Allama Ali Raza Saabqi

Allama Ali Raza Saabqi

Share

18/01/2026

جنوری18, 2026ستائیسویں برسی فقیہ اہل بیت عليهم السلام علامہ محمد حسنین السابقی اعلی اللہ مقامہ التماس درود و سورہ فاتحہ

11/01/2026

عشق و معرفت

عشق معرفت کی انتہا نہیں بلکہ اس کا آغاز باطن ہے علم کہتا ہے میں جانتا ہوں عشق کہتا ہے میں ہوں معرفت سے آگاہی ملتی ہے عشق سے حضور معرفت خدا سمجھاتی ہے عشق خدا دکھاتا ہے عشق میں میں باقی نہیں رہتی اور جہاں میں مٹ جائے وہاں مطلق میں کی مجاوری کا آغاز ہوتا ہے
اگر عشق نور کا تحرک ہے تو ولایت علی اس کی سمت، تمام محبتیں اپنی اصل میں محبت علی کی جھلک ہیں کیونکہ علی محبت الہی کا مظہر اکمل ہے اسی لیے نبی نے فرمایا حب علی ایمان و بغضہ نفاق یہ حدیث ظاہر میں فقہی حکم لگتی ہے مگر باطن میں عرفان کا اصول ہے یعنی عشق علی ایمان کی صورت نہیں ایمان کی حقیقت ہے
عشق عقل کی نفی نہیں ؛ عقل کے اس پار کی بینائی ہے عشق وہ آگ ہے جو دل کو جَلاتی نہیں بلکہ اسے جِلا دیتی ہے عارف علی کو نہیں دیکھتا بلکہ علی کے دیکھنے سے دیکھتا ہے یہی عشق ولایت کا کمال ہے کہ آنکھ نظر نہیں رہتی نگاہِ علی کا ظہور بن جاتے ہے جہاں معصوم نے فرمایا ان مع کل ولی لنا عین ناظرة ہمارے ہر ولی کے ساتھ دیکھنے والی آنکھ ہماری ہے
عشق کی راہ میں فنا موت نہیں اصل بقاء ہے فنا در ولایت وہ مقام ہے جہاں عشق عشق میں گم نہیں ہوتا بلکہ اس کے ظہور میں ظاہر ہوتا ہے یہی وہ لمحہ ہے جہاں عشق حال نہیں رہتا حقیقت وجود بن جاتا ہے خدا کی محبت ولایت کے بغیر ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ ولایت وہ ظرف ہے جس میں عشق الہی خود کو پہچانتا ہے اسی لیے فرمایا من احبنا فقد احب اللہ جس نے ہم سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی کیونکہ خدا کا نور ولایت کے آئینے میں عشق کی صورت میں چمکتا ہے

