Impressive Lab

Impressive Lab

Share

13/04/2021
16/03/2021

کھجوریں آپ کی صحت کےلیے انتہائی مفید ہوتی ہیں۔ کھجوروں میں مختلف بیماریوں کا علاج موجود ہوتا ہے، جیسے دل کے امراض، خون کی کمی اور اس کے علاوہ کھجور آپ کے وزن کم کرنے میں بھی بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔کھجوروں میں وٹامنز، منرلز اور فائبر وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں اور یہ نظام ہاضمہ کےلیے بہت فائدہ ہوتی ہیں۔اگر آپ 12 دن تک 3 کھجوریں کھائیں گے تو اس سے آپ کو نہ ایسے نتائج حاصل ہونگے کہ آپ خود بھی حیران رہ جائیں گے۔ ٭ چونکہ کھجوروں میں وٹامنز اور منرلز موجود ہوتے ہیں اور اس میں قدرتی شوگر ، انرجی اور فائبر بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھجوریں آپ کو فاسفورس ، کیلشیم م آئرن، میگنیشیم، پوٹاشیم اور زنک فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔٭ کھجوریں آئرن سے مالامال ہوتی ہیں۔ جن افراد میں خون کی کمی ہوتی ہے ان کو کھجوروں کا استعمال کرنا چاہیئے۔ کھجوریں آپ کے جسم کو انرجی فراہم کرتی ہیں اور سستی کو دور کرتی ہیں۔ ٭کھجور میں موجود منرلز آپ کی ہڈیوں کےلیے بہت مفید ہے۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہیں، اس میں موجود میگنیشیم ، سیلینیم اور کاپر آپ کی کمزور ہڈیوں کےلیے بہت فائدہ مند ہیں۔ ٭ کھجوریں آپ کی آنکھوں کےلیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں اور اس سے آپ کی بینائی بھی بہتر ہوتی ہے۔٭ خالی پیٹ کھجوریں کھانے سے آپ اپنا وزن باآسانی کم کرسکتے ہیں۔٭ کھجوریں آپ کو دل کے امراض سے بھی محفوظ رکھتی ہیں، یہ دل کو مضبوط بھی بناتی ہیں

31/07/2020

جہاں جہاں آج عید ہے وہاں وہاں سب کو میری طرف سے عید الضحی مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو ڈھیروں خوشیاں نصیب کرے

31/10/2019

کو غریبوں کا بادام کہا جاتا ہے۔اپنے بے شمار فوائد کی وجہ سے اسے مکمل خوراک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں 28 فیصد تک لحمیات پائے جاتے ہیں جب کہ اس میں فیٹ تھایامائن‘ نیاسن ‘فولاد ‘ وٹامن ای‘ ڈی‘ کے اور بی 6‘ فولیٹ‘ کیلشیم ‘جست اور مفید غیر تکسیدی اجزاء پائے جاتے ہیں۔
مونگ پھلی میں پائے جانے والے غیر تکسیدی اجزاء غذائیت کے اعتبار سے
سیب‘
چقندر
اور گاجر سے زیادہ طاقتور ہوتے ہی
ں۔یہ غیر تکسیدی اجزاء نہ صرف جلد کی خشکی دُور کرتے ہیں بلکہ ہونٹوں کو گلابی کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
اس کا وٹامن ڈی ہڈیاں اور دانت مضبوط بناکر انہیں بیماریوں سے دُور رکھتا ہے
مونگ پھلی میں موجود وٹامن سی سرطان کے خلاف لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ قدرتی فولاد خون کے نئے خلیات بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔100گرام کچی مونگ پھلی میں ایک کلو دودھ کے برابر لحمیات ہوتے ہیں ۔ اس میں حیاتین کی مقدار گوشت کے مقابلے میں 1.3گنا زیادہ ہوتی ہے۔ مونگ پھلی عمل انہضام صلاحیت بڑھانے میں کار گر ہے ۔ یہ معدے اور پھیپھڑوں کو طاقت دیتی ہے۔ مونگ پھلی کے تیل کی خصوصیات آلو کے تیل سے کسی صورت کم نہیں ہیں۔ روزانہ تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی کھانے سے نہ صرف دبلے پتلے لوگوں کا وزن بڑھنے لگتا ہے بلکہ یہ کسرت کرنے والوں کے لئے انتہائی غذائیت بخش ثابت ہوتی ہے۔
کینیڈا میں کی جانے والے ایک جدید تحقیق کہتی ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے مونگ پھلی کا استعمال نہایت مفید ہے۔ماہرین کے مطابق ذیابیطس میں مبتلا افراد کے لئے روزانہ ایک چمچہ مونگ پھلی کا استعمال مثبت نتا ئج مرتب کرسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی کا استعمال انسولین استعمال کرنے والے افراد کے خون میں انسولین کی سطح برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امریکی سائنس دانوں کا مشورہ ہے کہ مونگ پھلی کے شوقین اگر اسے کچی‘ بھنی ُہوئی یا تلی ہوئی شکل میں کھانے کے بجائے اُبال کر کھائیں تو اس سے جسم کو ایسے مفید صحت کیمیائی مادے 4 گنا مقدار تک حاصل ہوں گے‘ جو بیماری سے مدافعت میں مدد دیتے ہیں‘تاہم مونگ پھلی کو بہت زیادہ پکانے یا گرمی پہنچانے سے اس کے مفید صحت کیمیائی مادے ضائع ہوجاتے ہیں۔
طبی ماہرین ماں بننے والی خواتین کو حمل کے دوران بہت زیادہ مونگ پھلیاں کھانے سے منع کرتے ہیںی ماہرین نے کہا ہے کہ معمول کے ساتھ مونگ پھلی کھانے والے افراد میں عارضہ قلب کے امکانات کم اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔مونگ پھلی کی افادیت کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں مونگ پھلی کے استعمال کو لمبی عمر کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ مونگ پھلی اور گری دار خشک میوے کھانے والے لوگوں میں عارضہ قلب سے ہونے والی اموات کا خطرہ کم ہوجاتا ہے
۔امریکہ کی یونیورسٹی سکول آف میڈیسن سے وابستہ محقق ڈاکٹر ژاﺅ او شو نے کہا کہ ہماری تحقیق میں مونگ پھلی کھانے سے قلبی فوائد ظاہر ہوئے ہیں،جن لوگوں نے خشک میوے کے طور پرمونگ پھلی کھائی تھی ان میں مطالعے کی مدت کے دوران موت کا خطرہ ایسے لوگوں کی نسبت کم تھا جنھوں نے خشک میوہ کم استعمال کیا تھا یا بالکل نہیں کھایا تھا۔ ژاﺅ او شو نے کہا کہ مونگ پھلی اگرچہ خشک میوہ نہیں ہے اور اس کی درجہ بندی پھلی کے طور پر کی جاتی ہے لیکن اس کے غذائی اجزاءخشک میوے سے ملتے جلتے ہیں۔انھوں نے تجویز کیا ہے کہ جن لوگوں کو مونگ پھلی سے الرجی نہیں انھیں دل کی صحت کے فوائد کے لیے زیادہ سے زیادہ مونگ پھلی کھانی چاہئے جو دوسرے میووں کے مقابلے میں سستی بھی ہے۔ امریکی طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مونگ پھلی میں دیگر میوہ جات کی طرح انسانی صحت کے لیے بے شمار طبی اور غذائی فوائد چھپے ہیں اس میں اعلیٰ درجہ کی پروٹین وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ مونگ پھلی کا مفید روغن ،وٹامن ای ،نمکیات ،فائبر دل کی بیماریوں کے لیے قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔

