ھے جس پر سب قوم متفق ھے اور وہ نے سپریم کورٹ اور پاک فوج اب اس کے لیے بھی کرپٹ حکمران قانون سازی کررہا ھے اگر ملک کا یہ حال رہا تو پر پاکستان سے اسلامی اور جمہوریت ہٹادیں اللہ سے ڈرو خدا کے بندوں ایک دن ھم سب نے اس فانی دنیا سے خالی ہاتھ جانا ھے کیونکہ آج کل مولویوں نے بھی کرپشن کا ساتھ دیا ھے یقین کریں تو کس پی کریں ۔

Photos 23/09/2017

تبديلی آ نہيں رہی تبديلی آ گئی ھے
عمران خان نے سکولوں میں قرآنی تعلیمات لازمی قرار دیا
سود کے خاتمے کیلیے اسمبلی میں بل منظور کرلیا
ختم نبوت مضمون تعلیمی نظام میں شامل کرلیا
جہیز جیسی غیر اسلامی رواج کے خلاف اقدام اٹھایا
حضرت عمر فاروق کے دن پر پر تمام صوبے میں چھٹی کا اعلان کیا.
خیبرپختونخواہ کے سکولوں میں مطالعہ قران حکیم لازمی، سکولوں میں مطالعہ قرآن حکیم کی کتابوں کے تقسیم کا سلسلہ جاری،اب خیبرپختونخوا میں ہر گھر سے حافظ قرآن نکلے گا
خيبر پختونخواہ کی مساجد ميں صرف پڑھے لکھے حضرات کو 14 سکيل اور تنحواہ دينے کے ساتھ امام مسجد مقرر کرنے کا فيصلہ

Photos 23/09/2017

جب کسی قوم پر نواز شریف جیسا خکمران مسلط ہوجائے,تو اس ملک کے عوام اور معاشرہ تباہ وبرباد ہوجاتا ہے,بنی اسرائیل بھی فرعون کے ساتھ خوش تھے,خالانکہ فرعون اس کے بچے ذبح کرتا تھا,اور ان کے بچیوں کے ساتھ زیادتیاں کرتا تھا,لیکن پھر بھی بنی اسرائیل اس کے ساتھ خوش تھے,کیونکہ فرعون نے اس قوم کو تعلیم علم شعور روزگار اور اس کے بنیادی خقوق سے محروم رکھا تھا,اور صرف اس قوم کو اپنے لئے سجدے اور تابعداری سکھایا تھا,اس قوم نے خضرت موسی کو نہیں مانتا تھا,اور نہ ہی اس کی کوئی بات سنتا تھا,اس لئے مئں ن لیگ کے تمام سپورٹروں اور جاہلین سے اتفاق کرتا ہوں,جیسا وہ کہہ رہےہیں,کہ ہمیں پتہ ہے,کہ نواز شریف دنیاں کا سب سے بڑا چور ہیں,لیکن ہم ووٹ اسی کو ہی دینگے,ہم یہ نہیں جانتے کہ برباد ہوتی ہیں وہ قومیں جو کسی تاجر کو ملک کی سربراہ بنایا جائے,ہم یہ بھی نہیں جانتے,کہ ملک چار سالوں میں کتنا عرب ڈالر مقروض ہوا اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ خارجہ پالیسی کیا ہوتی ہیں,اور ملک کا عزت وقار کیا ہوتا ہیں,اور یہ بھی نہیں پتہ کہ پنامہ اور کرپشن چوری کیا ہوتا ہیں,اور ہمیں سپریم کورٹ اور عدل وانصاف کے بارے میں کچھ پتہ نہیں,ہمیں صرف اتنا پتہ ہیں,کہ اگر میاں صاحب سو میں سے ستر روپے کھاتے ہیں,تو تیس ہم پر لگاتے ہیں,تو میرا نہیں حیال کہ ایسی قوم کی تقدیر بدلیں,

