Texpart International Multan.

Texpart International Multan.

Share

We Deal In All Kind Of Electrical Items Like .
-Led Flood Lights
-Led Street Lights
-Led Down Lights
-Led Rods
-Led Bulbs
-Cables Pakistan Cable , Fast Cable , Allied Cable ,
Solar Cables

Sanitary And Hardware Items On Hole Sale Rates.

04/11/2024

ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻓﯿﻞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ۔ ﺟﻮ ﺭﻭﻧﻖ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﮩﻦ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﻻﮈ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﻦ ﻓﺮﺵ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ :
’’ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺪﮮ ﺟﻮﺗﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ،
’’ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﺅ ،
’’ ﭘﺎﭘﺎ ، ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﭨﺎﻭﻝ ﮐﮭﻮﻧﭩﯽ ﭘﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﺒﮭﯽ ، ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﯾﮧ ﺟﻨﺖ ﺍﺳﮯ ﺗﻮ ﻧﺼﯿﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﺳﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔
ﺁﺝ ﺍﺱ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ۔ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﮭﮑﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﺟﻮ ﺭﻭﻧﻖ ﺳﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﮩﻘﮩﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺗﺮﻧﻢ ﻓﺸﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﻣﻌﻄﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﻮﺭ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺗﻮ ﻭﺣﺸﺖ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ، ﺍﺱ ﺑﯿﭩﮯ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﺗﻨﮓ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺎﻣﺎ ﭘﺎﭘﺎ ﺳﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ۔
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻣﯿﮏ ﺍﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺧﺮﯾﺪﺗﯽ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺗﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔
’’ ﭘﺎﭘﺎ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ ، ﻧﻨﮭﮯ ﻧﻨﮭﮯ ﺳﮯ ﺑﯿﻨﮕﻠﺰ ، ﺭﻧﮕﺰ ، ﻣﯿﮏ ﺍﭖ ، ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﻣﮩﻨﺪﯼ ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﻮﻡ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ : ’’ ﺍﺭﮮ ﺍﺗﻨﺎ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ، ﺍﺭﮮ ﻭﺍﮦ ، ﺑﯿﺴﭧ ﮨﯿﻨﮉﺯ ﺍﯾﻮﺭ ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﮍﮐﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮨﯿﮟ ، ﮔﮭﺮ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺠﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﮈﺭﺍﺋﻨﮓ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮈﺭﺍﺋﻨﮓ ﺭﻭﻡ ﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺗﻦ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﺘﻨﺎ ﺳﻮﻧﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ۔
ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ۔ ۔
’’ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ، ﺟﻮ ﮐﮩﮯ ﻟﮯ ﺩﯾﻨﺎ ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﻮﮞ ﺟﻮﮞ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ، ﻭﮦ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺑﺎﭖ ﺑﻨﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ :
’’ ﭘﺎﭘﺎ ﺍٓﭖ ﻣﺎﻣﺎ ﺳﮯ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺩﻓﻌﮧ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﻼﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ، ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﺕ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺑﻼﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔
’’ ﮈﺋﯿﺮ ﻭﺍﺋﻒ ، ﯾﻮ ﺍٓﺭ ﺩ ﺑﯿﻮﭨﯽ ﺍٓﻑ ﺍٓﻭﺭ ﻻﺋﻒ ، ﯾﻮ ﺍٓﺭ ﺩ ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﻭﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ، ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯽ ﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﮐﮭﻮﮞ ﮔﺎ ، ﻧﺎﺯ ﻧﺨﺮﮮ ﺳﮯ ، ﻏﺮﻭﺭ ﺳﮯ ، ﻓﺨﺮ ﺳﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﯽ ﮨﻨﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﯽ ﺷﻮﺧﯽ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻭﺍﺅﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻻﮈ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﺴﭧ ﻓﺮﯾﻨﮉ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻻﺅﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﺑﮭﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﻮﮞ ﮔﺎ ۔ ﭼﯿﺰ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﮮ ۔
ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﻣﯽ ﮐﮩﺘﯽ :
’’ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺟﻠﺪﯼ ﻟﻮﭦ ﺁﻧﺎ ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﻮﭼﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ :
’’ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ، ﮐﺐ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﺍﺏ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﻧﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ :
’’ ﭘﺎﭘﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺁﻧﺎ ﮐﺐ ﮨﮯ ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ :
’’ ﺍﺑﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺣﺴﻦ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﮟ ۔ ۔ ۔ ‘‘
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﻭﮦ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ، ﮐﺐ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﻨﻮﯾﺖ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ۔

