Apna
29/04/2026
رویوں کے زخم: جو کبھی نہیں بھرتے
***) تحریر منور علی رانا) ***
مخلص انسان اکثر رویوں کی زد میں رہتا ہے۔ جب ایک سچا انسان کسی کے منافقانہ رویے کا سامنا کرتا ہے، تو وہ اس صدمے سے باہر نہیں آپاتا۔ *کہا جاتا ہے کہ وقت ہر زخم کا مرہم ہے، لیکن یہ مقولہ شاید صرف جسمانی چوٹوں تک محدود ہے۔ جب کوئی انسا ن کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے یا اسے کوئی جسمانی تکلیف پہنچتی ہے، تو قدرت کا نظامِ مدافعت اسے مندمل کر دیتا ہے۔ کچھ عرصے بعد وہ تکلیف صرف ایک دھندلی سی یاد بن کر رہ جاتی ہے۔ لیکن جہاں بات انسانی رویوں، تلخ جملوں اور سرد مہری کی ہو، وہاں وقت کا مرہم بھی بے اثر ثابت ہوتا ہے۔چوٹ اور رویے کا فرق جسمانی چوٹ ایک ظاہری عمل ہے جس کا علاج ادویات سے ممکن ہے۔ لیکن رویوں کا وار براہِ راست انسان کی عزتِ نفس اور اس کے مان پر ہوتا ہے۔ جب کوئی اپنا، جس پر ہم حد سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں، اپنے رویے سے ہماری اہمیت کو رد کرتا ہے یا ہماری خلوصِ نیت پر شک کرتا ہے، تو وہ کرچیوں میں بٹا ہوا اعتماد دوبارہ کبھی جڑ نہیں پاتا۔یادداشت کا نفسیاتی پہلوانسانی دماغ "احساسات" کو معلومات سے زیادہ شدت سے محفوظ کرتا ہے۔ ہم یہ بھول سکتے ہیں کہ کسی نے ہم سے کیا بات کی تھی، لیکن ہم یہ کبھی نہیں بھول پاتے کہ اس شخص کی گفتگو یا رویے نے ہمیں کیسا محسوس کروایا تھا۔ناقدری کی چوٹ: جب انسان کسی رشتے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دے اور بدلے میں اسے لاتعلقی ملے، تو یہ رویہ ایک دائمی کسک بن جاتا ہے۔تضحیک کا لہجہ: الفاظ تو ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں، مگر وہ لہجہ جس میں کسی کی تذلیل کی گئی ہو، ذہن کی دیواروں سے ٹکراتا رہتا ہے۔خلوص اور منافقت کا ٹکراؤ معاشرے میں جہاں ملمع سازی اور دکھاوا بڑھ جائے، وہاں مخلص انسان اکثر رویوں کی زد میں رہتا ہے۔ جب ایک سچا انسان کسی کے منافقانہ رویے کا سامنا کرتا ہے، تو وہ اس صدمے سے باہر نہیں آپاتا۔ وہ چوٹ اس لیے نہیں بھولتا کیونکہ اس کے نزدیک رشتوں کی بنیاد سچائی پر ہوتی ہے، اور جب بنیاد ہی ہل جائے تو عمارت کا نقشہ ذہن سے نہیں مٹتا۔ رویوں کی پائیداریتعلقات میں "درگزر" ایک اعلیٰ صفت ہے، لیکن درگزر کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ انسان وہ رویہ بھول گیا ہے۔ انسان معاف تو کر دیتا ہے، مگر اس کا لاشعور اسے دوبارہ اسی مقام پر کھڑے ہونے سے روکتا ہے جہاں اسے پہلے چوٹ لگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ رویے انسانوں کے درمیان وہ غیر مرئی دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں جنہیں گرانا ناممکن ہوجاتا ہے۔لوگ واقعی چوٹیں بھول جاتے ہیں، لیکن رویوں کا زہر روح میں سرایت کر جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارا طرزِ عمل اثر رکھتا ہے۔ کسی کو جسمانی اذیت دینا شاید اتنا بڑا جرم نہ ہو، جتنا کسی کے خلوص کو اپنے رویے سے قتل کرنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویوں میں نرمی اور لہجوں میں حلاوت پیدا کریں، کیونکہ رشتوں کی دنیا میں واپسی کا راستہ اکثر تلخ رویے ہی بند کرتے ہیں۔
29/04/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
60000