Photos 20/09/2017

یہ وہ منافق ھے جس نے اپنے پانچ سالہ دور میں کے پی کے میں کوئی کام نہیں کیآ اور نہ ھی اسلامی نظام نافذ کیاپر ابھی پی ٹی آئی کے ایک اچھے کام میں بھی منافقت کر رہا ھے ۔اس کے منافقت سے دور رہوں ۔یہ مسلمانوں کے خلاف اور امریکہ کا ایجنڈ ھے ۔اسلام کا کو سیاست کے لیے استعمال کرتا ھے باقی یہ مولوی نہیں ھے۔یہ ہر آنے والی خکومت کی نوکری کرتا ھے ۔
علماء کا اطمینان اور محترم مولانا فضل الرحمان
(پوسٹ پڑھنے سے قبل یہ واضح ہو. کہ راقم کو مولانا اور ان کی جماعت کے طرزِ سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں.نہ ہی یہ موضوعِ بحث ہے. اور نہ ہی پی ٹی آئی کے کشتگانِ محبت میں سے ہوں. میرا موضوع معاشرے کے ایک قابلِ قدر جز کے معاشی مسائل سے ہے. اور اسی تناظر میں یہ پوسٹ پڑھا جائے.)
محترم مولانا فضل الرحمان صاحب اوران کے خوش عقیدت پیروکاروں کا فرمان ہے.
‏ "مسجدوں کے ائمہ کو سرکاری فنڈ سے تنخواہ دینا یہودی سازش ہے۔ اور یہ پیسے حرام ہیں۔ جو علماء کرام ہرگز نہیں لیں گے۔" اور یہ کہ "علماء اپنی موجودہ حالت پہ بہت خوش ہیں"۔
سب سے پہلے تو آپ کی توجہ ایک کھلے تضاد کی طرف مبذول کراؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی پارٹی کے کئی ایک ایم پی ایز بشمول آپ کے اپوزیشن لیڈر بھائی کے۔۔اسی "یہود نواز" صوبائی حکومت کی طرف سے عطاء کردہ اس "ناپاک" دولت اور مراعات سے جی کھول کر برکات و انوارات سمیٹ رہے ہیں۔۔۔۔۔
آپ کے گروپ کے بے شمار علماء سرکاری سکولوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اے ٹی، ٹی ٹی، قاری، لیکچرر، پروفیسرز کے عہدوں پر براجمان ہیں۔ اور اسی صوبائی حکومت سے تنخواہیں لے رہے ہیں۔
سینکڑوں علماء مساجد میں سرکاری خطیب کے عہدے پہ کام کر رہے ہیں۔
جب بھی مذکورہ بالا پوسٹوں کے لئے کوئی ٹیسٹ یا انٹروویو ہوتا ہے۔ امیدواروں میں آپ کے مدرسوں کے فضلاء کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ بلکہ (گستاخی معاف) کئی ایک کو آپ اور آپ کی پارٹی کے بااثر افراد نے بغیر استحقاق کے زبردستی سرکاری اداروں میں ٹھونسوایا ہے۔ جو ہر مہینے بلاناغہ بسم اللہ پڑھ کر اسی "گمراہ اور غیر اسلامی" حکومت کی طرف سے عطاء کردہ تنخواہ بڑی عقیدت و احترام سے وصول کرتے ہیں۔
پہلے یوں کیجئے۔ کہ ان تمام افراد سے استعفے دلوائیے۔ ان کو خانوں اور نوابوں کی "پاکیزہ اور حلال" زکوة پہ قانع کروائیں۔ان کے ذلت آمیز رویے اور ان کی جلی کٹی سننے پہ ان کو راضی کریں۔۔روکھی سوکھی کھا کر صبر و شکر کے ساتھ سونےکی مشق خود بھی کریں. اور زیرو میٹر پراڈو میں پھرنے والے اور عالیشان بنگلوں میں رہنے والے اپنے عزیزوں اور مصاحبین کو بھی کروائیں. یہ سب کر گزریں۔ تو یہ ارشاد گرامی پھر سے فرمائیں۔ " ہمارے علماء اپنی حالت پہ بہت خوش ہیں"۔ کیونکہ
بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
آپ اسلام آباد کی روشنیوں میں گم ہو کر شاید بھول بیٹھے ہیں۔ کہ مسجد کے مولوی کو جو تنخواہ ملتی ہے۔ اس میں وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھلا سکتا۔