06/01/2026

ولایت و سرّ نور

خالق نے کہا
اللہ نور السموات والارض
یہ آیت صفت نور کا بیان نہیں اس حقیقت کا اعلان ہے کہ وجود کی بنیاد مادہ نہیں نور ہے جو ظاہر بھی وہی ہے باطن بھی وہی، جب یہ نور تجلی چاہتا ہے تو ولایت کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے کہ نور اگر بے چہرہ ہوتا تو پہچانا نہ جا سکتا ولایت اگر بے نور ہوتی تو پائی نہ جا سکتی معصوم کا فرمانا کہ “ھم اللہ کا نور ہیں” دراصل یہی اظہاریہ ہے کہ ولایت نور الہی ہی کی صورت ہے اور یہ بھی اتحاد حقیقت کا بیان ہے نہ حلول ہے نہ امتزاج بلکہ ظہور حق در آئینہ ولایت
نور محض روشنی نہیں ہے حکمت متعالیہ میں نور کے لیے کہا کہ “النور ھو الوجود في شدة ظهوره" یعنی نور وہ درجہء وجود ہے جہاں کوئی پردہ باقی نہ رہے یہی وجہ ہے کہ نور دکھائی نہیں دیتا نور دکھاتا ہے نور دیکھا نہیں جاتا نور دیکھنے کی صلاحیت بخشتا ہے اور ولایت وہ نکتہ ہے جہاں وجود اپنی تمام تر شدت سے خود کو ظاہر کرتا ہے مراتب نور میں ولایت سب سے بلند درجہ ہےکیونکہ وہاں ذات صفت اور فعل ایک ہی جلوہ بن جاتےہیں یہ وہ مقام ہے جہاں علی کا نور کائنات کے باطن میں سببِ ادراک بن جاتا ہے اسی لیے فرمایا "لولاك يا علي ما عرف الله" اے علی اگر تو نہ ہوتا تو خدا کی پہچان ہی نہ ہوتی ، یہ انتہائے معرفت نہیں بلکہ آغاز عرفان ہے اگر نور کو حقیقتِ وجود کہیں تو ولایت اس کے ادراک کی صورت ہےنور ذات ہے اور ولایت دل میں اس ذات کی بیداری
یہ نور خارجی نہیں باطنی ہےیہ آنکھ سے نہیں دل سے دیکھا جا سکتا ہے قرآن نے کہا فمن لم یجعل اللہ کہ نورا فما لہ من نور جس کے لیے اللہ نور قرار نہ دے اس کے پاس کوئی نور نہیں یہ آیت ولایت ہی کا بیان ہے جسے ولایت عطا ہو اس کے لیے خدا خود نور بن جاتا ہے، عرفا نے کہا الوجود نور و النور هو الحقيقة الاولى وجود نور ہے اور نور ہی پہلی حقیقت
یہی اصل ہےنور ہی وہ اولین تجلی ہےجس نے ولایت کو آئینہ بنایا اور ولایت نے ہر حقیقیت کو معنی، یوں ولایت نور وجود کی شعوری صورت ہےاور یہی شعور معرفت کہلاتا ہے
علی وہ مرکز ہے جہاں تمام انوار گھومتے ہیں کائنات کا ہر ذرہ نور علی سے اپنی پہچان پاتا ہے یہی نقطہء باء کی معنویت ہےیہی نقطہ نور کا مرکز ہےتمام حقیقتیں تمام تجلیاں اسی ایک نقطے سے نمودار ہوئیں