11/10/2024

افسوس کہ فرعون کو انگلش کی نہ سوجھی

ہمیں مٹانے کے لئے کیسی کیسی سازشیں ہوتی ہیں اور کس کس طرح سے ہماری بربادی کے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور کون کون ان منصوبوں کو بروئے کار لانے کے لئے سرگرم ہے، ہمیں پتا چل جائے تو معلوم نہیں ہم کیا کر گزریں، کس کس کا گریبان ہمارے ہاتھوں میں ہو اور کس کس کی رنگیں عبا ہمارے ہاتھوں تار تار ہو جائے۔
پاکستان میں ذہانتوں کو کچلنے کا، ہماری نسلوں کو بنجر کر دینے کا اور ہمارے بچوں کو تباہ و برباد کرنے کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے پوری روئے ارض پر اور پوری تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
ذرا غور کریں، لوگوں سے پوچھیں دنیا میں ادھر ادھر آنے جانے والوں سے معلوم کریں، دنیا بھر میں اپنے دوستوں سے رابطہ کریں اور پوچھیں
میں ملکوں کا نام لیتا ہوں اور پھر آپ پتا کریں۔
1۔انگلینڈ
2۔ روس
3۔چین
4۔ کینیڈا
5۔ سپین
6۔ ہالینڈ
7۔ فرانس
8۔ جرمنی
9۔ امریکا
10۔ بلغاریہ
11۔ لکسمبرگ
12۔ ڈنمارک
13۔ ناروے
14۔ اٹلی
15۔ مالٹا
16۔ کوریا
17۔ ویتنام
18۔جاپان
ان ملکوں میں رہنے والوں سے پوچھیں کہ جب آپ کا بچہ 4 یا 5 سال کا ہوتا ہے اور آپ اسے سکول بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ کتنی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کرتا ہے؟
کیا ایسا ہی ہوتا ہے کہ ایک تو اپنی زبان اور ایک کسی عالمی طاقت کی زبان، تاکہ وہ ترقی کر سکے، آگے بڑھ سکے، اگر آپ کو جواب نہ ملے یا پتھر پڑیں تو انہیں بتائیں کہ دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جہاں یہ تماشا پچھلے 76 سال سے ہو رہا ہے، اور ساتھ یہ بھی بتائیں۔۔
میں بات دہرا بھی دوں اور واضح بھی کر دوں کہ پاکستانیوں کا آئی کیو بھی خطرناک حد تک گر چکا ہے اور انہیں سامنے کی بات سمجھانے کے لئے بھی بہت مغز ماری کرنی پڑتی ہے۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر ایک 4، 5 سال کے بچے کو دو زبانوں میں تعلیم دینے کا آغاز کیا جاتا ہے اور یہ عمل پوری دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ یا معقول ملک میں نہیں ہوتا۔ اس سے کیا ہوتا ہے، اگر آپ کو نہیں پتا تو میں بتاتا ہوں۔
ایک زبان دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہےاور دوسری زبان بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے۔
دونوں زبانوں کا رسم الخط ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے اور دونوں میں کسی قسم کا کوئی ربط یا تعلق نہیں
بچہ گھر میں ایک زبان سیکھتا ہے اس کو بولتا ہے اور جونہی وہ سکول میں پہنچتا ہے ایک دوسری زبان میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے، جس سے عملی طور پر علم حاصل کرنے کو وہ ایک مشکل اور پیچیدہ عمل سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔
الفاظ حروف پر مشتمل ہوتے ہیں، اور ہر حرف کی ایک شکل ہوتی ہے، شروع کے سالوں میں جب بچے کو پڑھایا جاتا ہے تو وہ ہر لفظ کی ایک شکل ذہن میں بناتا ہے، جب دو زبانوں میں اس کو تعلیم دی جاتی ہے تو اس کے ذہن میں یہ شکل گڈ مڈ ہونا شروع ہو جاتی ہے نتیجتا"وہ لکھنے پڑھنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے کیا آپ نے کبھی اپنے بچوں کو الجھتے، سٹپٹاتے اور بیزاری سے کتابوں کو ادھر ادھر پھینکتے دیکھا ہے، اگر ایسا ہوا ہے تو اس کا سبب یہی دوغلا نظام تعلیم ہے۔
پھر یہ بھی ہے کہ ایک بچہ ایک زبان میں جب علم حاصل کرتا ہے تو اس کا ذہن یکسو ہوتا ہے، اب اس کا ذہن انتشار کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ دہرے بوجھ تلے دب جاتا ہے، نتیجہ وہی ہوتا ہے جو کہ ہے کہ پچیس کروڑ کا ملک اور اس میں ایک بھی عالمی معیار کا سائنس دان، انجینئر، ماہر معاشیات، ڈاکٹر، سکالر، یا ماہر تعلیم نہیں بن سکا۔
یہ ہمارے حکمرانوں کے اندر کا خوف ہے کہ ان سے ان کا راج سنگھاسن چھن نہ جائے، وہ طبقاتی تقسیم اور ایک طبقے کی دوسرے طبقے پر بالا دستی کو رکھنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں، جب وہ کہتے ہیں کہ ہم دانش سکول اس لئے قائم کر رہے ہیں کہ غریب کا بچہ بھی اسی معیار کی تعلیم حاصل کرے جو کہ ایک امیر کا بچہ حاصل کر رہا ہے تو ان کے ذہن میں غریبوں کو تعلیم سے محروم کرنے اور ان کو کچل دینے کے سوا کوئی مقصد نہیں ہوتا، سیدھی سی بات ہے اگر وہ واقعی غریبوں کے بچوں اور امیروں کے بچوں کو ایک جیسی تعلیم دینا چاہتے ہیں تو پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں، پورے ملک میں ایک زبان میں تعلیم دی جائے جو اردو ہو، اگر چین اور روس جیسے بڑی آبادی اور وسیع رقبے والے ملک اپنے ہاں ایک زبان نافذ کر کے ترقی کی سیڑھیاں چڑھ سکتے ہیں تو پاکستان پر ایسا کیا عذاب ہے کہ اس میں ایک زبان نافذ نہیں ہو سکتی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک غیر ملکی زبان کو مسلط کیا جا رہا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جو فرعون نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیا تھا وہی پاکستانی قوم کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ بھی بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کروا رہا تھا یہاں بھی یہی ہو رہا ہے صرف طریقہ جدا ہے مگر مقصد اور ہدف ایک ہی ہے، میں کسی دوسری تحریر میں یہ بھی بتاؤں گا کہ پاکستان میں لڑکوں کو کس طرح قتل کیا جا رہا ہے، مگر آج کی تحریر میں میں اسی بات پر اکتفا کروں گا کہ پاکستانی بچوں کی ذہانتوں کو کس طرح کچلا جا رہا ہے ان کو کس طرح ذہنی انتشار کا شکار کیا جا رہا ہے اور کس طرح ان کے جوہر کو برباد کیا جارہا ہے۔

