Agha Musharraf
04/12/2024
جس دیس سے ماؤں بہنوں کواغیار اٹھا کر لے جائیں
جس دیس سے قاتل غنڈوں کواشراف چھڑا کر لے جائیں
جس دیس کی کورٹ کچہری میں انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
جس دیس کے چپے چپے پرپولیس کے ناکے ہوتے ہوں
جس دیس کے مندر مسجد میں ہر روز دھماکے ہوتے ہوں
جس دیس میں جاں کے رکھوالےخود جانیں لیں معصوموں کی
جس دیس میں حاکم ظالم ہوںسسکی نہ سنیں مجبوروں کی
جس دیس کے عادل بہرے ہوں آہیں نہ سنیں معصوموں کی
جس دیس کی گلیوں کوچوں میں ہر سمت فحاشی پھیلی ہو
جس دیس میں بنت حوا کی چادر بھی داغ سے میلی ہو
جس دیس میں آٹے چینی کابحران فلک تک جا پہنچے
جس دیس میں بجلی پانی کا فقدان حلق تک جا پہنچے
جس دیس کے ہر چوراہے پردو چار بھکاری پھرتے ہوں
جس دیس میں روز جہازوں سےامدادی تھیلے گرتے ہوں
جس دیس میں غربت ماؤں سےبچے نیلام کراتی ہو
جس دیس میں دولت شرفاء سےنا جائز کام کراتی ہو
جس دیس کے عہدیداروں سے عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں
جس دیس کے سادہ لوح انساں وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں
اس دیس کے ہر اک لیڈر پرسوال اٹھانا واجب ہے
اس دیس کے ہر اک حاکم کو سولی پہ چڑھانا واجب ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Multan
60000