30/12/2025

ولایت اور انسان کامل

کائنات کا ہر ذرہ ایک نا معلوم طلب میں ہے یہ طلب دراصل اپنی اصل کی تلاش ہے ہر وجود اپنے خالق کی طرف پلٹنے کے لیے مضطرب ہے لیکن یہ رجوع صرف راستہ تلاش کرنے سے نہیں ہوتا اس کے لیے باب چاہئیے اور وہ باب وہ باب ہے جسے باب اللہ نے اپنا اور اللہ کا باب کہا جس کی ولایت ہی وہ باب ہے جس کے بغیر تمام عبادتیں صرف حرکات ہیں اور تمام علوم الفاظ کا ہجوم، جب ولایت دل میں اترتی ہے تو انسان اپنے ظاہر سے باطن تک ایک ہی مرکز کی طرف بہنے لگتا ہے یعنی “سیر از ذات تا ذات”۔۔۔
انسان کامل وہ ہے جو اپنی حقیقت میں ولایت کے نور کا مظہر بن جائے اس کا قلب خلق کے ساتھ ہو مگر نگاہ خالق پر جس کا اٹھایا ہوا ہر قدم حق کی تجلی ہے عرفان شیعی میں انسان کامل وہ ہے جو علی کے نور سے اپنی باطنیت کو منور کر لے وہ نہ فنا میں گم ہوتا ہے نہ بقا میں مغرور، وہ فنا کو بقا کا وسیلہ بنا کر اپنے باطن سے خدا کے ظہور کو دیکھتا ہے یعنی انسان کامل وہ ہے جو ولایت کے “مقام جمع الجمع” تک پہنچے جہاں خالق و مخلوق کے درمیان کوئی پردہ نہ رہے سوائے ادب عبودیت کے، یہی وہ مقام ہے جہاں “عبد” اپنے وجود سے نہیں بلکہ “ولی” کے فیض سے باقی رہتا ہے
ولایت کائنات کی طرح انسان کے باطن میں بھی حرکت کا محور ہے جس طرح ہر سیارہ اپنے مرکز کے گرد گھومتا ہے اسی طرح انسان کا قلب ولایت کے گرد گھومتا ہے یہی گردش معرفت کا سفر ہے کہ انسان اپنے ظاہری علم سے اٹھ کر باطنی شعور تک پہنچتا ہے پھر اس شعور سے گزر کر نور ولایت میں فنا ہو جاتا ہے جسے عرفاء نے سیر فی اللہ بالولایہ کہا ہے یعنی خدا کی طرف سفر مگر علی کی ولایت کے ذریعے،
ولایت کوئی خارجی تعلق نہیں ہے یہ انسان کی فطرت کا باطن ہے قرآن کہتا ہے فطرة الله التي فطر الناس عليها یہ فطرت دراصل ولایت کی پہچان ہے
ولایت کا یقین ظاہری علم سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ انسان کی باطنیت میں ازل سے رکھا گیا ہے پس ولایت کو پہچاننا خارجی دلیلوں سے نہیں بلکہ باطن کے بیدار ہونے سے ممکن ہے کہ ذات سے ذات تک کی سیر کی تین منزلیں ہیں پہلی منزل سیر من الخلق الی الحق ہے یہ وہ مرحلہ ہے جب انسان دنیا کی ظاہری صورتوں سے ہٹ کر حق کی طرف سفر شروع کرتا ہے یہ سفر علم سے آگاہی کا نہیں بلکہ حقیقت سے بیداری کا ہے دوسری منزل سیر فی الحق بالحق ہے یہاں سالک ولایت کے نور میں فنا ہوتا ہے یہ فنا عدم نہیں یہ وہ بقا کے جو علی کے نور میں رہ کر خدا کو اپنی باطنی آنکھوں سے دیکھنے کا مقام عطا کرتی ہے تیسری منزل سیر من الحق الی الخلق بالحق ہے یہاں عارف واپس مخلوق کی طرف آتا ہے مگر اب وہ مخلوق میں حق کو دیکھتا ہے اس کی نگاہ میں وجود کا ہر گوشہء حقیقت تجلیء نور علی ہے، ولایت کا پہلا جلوہ محبت ہے دوسرا معرفت تیسرا فنا، محبت وہ بیج ہے جو دل میں بویا جاتا ہے معرفت وہ درخت ہے جو روح میں اگتا ہے فنا وہ پھل ہے جو خدا کے حضور میں پکتا ہے اور جب یہ پھل پکتا ہے تو انسان “انسان کامل” بن جاتا ہے ایسا انسان علی کی ولایت کا سایہ نہیں بلکہ خود ولایت علی کا ایک سایہ دار درخت ہوتا ہے جو اپنے وجود سے دوسروں کو نور دیتا ہے
سفر کا آغاز بھی علی ہے اور انجام بھی علی، علی مبداء بھی ہے علی منتھی بھی، جب عقل اپنے تمام چراغ بجھا دیتی ہے تب دل علی کے نور سے روشن ہوتا ہے عرفان شیعی کا سب سے بڑا نکتہ یہی ہے کہ معرفت حق معرفت علی سے جدا نہیں علی کا ذکر صرف زبان کا عمل نہیں یہ روح کی سانس ہے جب دل میں یہ سانس بیدار ہوتی ہے تو انسان “من العدم الی الوجود “ نہیں بلکہ “من الظل الی النور” سفر کرتا ہے اور یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ علی کی ولایت لا محدود ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan