Umar
28/07/2023
28/07/2023
https://chat.whatsapp.com/C2aDnkZ92wSFkfFTFel6Cj
*☀️استفادے سے محروم لوگ*
*دکتور عبدالرحمان العریفی ______ اپنی کتاب _____زندگی سے لطف اٹھایئے میں لکھتے ھیں*
مجھے بخوبی یاد ہے کہ ایک دفعہ مجھے اپنے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا جو مختصر سے سوال پر مشتمل تھا۔
*“یا شیخ! خود کشی کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟“*
میں نے موبائل پر سائل سے رابطہ کیا۔ دوسری طرف سے ایک نوجوان کی آواز آئی جس نے ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا۔
میں نے کہا:
*“معاف کرنا، آپ کا سوال میری سمجھ میں نہیں آیا، ذرا دہرا دیجیئے۔“*
اس نے زندگی سے بیزار لہجے میں جواب دیا:
*“شیخ ! سوال تو بڑا ہی واضح ہے کہ خودکشی کے متعلق شرعی حکم کیا ہے“؟*
میں نے چاہا کہ اسے ایسا جواب دوں جس کی اسے توقع ہی نہ ہو۔
میں ہنسا اور بولا:
*“مستحب (پسندیدہ)ہے۔“*
“کیا؟“
وہ چلایا۔
میں نے پوچھا:
*“کیا ہم یہ طے کرنے میں آپ کا ہاتھ بٹائیں کہ آپ کو خود کشی کے لیے کون سا طریقہ استعمال کرنا چاہیے؟“*
نوجوان چُپ رہا۔
اس پر میں نے کہا:
“اچھا! یہ تو بتائیں کہ آپ کیوں خودکشی کرنا چاہتے ہیں؟“
وہ بولا:
“کیونکہ مجھے کوئی ملازمت نہیں ملتی، لوگ مجھے پسند نہیں کرتے،
دراصل میں ایک ناکام انسان ہوں۔“
پھر اس نے مجھے تفصیل سے اپنے حالات بتائے۔ وہ اپنے آپ میں بہتر تبدیلی لانے اور اپنی دستیاب صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر افراد کو یہ مسئلہ درپیش ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر انسان اپنے آپ کو اس قدر گھٹیا کیوں کر لیتا ہے؟
وہ پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے لوگوں کو ہی کیوں تاکتا رہتا ہے؟
اُن کی طرح وہ بھی پہاڑ کی بلندیوں پر کیوں پہنچ نہیں جاتا؟
یا کم از کم لوگوں کی دیکھا دیکھی وہ پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ومن یتھیب صعود الجبال
یعش ابد الدھر بین الحفر
“جو کوہ پیمائی سے گھبراتا رہتا ہے وہ ہمیشہ گڑھوں میں زندگی بسر کرتا ہے۔“
کیا آپ جانتے ہیں کہ کون آدمی اس کتاب یا ان اصولوں پر لکھی گئی کسی بھی کتاب سے کبھی استفادہ نہیں کر سکتا؟
*وہ بے مایوس انسان جس نے اپنی بُری عادتوں کے روبرو سرِ تسلیم خم کر دیا ہے،*
جو اپنی صلاحیتوں پر قناعت کرکے بیٹھ گیا اور کہتا ہے کہ میں کروں۔ یہ میرے مزاج کا حصہ ہے۔
اللہ نے مجھے ایسا ہی بنایا ہے۔
میںاس کا عادی ہو چُکا ہوں۔
میں اپنا طریقِ کار تبدیل نہیں کر سکتا۔
اگر آپ کہیں کہ میں خالد جیسی تقریر کرنے لگوں
یا احمد جیسا خوش باش نظر آئوں
یا جواد کے مانند لوگوںکا پیارا بن جائوں
تو یہ محال ہے، وغیرہ وغیرہ۔
ایک دن میںایک مجلس میں حاضر تھا۔ میرے ساتھ ایک خاصے عمر رسیدہ بزرگ تشریف فرما تھے۔
مجلس میں بیٹھے تقریبا سب افراد عوام کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔
وہ بزرگ اپنے آس پاس بیٹھے لوگوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
وہ مجلس کے دیگر افراد میں صرف اپنی بڑی عمر کی وجہ سے نمایاں تھے۔
اس کے علاوہ ان میں ایسی کوئی خاص بات یا غیر معمولی صلاحیت نہیں تھی۔
