Friends Law Chamber

Friends Law Chamber

Share

14/09/2025

*جب امریکہ نے ویت نامی انقلابیوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تو اس نے انہیں کہا کہ پیرس میں اپنا ایک وفد بھیجیں تاکہ جنگ بندی پر بات چیت ہوسکے*۔ اُس وقت ویت نامی مجاہدین امریکی فوجیوں پر کاری ضربیں لگا چکے تھے اور ان کے ساتھ سخت سلوک بھی کیا تھا۔
چنانچہ ویت نامی انقلابیوں نے چار افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا—دو خواتین اور دو مرد۔ امریکی خفیہ اداروں نے اس وفد کے لیے پیرس کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں قیام و طعام کا بندوبست کیا، ہر طرح کی آسائشیں، راحتیں اور نعمتیں مہیا کر دیں۔
لیکن جب وفد پیرس کے ہوائی اڈے پر اُترا تو وہاں موجود امریکی کاریں انہیں ہوٹل لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھیں، مگر ویت نامی وفد نے ان میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اپنی مرضی سے قیام کریں گے اور وقت پر اجلاس میں پہنچ جائیں گے۔
امریکی وفد کو یہ سن کر حیرت ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: "آپ کہاں قیام کریں گے؟"
وفد کے سربراہ نے جواب دیا: "ہم پیرس کے ایک مضافاتی علاقے میں مقیم ایک ویت نامی طالب علم کے گھر میں رہیں گے۔"
امریکی نمائندہ مزید حیران ہوا اور کہا: "ہم نے تو آپ کے لیے ایک شاندار اور آرام دہ ہوٹل کا بندوبست کیا ہے۔"
اس پر ویت نامی نے کہا:
"ہم تو آپ سے لڑائی کے دوران پہاڑوں میں رہتے تھے، چٹانوں پر سوتے اور گھاس پھوس کھا کر گزارا کرتے تھے۔ اگر اب ہماری زندگی بدل گئی تو ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمارے ضمیر بھی نہ بدل جائیں۔ اس لیے ہمیں ہماری حالت پر رہنے دیں۔"
چنانچہ وفد نے اس طالب علم کے گھر میں قیام کیا، اور بعد ازاں یہی مذاکرات امریکی قبضے کے مکمل خاتمے کا سبب بنے۔
جب دونوں وفود ہوائی اڈے پر ملاقات کے لیے آئے تو امریکی نمائندہ مصافحہ کرنے کے لیے آگے بڑھا مگر ویت نامیوں نے ہاتھ بڑھانے سے انکار کر دیا اور ان کے سربراہ نے کہا:
"ہم اب بھی دشمن ہیں، ہمارے عوام نے ہمیں آپ سے مصافحہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
جو اپنا ضمیر بیچ دے، وہ اپنا وطن بھی بیچ دیتا ہے۔"
🥺 ایک دن جنرل "جیاب"—جو ویت نامی انقلابی رہنماؤں میں سے تھے—نے ستر کی دہائی میں ایک عربی دارالحکومت کا دورہ کیا، جہاں فلسطینی "انقلابی" تنظیمیں موجود تھیں۔
وہاں جا کر اُس نے دیکھا کہ ان کے قائدین پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں: جرمن گاڑیاں، کوبائی سگری، اطالوی مہنگے سوٹ، اور فرانسیسی قیمتی خوشبوئیں۔ جب اس نے یہ سب اپنی ویت کانگ کے جنگلوں کی زندگی سے موازنہ کیا تو بے ساختہ ان سے کہا: 😡
"آپ کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوگی!"

انہوں نے پوچھا: "کیوں؟"
جنرل جیاب نے جواب دیا:
"کیونکہ انقلاب اور دولت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
وہ بغاوت جو شعور کے بغیر ہو دہشت گردی میں بدل جاتی ہے، اور وہ بغاوت جس پر مال و دولت برسائی جائے اس کے قائدین چور بن جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص انقلاب کا دعویٰ کرے مگر خود محلوں اور کوٹھیوں میں رہے، لذیذ کھانے کھائے، اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرے، جبکہ باقی عوام کیمپوں میں رہیں اور زندہ رہنے کے لیے بین الاقوامی امداد کے محتاج ہوں… تو سمجھ لو کہ وہ قیادت حقیقتاً انقلاب لانا ہی نہیں چاہتی۔
اور *جس قیادت کو انقلاب کی کامیابی مطلوب ہی نہ ہو، اس کی بغاوت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی*۔

02/08/2025

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کوٹ کے اختیارات دے دیے
عنوان:
تمام ضلعی و سیشن ججز کو صارف عدالتیں مقرر کرنے کا حکم
تاریخ:
یکم اگست 2025
جاری کنندہ:
ملک علی ذوالقرنین اعوان، ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری، لاہور ہائی کورٹ

پس منظر:
پنجاب اسمبلی کی جانب سے "Punjab Consumer Protection (Amendment) Act, 2025" کی منظوری اور 25 جون 2025 کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے فوری عمل درآمد کے لیے درج ذیل احکامات صادر کیے:

---

اہم نکات:

1. تمام ضلعی و سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو ان کے متعلقہ اضلاع میں صارف عدالتیں (Consumer Courts) مقرر کر دیا گیا ہے۔

2. ہر ضلع کے ضلعی و سیشن جج کو صارف عدالتوں کا انتظامی جج (Administrative Judge) نامزد کیا گیا ہے، اور وہ نئے کیسز ان عدالتوں کو سونپنے کے مجاز ہوں گے۔

3. جو کیسز پرانے (defunct) صارف عدالتوں میں زیر التواء تھے، ان کا اختیار بھی ضلعی و سیشن جج کو دے دیا گیا ہے کہ وہ بوجھ کے مطابق ایک یا ایک سے زیادہ ججوں کو یہ مقدمات تفویض کریں۔

قانونی اور عملی اہمیت:

یہ نوٹیفکیشن پرانی صارف عدالتوں کے خاتمے کے بعد نئے نظام کے نفاذ کا اعلان ہے۔

اب صارفین اپنے مسائل کے حل کے لیے براہِ راست ضلعی و سیشن جج یا ان کے مقرر کردہ ایڈیشنل جج کے پاس جا سکتے ہیں۔

یہ عمل عدالتی نظام کو مزید موثر بنانے اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم ہے.

20/02/2025

6 مارچ 2024 کو دہلی کے گنگا رام ہسپتال میں 45 سالہ پینٹر، جو 2020 میں ٹرین حادثے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہو گئے تھے، کا کامیاب ہاتھوں کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ انہیں مینا مہتا نامی خاتون کے عطیہ کردہ ہاتھ لگائے گئے، جو دماغی طور پر مردہ قرار دی گئی تھیں اور اپنی زندگی میں اعضاء عطیہ کرنے کا عہد کر چکی تھیں۔ اس سرجری میں 12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا، جس میں ڈونر کے ہاتھوں اور مریض کے بازوؤں کے درمیان شریانوں، عضلات، ٹینڈنز اور اعصاب کو جوڑا گیا۔ مریض کو مکمل صحت یابی کے بعد 7 مارچ 2024 کو ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔
ہمارے ہاں حوروں کے خدوخال زیرِ بحث ہیں. کوئی پستی سی پستی ہے بابا جی کے دیس میں. پناہ بخدا!

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


4-Bashir Khan Block District Courts Multan
Multan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00