20/10/2019

مونگ پھلی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو تندرست رکھنے کی خاطر بے شمار پھل اور میوہ جات پیدا فرمائے۔ مونگ پھلی بھی ان میںسے ایک ہے۔ بھنی ہوئی گرم گرم مونگ پھلی لوگ بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔ یہ عوام و خواص، نوجوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں سب کا دل پسند میوہ ہے۔ اسے غریب کا بادام بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں بہ کثرت پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک بیل کا پھل ہے۔ اسے مغز بادام کی طرح شوق سے کھایا جاتا ہے۔ سستا اور خشک میوہ ہے۔ آج کل اس کا موسم ہے۔ اس کا تیل بہت استعمال ہوتا ہے۔
مونگ پھلی کا آبائی وطن جنوبی امریکا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ایک ہزار سال پہلے آثار قدیمہ کے ماہرین نے پیرو کے ساحلی علاقوں کی کھدائی کی، تو انھیں وہاں مونگ پھلی کے بھی آثار ملے۔ آج برصغیر پاک و ہند میں دنیا بھر کی مونگ پھلی کی پیداوار کا ۴۰فیصد حصہ پیدا ہوتا ہے۔
اس کی پھلیاں زمین کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ پھر بھی اس کا شمار مغز اور بیج کے زمرے میں ہوتا ہے۔
مونگ پھلی کی کاشت سالانہ بنیاد پر ہوتی ہے۔ ایک پھلی میں بالعموم ایک سے تین دانے ہوتے ہیں۔ بعض توانا اور بڑے ہوتے، بعض کمزور اور چھوٹے۔ زمین کے اندر یہ دانے دو ماہ میں پک کر تیار ہو جاتے ہیں۔ پکنے کی صورت میں اس کی بیلوںکو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ چار سے چھے ہفتوں کے دوران یہ مکمل طورپر خشک ہو جاتے ہیں۔
مونگ پھلی کے غذائی اجزا
اپنے مزاج کے اعتبار سے یہ پھلی گرم خشک ہے۔ لہٰذا ۱۰۰گرام مونگ پھلی میں غذائی اجزا کا تناسب حسب ذیل ہے:
فاسفورس ۳۵۰ ملی گرام، چکنائی ۱ئ۴۰ فیصد، فولاد ۸ئ۲ ملی گرام، کیلشیم ۹۰ ملی گرام، وٹامن ای ۴ئ۲۶۱ ملی گرام، لحمیات ۳ئ۲۵فیصد، ریشے ۱ئ۳فیصد، رطوبت ۰ئ۳فیصد، کاربوہائیڈریٹس ۱ئ۲۶فیصد اور معدنی اجزا ۴ئ۲فیصد۔ کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس بھی پایا جاتا ہے۔۱۰۰گرام مونگ پھلی میں حراروں کی تعداد ۵۶۷ہوتی ہے۔
غذائی اور طبی اہمیت
مونگ پھلی میں دیگر پھلوں اور میوہ جات کی طرح بے شمار طبی اور غذائی فوائد مضمر ہیں۔ اس میں اعلیٰ درجے کی پروٹین وافر مقدارمیں موجود ہوتی ہے۔ اسی پروٹین کی بنا پر اسے خصوصی امتیاز حاصل ہے۔ ایک کلو گرام مونگ پھلی میں ایک کلوگرام گوشت کی نسبت زیادہ لحمیاتی اجزا پائے جاتے ہیں۔ جبکہ اتنی ہی مقدار میں انڈوں کے بالمقابل تقریباً اڑھائی گنا زیادہ پروٹین ملتی ہے۔ اسی طرح پنیر اور سویابین کے سوا دیگر کوئی بھی نباتات پروٹین کی مقدار کے سلسلے میں مونگ پھلی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس میںپائی جانے والی پروٹین متوازن ہوتی ہے۔
بطور غذا
مونگ پھلی کو اگر بغیر بھونے کھایا جائے، تو اسے خوب چبا کر کھائیے کیونکہ اس کو جس قدر زیادہ چبایا جائے، یہ اتنی ہی زیادہ زود ہضم ہو جاتی ہے۔ دوسری صورت میں یہ دیر ہضم ہے۔ یہ مونگ پھلی کی خامی ہے۔ لیکن بھون کر استعمال کرنے سے اس کی یہ خامی دور ہو جاتی ہے۔ اسے پکا لینے سے نشاستہ مزید قابل ہضم ہو جاتا ہے۔ اگر زیادہ پکانے کی زحمت سے بچنا ہو، تو اسے پیس کر آٹا بنا لیجیے۔
مونگ پھلی میں روغن وافر ہوتا ہے۔ اس لیے پیسنے سے یہ مکھن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسے کسی مقصد کے لیے استعمال کرنے سے پیشتر تھوڑا سا خوردنی نمک ضرور شامل کر لیجیے۔ اگر اس مکھن کا قوام زیادہ گاڑھا ہو تو اس میں پانی وغیرہ نہ ملائیے بلکہ پتلا کرنے کے لیے مونگ پھلی کا تیل ملا لیں۔
