Amir bashir
برکتوں والا گھر
ملتان شہر میں سدو حسام کے قریب محلہ شاہ اسلام میں موجود یہ کھنڈر نما گھر جو اپ دیکھ رہے ہیں سو سال پہلے کسی نے بہت چاؤ سے بنوایا تھا تقریبا ایک کنال رقبہ پر موجود یہ دو منزلہ گھر دو حصوں میں یکساں طرز تعمیر سے بنایا گیا دونوں حصوں میں ڈرائنگ روم کچن بیڈ روم سٹور ایک ہی طرح سے بنائے گئے گھر میں لاتعداد کھڑکیوں کے ساتھ روشن دان اتشدان الماریاں دروازے محرابی دالان اونچی چھتیں اور دیے روشن کرنے کے لیے طاقدام موجود ہیں گھر کی تعمیر میں استعمال کی گئی اینٹ ایسی تھی جو اج دیکھنی بھی نصیب نہ ہو چھت میں ٹرین کی پٹری بطور گارڈر استعمال کی گئی ہے جبکہ چھت کا باقی کام لکڑی اور مٹی سے کیا گیا ہے اصل بات کہ یہ بہت ہی شاندار دو منزلہ گھر تھا جو اب مٹی اور اینٹوں کا ڈھیر بن چکا ہے
جہاں تک برکتوں والے گھر کی بات ہے اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے اس گھر کے موجودہ مالک عاصم شیرازی صاحب نے بتایا کہ یہاں قیام پاکستان کے بعد تقریبا چار خاندان باری باری رہے اور اج وہ چاروں خاندان بیرون ملک جیسے کہ یورپ امریکہ کینیڈا بحرین جاپان اور سعودی عرب میں آسودہ حال ہیں یعنی اس مکان میں جو بھی رہنے کے لیے ایا وہ کچھ سال بعد بیرون ملک چلا گیا حتی کہ اس گھر میں گھریلو کام کاج کرنے والی ملازمہ ایک خاتون بھی اپنے بچوں سمیت سعودیہ منتقل ہو گئں ہو سکتا ہے کہ یہ سب اتفاق ہو لیکن لوگ اسے برکتوں والا گھر کہتے ہیں میں نے موجودہ مالک عاصم شیرازی صاحب سے پوچھا کہ اپ باہر کیوں نہیں گئے فورا بولے جب ہم نے یہ گھر لیا تو رہنے کے قابل نہیں تھا اسی لیے ہم اس میں نہ رہ سکے اسی لیے ملتان میں ہی رہ گئے بیچارے عاصم بھائی 😥😥
ویسے اب مکان اس حالت میں ہے کہ اسے قابل رہائش بنانے پر جتنا خرچہ ہوگا اتنے پیسوں میں اپ کو کسی ملک کا ویزہ باسانی مل جائے گا😜
عامر بشیر عرف بانکے میاں
وسیب ایکسپلورر ملتان
گائیڈ والڈ سٹی ملتان
12/05/2026
چاندی کا ورق کیسے بنتا ہے؟
چاندی کا ورق بر صغیر میں سینکڑوں سالوں سے بن رہا ہے اور استعمال ہو رہا ہے یہاں اس کا زیادہ استعمال کھانے کی چیزوں جیسے کہ پان اور مٹھائیوں کی سجاوٹ اور حکمت میں کیا جاتا ہے کچھ لوگ اس کو حکیم لقمان کے دور کا بتاتے ہیں جبکہ بر صغیر میں اس کا سہرا مغلوں کے سر باندھا جاتا ہے ملتان میں بھی یہ صدیوں سے بنایا اور استعمال کیا جا رہا ہے اور ملتان کا ایک محلہ جس کا نام بھی کاغذ کٹ ہے وہاں چاندی پیس کر اس کا ورق بنایا جاتا تھا اب صرف محلے کا نام باقی بچا ہے چاندی کا ورق بنانے والے نہیں رہے لیکن صرافہ بازار میں دہلی سے تعلق رکھنے والے ہارون رشید اج بھی چاندی اور سونے کا ورق بنا رہے ہیں اور ایک پرانی کاریگری کو زندہ رکھے ہوئے ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ کام ان کے والد نے شروع کیا تھا اور اب میں کر رہا ہوں جہاں تک بنانے کے طریقے کا تعلق ہے ان کا کہنا تھا کہ 100 فیصد خالص چاندی باریک پٹی کی صورت ان کے پاس ہوتی ہے جس کے ٹکڑے چمڑے کی ایک باکس نما کتاب میں تہہ درد رکھ کر اس کو مسلسل دو یا تین گھنٹے لوہے کے ہتھوڑے سے کوٹا جاتا ہے تب جا کر چاندی کا ورک تیار ہوتا ہے اور یہ چمڑے کی باکس نما کتاب اج بھی انڈیا سے ہی منگوائی جاتی ہے جبکہ اس کتاب میں موجود کاغذ نما چیز ہرن کی کھال کی اندرونی جھلی سے بنی ہارون رشید نے بتایا کہ اگر یہ کاغذ کی ہو تو ہتھوڑے کی مار سے یہ فورا ختم ہو جائے اس لیے ہرن کی جھلی سے بنی یہ کتاب استعمال کی جاتی ہے اور یہ تقریبا اٹھ نو ماہ نکالتی ہے اس کے استعمال بارے انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر حکیم لوگ ان سے یہ چاندی اور سونے کا ورق خریدتے ہیں جبکہ سونے کا ورق اج کل کبوتر باز اپنے کبوتروں کو کھلانے کے لیے بنواتے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور کبوتر زیادہ دیر ہوا میں اڑتا ہے۔
ہارون رشید اج بھی ملتان کے صرافہ بازار میں ہتھوڑے کی ٹھک ٹھک جاری رکھے ہوئے ایک پرانے فن کو زندہ کئیے ہوئے ہیں
عامر بشیر عرف بانکے میاں
گائیڈ ملتان والڈ سٹی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Multan