آپ شاید بے خبر ہیں۔ یا جان بوجھ کر بے خبر بنے بیٹھے ہیں۔ کہ اھلِ محلہ مولوی کے لئے دو ڈھائی ہزار تنخواہ جمع کرکے اسے اپنا جدی پشتی غلام سمجھتے ہیں۔ ان میں سب سے گھٹیا ترین آدمی بھی مولوی سے اپنے ماتحت کا سا سلوک کرتا ہے۔
آپ کو شاید یہ بات بھی معلوم نہیں۔ کہ خان اور نواب کی زکوة اور خیرات کھا کر اس کے سامنے حق کی بات نہیں کی جاسکتی۔ اسے اصل دین نہیں سکھایا جا سکتا۔
آپ شاید یہ بھول بیٹھے ہیں۔ کہ مولوی اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوانے کے صرف خواب دیکھتا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ کے ہاتھوں کو سونے کے کنگن سے آراستہ کرنے کی آرزو میں درگور ہو جاتا ہے۔ وہ موت کے منہ میں سسکتے، تڑپتے اپنے بیمار بچوں کو دیکھ کر صرف موٹے موٹے آنسو بہاتا ہے۔ ان کے علاج کی سکت نہیں رکھتا ہے۔
کیا یہی ہے وہ حالت، جس کےمتعلق آپ اے سی ہوٹلوں میں کھڑے ہو کر فرماتے ہیں۔ "ہمارے علماء اپنی حالت سے خوش ہیں"
یہ آپ کیسے رہنما ہیں علماء کے، جو خود وزیروں مشیروں کے پروٹوکول کے سارے مزے اڑا کر اپنے پیروں کاروں کو صحابہء کرام (رض) کی طرز حیات کا درس دے رہے ہیں؟؟؟؟؟
یہ تحریر لکھتے وقت یہ خیال میرے ذہن میں تھا۔ کہ مولانا کے کئی عقیدتمندوں کے ساتھ میرا محبت کا تعلق ہے۔ ان میں سے چند ایک میرا پوسٹ باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ مجھے معلوم تھا۔ وہ ناراض ہوں گے۔ انہیں ہرگز اچھا نہیں لگے گا۔ لیکن کیا کروں۔عقل و دانش کے قافلے دن کے اجالے میں لٹتے دیکھتا ہوں۔ تو دل خوں کے آنسو بہاتا ہے۔۔۔
میں ان کی طرح مولانا صاحب کے لئے عقیدتوں کا وہ خ*ل آنکھوں پہ نہیں چڑھا سکتا۔ جس میں انہیں موصوف کا ہر عمل جنتی اور ان کے حریفوں کا جہنمی لگتا ہے۔
آخر میں اس بھی ایک تلخ بات ۔۔...
آپ خود کو علماء کا نمائیندہ سمجھتے ہیں۔ اور علماء نبیء کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ( ان پہ میرا روح اور تن فدا ہوں) کے وارث ہیں۔ وہ نبی۔۔ جو دوسروں کو کھلا کر رات کو بھوکا سو جاتا تھا۔ فداہ امی و ابی۔ ان کا فرمان ہے۔۔وہ میرا امتی نہیں۔ جو رات کو پیٹ بھر کر سو جائے۔ اور اس کے پڑوس والے بھوکے رہ جائیں۔.اور فرمان گرامی کا مفہوم ہے. تم مومن نہیں ہو سکتے. جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے وہ پسند نہ کرلو. جو خود اپنے لئے کرتے ہو۔۔
یہ کیسا وارث ہے نبیوں کا۔۔۔ جو قارون کے خزانے پہ بیٹھ کر اپنے عقیدےمندوں کے لئے آبرومندانہ وظیفے کے چند ٹکے حرام کر دے۔۔۔
آپ کے قائد کو ایک دن ضرور میرا رب ذوالجلال اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ اور ان سے پو چھے گا۔ کہ تم اگر اپنے پیروکاروں کے لئے "اِس حالت" پہ راضی تھے۔ تو خوداپنے لئے "اُس حالت" کو کیوں اختیار کیا تھا؟؟

Want your business to be the top-listed Autos & Automotive Service in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Multan
60000