مونگ پھلی محض لذیز غذا ہی نہیں، یہ شفا بخش اثرات بھی رکھتی ہے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔
موٹاپا
موٹاپا بنفسہ کوئی مرض نہیں، لیکن بہت زیادہ موٹاپے سے جسم کئی بیماریوں کو گھیر لیتی ہیں۔ مونگ پھلی کے استعمال سے موٹاپے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ دوپہر کھانے سے کچھ دیر قبل مٹھی بھر مونگ پھلی (بھنی ہوئی) کھائیے ساتھ ہی بغیر چینی کے چائے یا کافی استعمال کیجیے۔ وزن میں رفتہ رفتہ کمی آ جائے گی۔ یہ نسخہ برتنے سے بھوک بھی لگتی ہے۔ نتیجتاً دیگر اغذیہ کے کم استعمال سے وزن بھی کم ہو جاتا ہے۔
ذیابیطس
اس عارضے میں مبتلا مریض اگر مونگ پھلی مناسب مقدارمیں استعمال کریں، تو انھیں افاقہ رہتا ہے۔ مریض اگر روزانہ ۶۰،۵۰ گرام مونگ پھلی کھا لیں، تو وہ غذائیت کی کمی سے محفوظ رہیں گے۔ بیشتر بدن کو درکار نایاسین کی مقدار بھی پوری ہوتی رہے گی۔
دانتوں اور مسوڑھوں کا علاج
دانتوں کی مضبوطی میں مونگ پھلی اکسیر ہے۔ اسے نمک کے ساتھ ملا اچھی طرح چبا کر کھایا جائے، تو مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں۔ یوں مضرت رساں جراثیم کا انسداد ہوتا اور دانتوں کا قدرتی رنگ برقرار رہتا ہے۔ مونگ پھلی کھانے کے بعد منہ پانی سے اچھی طرح صاف کر لیںتاکہ اس کے ذرات دانتوں میں نہ رہ جائیں۔
جریان خون اور نکسیر
بعض اوقات چوٹ لگنے سے زخم کی صورت خون مسلسل بہتا اور اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مونگ پھلی کا متوازن استعمال جریان خون (ہیموفیلیا) کا کامیاب علاج ہے۔ حیض مقدار میں زیادہ آنے کے عارضے میں بھی مونگ پھلی مفید اثرات رکھتی ہے۔
چہرے کی تروتازگی
اس کا روغن حسن و جمال میں اضافے کے لیے مستعمل ہے۔ یہ بیرونی جلد کی نشوونما کرتا اور خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جوانی میں چہرے پر ظاہر ہونے والے کیل مہاسوں، چھائیوں اور کیلوں کی پیدائش روکتا ہے۔ مونگ پھلی کے روغن میں مساوی وزن لیموں کا رس شامل کر لینے سے نتائج زیادہ بہتر اور حوصلہ افزا نکلتے ہیں۔ رات کو سوتے وقت یہ آمیزہ چہرے پر ملیے، تروتازگی نکھار اور شادابی آ جائے گی۔
متفرق امراض
مونگ پھلی میں بے شمار فوائد پوشیدہ ہیں۔ مثلاً اس میں بہ آسانی ہضم ہو جانے والا تیل کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ تیل جلد میں نرمی اور ملائمت پیدا کرتا ہے۔ معتدل طور پر سہل بھی ہے۔ ایسی خواتین جو بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں، ان کے لیے شکر اور دودھ کے ساتھ مونگ پھلی کھانا عمدہ اور طاقت بخش غذا ہے۔ اس غذا میں ہر طرح کی چھوت روکنے کی صلاحیت ہے۔ ٹی بی اور یرقان کے مریضوں کے لیے یہ نادر روزگار شفابخش دوا ہے۔
استعمال میں احتیاط
یہ یاد رہے کہ مونگ پھلی کو غذا کی جگہ نہ دیجیے۔ بعض محققین کی رائے میں مونگ پھلی کے روزمرہ استعمال سے جسم میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ بعض لوگوں کو بھونی ہوئی مونگ پھلی کھانے سے الرجی ہو جاتی ہے۔ سانس کی تکلیف اور بالخصوص دمہ کے مریض مونگ پھلی کم کھائیں۔ البتہ اگر یہ مونگ پھلی نمک ملے پانی میںاُبال لیں‘ تو زیادہ نقصان سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ معدے کے عوارض میں مبتلا اور یرقان کے مریض بھی اس سے گریز کریں۔

Want your business to be the top-listed Health & Beauty Business in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Multan