میں نے وہاں ایک مختصر سی تقریر کی جس میںشیخ عبدالعزیزبن باز کے ایک فتوے کا ذکر کیا۔ جب میں اپنی بات کاذکر کر چکا تو بڑے میاں فخریہ لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئے:
“میں اور ابن باز ہم جماعت تھے۔ آج سے چالیس سال قبل ہم مسجد میں شیخ محمد بن ابراہیم کے پاس اکٹھے پڑھا کرتے تھے۔“
میںحیران ہو کر ان کی طرف دیکھنے لگا۔ یہ خبر سنا کر مارے خوشی کے ان کے چہرے کی دھاریاں دمک رہی تھیں۔ وہ اس بات پر بے حد مسرور تھے کہ انھیں کسی زمانے میں ایک کامیاب انسان کی صحبت حاصل رہی ہے جبکہ میں دل ہی دل میںانھیں ملامت کر رہا تھا:
“اے لاچار آدمی! تم بھی ابنِ باز کی طرح کامیاب کیوں نہ ہو سکے؟
تمھیں تو راستے کا بھی علم تھا،
پھر تم نے اپنا سفر جاری کیوں نہ رکھا؟“
ایسا کیوں ہے کہ ابنِ باز وفات پائیں تو منبر و محراب اُن پر روئیں، لائبریریاںآنسو بہائیں اور ایک زمانہ اُن کے فراق پر نوحہ کناں نظر آئے اور جب تمھیںموت آئے تو شاید تم پر رونے والا کوئی نہ ہو!
اور اگر کوئی روئے بھی تو زیادہ سے زیادہ دل جوئی کی خاطر یا رسمِ دنیا کے طور پر۔
ہم میںسے ہر ایک کبھی نہ کبھی یہ ضرور کہتا کہ فلاں بڑے آدمی کو جانتا ہوں یا میں فلاں کا ہم جماعت رہا ہوں یا فلاں کے ساتھ میری مجلسیں جما کرتی تھیں۔
ان باتوں پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔
فخر کی بات صرف یہ ہے کہ آپ بھی اُسی بلندی پر پہنچیں جس پر وہ فائز ہوئے۔
ہم میں سے ہر ایک کو بہادر بننا اور آج ہی سے یہ عزم کرنا ہو گا کہ وہ اپنی اُن صلاحیتوں سے جن کے کارآمد ہونے پر اسے اطمینان ہے،
اپنی زندگی میںفائدہ اٹھائے گا اور ایک کامیاب انسان بننے کی کوشش کرے گا۔
اس لیے تُرش روئی چھوڑ کر اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائیں۔
افسردگی کو خیر بار کہہ کر ہشاش بشاش اور خوش باش نظر آئیں۔
کنجوسی چھوڑ کر کشادہ دلیِ اپنائیں ۔
اپنے غصے پر قابو پائیں اور اسے بردباری اور ٹھہرائو میں بدل ڈالیں۔
مصائب کے گُھپ اندھیروں میں خوشی کی کرنیں تلاش کریں۔
اپنے آپ کوایمان و یقین اور اعتماد کے ہتھیاروں سے لیس کریں۔
اپنی زندگی میں دلچسپی لیں۔
اس لطف اٹھائیں۔
زندگی کے دِن تھوڑے ہیں،
اُنھیں بے جا غم اور بے مقصد پریشانیوں میں ضائع نہ کریں۔
رہا یہ سوال کہ یہ سب کیونکر ممکن ہے تو یہ کتاب میں نے اسی سوال کے جواب میںلکھی ہے۔
میرے ساتھ رہیے ،
ہم ان شاءاللہ جلد منزل پر پہنچ جائیں گے۔
حاصل
*“بہادر وہ ہے جو پختی عزم کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو ترقی دیتا رہے اور اُن سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔“*
*کیا آپ مکمل کتاب پڑھنا چاھتے ھیں تو مجھے ضرور بتایئے*
اسلامی تحریریں WhatsApp Group Invite
27/07/2023
*آپ کے نیک عمل کا ایک ذرہ بھی ضائع نہیں کیا جائے گا، آپ نے کسی کو سلام کیا، کسی کو اچھا مشورہ دیا، مِحشر کے دن ایک ایک ذرہ یہاں تک کہ آپ کے دل کے نیک ارادے بھی آپ کے نیکیوں کے پلڑے میں موجود ہونگے، یہاں تک کہ رستے میں گرے کسی پتھر کو ہٹا دینا اس سوچ کے ساتھ کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگے، آپ کا ایک بار سبحان اللّٰـــہ کہنا بھی سنبھالا جائے گا..*
*اِن شَاءَ اللّٰــــہ تعالیٰ*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
.. .
Multan