آخری بات:
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں زبان کو علم کا درجہ دے کر بچوں کو ہمیشہ کے لئے اس کی گتھیوں کو سلجھانے پر لگا دیا جاتا ہے وہ 14 سال تک اس زبان کی گتھیاں سلجھانے کے چکر میں لگے رہتے ہیں گرتے ہیں، فیل ہوتے ہیں اٹھتے ہیں پھر گرتے ہیں، فیل ہوتے ہیں اور آخر کار تعلیم کو خیرباد کہہ جاتے ہیں۔ علم کیا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کیا ہے، معیشت اور معاشرت کیا ہے اس تک تو ان کو پہنچنے ہی نہیں دیا جاتا۔
آئیے مل کر اس جال کو اس پھندے کو توڑنے کی کوشش کریں ورنہ ماتم کرنا اور پیٹنا تو ہمیں آتا ہی ہے۔ آؤ پچھلے 76 سالوں کا ماتم کریں، جو نسلیں بے فیض مر گئیں ان کا ماتم کریں اور جس غلامی اور بیچارگی کی طرف ہمیں دھکیلا جا رہا ہے اس کا ماتم کریں، اپنی آنے والی نسلوں کا ماتم کریں۔ اپنی بربادی اور تباہی کا ماتم کریں۔

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو انگلش کی نہ سوجھی۔۔۔

28/05/2024

جنہیں چُن لیا جائے،
اُن پر تبصرے نہیں کیے جاتے،
اُن کا احترام کیا جاتا ہے،
حوفناک لمحات وہ ہوتے ہیں جب ہر چیز میسر ہو سوائے ذہنی سکون کے!

28 مئی 1998ء
يوم تكبير
آپ نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا
محسن پاکستان نامورانی سائنسدان
ڈاکٹر عبدالقدیر خان آپ کی عظمت کو سلام
یوم تکبیر مبارک
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

17/05/2024

Stock Available at Best Rate.

Jinko N Type Byfacial 580 w

JA N Type Byfacial 580 w

Longi Himo 6

Crown Elego 6kw
NRE 4 kW

Max power voltas 6kw ip65
Max power voltas 8kw ip65

Want your business to be the top-listed Computer & Electronics Service in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Office No. 11 Yasin Arcade Near Noshab Cienma Railway Road Multan
Multan
60000

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 18:00