A.Dansari Studio

A.Dansari Studio

Share

07/08/2025

آج بدھ کا دن ہے۔ تاریخ ہے 12 مارچ 2025ء۔۔۔
آج میرا اسلامیات کا پرچہ تھا۔ اسلامیات کی کتاب بھی محض ایک دو مرتبہ ہی اٹھا کر دیکھی تھی۔ ماڈل پیپر سے معروضی یاد کی تھی اور بسسس۔۔۔لیکن مجھے امید تھی کہ یہ پرچہ اچھا ہو جائے گا۔
آج بھی ساڑھے آٹھ بجے سکول پہنچ گیا تھا اور حسب معمول امتحانی ہال کے باہر لڑکوں کا ہجوم تھا۔ کچھ طلبا درسی کتاب ہاتھ میں پکڑے رٹے مارنے میں مشغول تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی تھی۔ پورا سال تھا لیکن پڑھنے کے لیے یہی وقت ملا؟
ایک بندہ تو تیس پینتیس برس کا تھا۔ اس کو میں نے کل بھی نوٹس کیا تھا اور مجھے خوشی ہوئی تھی کہ اس عمر میں بھی وہ پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج وہ بھی کتاب تھامے مشقوں پر نظر دوڑا رہا تھا۔
ایک اور لڑکا کتاب اٹھائے کھڑا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ جو اللہ کے صفاتی نام ہیں کیا یہ معروضی میں آئیں گے یا انشائیہ میں؟
اس نے بتایا کہ الگ سے نہیں آتے بلکہ معروضی میں ہی ہوتے ہیں۔( پرچے میں ایک بھی نام نہیں آیا تھا۔ میں نے بھی بیس ناموں کے معنی یاد کیے تھے)
بات سے بات نکلی تو وہ پوچھنے لگے کہ میں کون سے سکول سے آیا ہوں؟
سینٹر میں زیادہ تر طلبہ دوسرے اسکولوں سے آتے تھے اور پرائیویٹ امتحان دینے والے بہت کم تھے، آرٹس کے تو گنتی کے دو چار جن میں سے ایک میں خود تھا۔
میں نے بتایا کہ پرائیویٹ داخلہ بھیجا تھا اور گھر بیٹھ کر خود سے تیاری کی ہے۔ اب مجھے انگریزی اور ریاضی کے مضامین کی فکر ہے جو میں نے نہیں پڑھے لیکن اگر سپلی آگئی تو تیاری کرکے پرچے دے لوں گا۔
وہ لڑکا اور اس کے ساتھ موجود اس کا دوست بہت حیران ہوئے پھر ایک نے کہا کہ سپلی کا مت سوچو ورنہ سچ میں آ جائے گی۔
(لیکن میں تو حقیقت پسند ہوں۔)
جیسے ہی نوٹس بورڈ پر لسٹ لگی تو میں نے فٹافٹ قدم بڑھائے۔ آج پھر سے مجھے گیلری( برآمدے) میں بیٹھنا تھا۔ سبھی وہی لڑکے تھے جو مجھے پہلے پرچے کے وقت نظر آئے تھے۔ آج نگران ایک مولوی صاحب تھے۔ نقل والے نگران کا لڑکا چوں کہ اسی گیلری میں تھا تو وہ نگران بھاگتا ہوا ہال سے نکلا اور برآمدے میں چلا آیا۔ اس نے مولوی صاحب سے کہا کہ مجھے یہاں رہنا ہے آپ ہال میں چلے جائیں۔ وہ چپ چاپ چلے گئے جب کہ مجھے لڑکوں کی سرگوشیاں سن کر یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ مولوی صاحب نرم مزاج کے ہیں اور لڑکے ان سے خوش ہیں لیکن اب ان کی جگہ وہی پہلے والا بندہ آگیا تھا۔ شکل و صورت سے تو وہ بھی مولوی ہی لگتا ہے مگر اس کے کام۔۔۔
خیر پہلے والے مولوی صاحب ہال سے واپس گیلری میں آگئے اور بتایا کہ مجھے سپرنٹینڈنٹ صاحب نے گیلری میں ہی نگرانی کرنے کو کہا ہے لہٰذا آپ واپس ہال میں چلے جائیں۔ وہ دونوں نگران میرے قریب ہی کھڑے تھے۔ نقل والے نگران نے سرگوشی کی کہ فلاں رول نمبر والے لڑکے کا خیال رکھنا ہے۔ اس نے کن اکھیوں سے اس لڑکے کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔
لیکن الٹی ہوگئیں سب تدبیریں۔۔۔۔
ہوا کچھ یوں کہ ان دونوں کو ہی مختلف جگہوں پر بھیج دیا گیا اور گیلری میں ایک دوسرا نگران آگیا۔
مجھے اس لڑکے پر ترس آیا کہ بے چارہ رل گیا۔ قسمے اگر میں ریگولر سکول جاتا یا پھر کسی ٹیوٹر سے روزانہ پڑھتا تو امتحانات میں ضرور اچھی پوزیشن لے کر پاس ہوتا۔ یہ فکر ہی نہ ہوتی کہ مجھے کسی نگران کا سہارا لینا ہے یا دوسرے طلبہ کی نقل کرنی ہے۔
مگر ہائے ری قسمت۔۔۔پرچے سے ایک دو دن قبل کتابوں پر سرسری سی نظر ڈالنا اور پھر پرچے دینا مشکل بلکہ بہت مشکل کام ہے۔
آج جب دونوں پرچے ملے تو سوالات مجھے بالکل اجنبی لگے۔
کچھ دیر پہلے نائب سپرنٹینڈنٹ کہہ رہے تھے کہ اپنی رول نمبر سلپ پر دیکھیں کہ اسلامیات نیو لکھا ہے یا اولڈ، ہمارے پاس دو قسم کے پرچے ہیں۔
بعد میں جب میں نے اپنا پرچہ دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ شاید غلط آگیا ہے۔ نائب سپرنٹینڈنٹ پھر ایک اور پرچہ لے آئے لیکن جب اس پر سورۃ الاحزاب لکھا دیکھا تو میں نے کہا کہ نہیں! یہ تو پرانے نصاب کا پرچہ ہے۔
خیر پھر میں نے اسی پر غور و خوض کیا اور پرچہ حل کرنے لگا۔ معروضی کے مجھے آٹھ جوابات یاد تھے اور دو کے بارے میں کنفیوز تھا کیوں کہ ان کا ذکر کتاب یا ماڈل پیپر میں نہیں آیا تھا۔
انشائیہ تو تھا ہی بالکل اجنبی سا۔۔۔یعنی کہہ سکتا ہوں کہ سوالات سارے غلط تھے، میں جواب کیا دیتا؟
اس پرچے میں نو سوالات میں سے چھ کے جوابات دینے تھے اور میں نے گن گن کر چھ چھ ہی جواب لکھے۔
پھر انشائیہ کا حصہ دوم تھا جس میں تین شخصیت کا ذکر تھا اور کسی دو پر مضامین لکھنے تھے۔ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ یاد تھا سو انہی پر آدھے سے زیادہ صفحہ لکھ دیا۔
ایک حدیث کا ترجمہ لکھا۔
سود کے نقصانات کے بارے میں ایک تحریر لکھی اور قریباً ایک سوال کو چھوڑ کر باقی سب لکھ دیا تھا۔ پرچے کا وقت ختم ہونے میں دس منٹ باقی تھے اور نگران عین میرے سامنے بیٹھ گئے تھے۔ چند لڑکے باقی تھے زیادہ تر تو بہت پہلے ہی اپنی نشستیں چھوڑ چکے تھے۔ میں نے بھی دو مرتبہ اچھی طرح اپنی جوابی کاپی کا جائزہ لیا کہ کوئی چیز لکھنے سے رہ نہ گئی ہو پھر اپنی کاپی نگران کو دے کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔

#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام

06/08/2025

آج یعنی بروز منگل 11 مارچ دو ہزار پچیس(2025ء) کو دسویں جماعت کا ترجمتہ القرآن کا پرچہ تھا۔ پرچے سے پہلے مجھے نیند تو آتی نہیں، پتا نہیں اتنی فکر کیوں لاحق ہو جاتی ہے۔۔۔
خیر! صبح جلدی بیدار ہو کر پرچے کی تیاری کی پھر خود تیار ہوا۔ چھوٹے بھائی کو نیند سے جگانے کی کوشش کی کہ مجھے ہائی سکول( امتحانی سینٹر)چھوڑ آؤ لیکن اس کی نیند گہری تھی اور اس نے یہ کہہ کر کروٹ بدل لی کہ آپ بائیک پر خود چلے جائیں۔
آٹھ بجکر کر بیس منٹ پر میں گھر سے نکل آیا اور آہستہ آہستہ موٹر سائیکل چلاتا ہوا سات یا آٹھ منٹ بعد گورنمنٹ بوائز ہائی سکول پہنچ گیا۔ موٹر سائیکل کو پارکنگ میں کھڑا کیا اور ٹوکن لے لیا۔ طلبا کا ہجوم وہاں موجود تھا۔ سپرنٹینڈنٹ اور نگران صاحبان غائب تھے اور ایک مالی لڑکوں کو ہال اور کمروں سے دور جانے کو کہہ رہا تھا کہ ابھی پرچے کا وقت نہیں ہوا لہٰذا ہال اور کمروں سے دور ہی رہو۔
پندرہ منٹ تک میں نے سکول کی عمارتوں کے شکستہ حصے،ٹنڈ منڈ درختوں، کھیل کا میدان، اسمبلی میں کھڑے سکول کے طلبا کو دیکھا۔ کچن گارڈننگ کے لیے قریب ہی زمین کا ایک ٹکڑا مختص تھا جس میں دھنیا پودینہ ٹائپ چند چیزیں نظر آئیں باقی چٹیل میدان سا تھا۔
میں نے ذرا دیر پہلے نوٹس بورڈ پر نظر ڈال لی تھی۔ آج دوسرا پرچہ ہال میں ہونا تھا۔ کچھ دیر بعد نگران آگئے اور ہمیں بھی ہال میں بلا لیا گیا۔ اپنے رول نمبر والی نشست پر بیٹھا تو بالکل سامنے دیوار پر ایک کیمرہ نظر آیا۔( ہماری باری کیمرے لگا دیے گئے، چنگا🙄)
تلاوت قرآن مجید کے بعد طلبہ کو جوابی شیٹ(آنسر شیٹ کو ہم ہر تحریر میں جوابی کاپی لکھیں گے) دی گئی جس کو میں نے اس مرتبہ زیادہ احتیاط سے پُر کیا۔
اس دوران دو نگران لڑکوں کی تلاشی لینے لگے۔ ایک بندہ پرانا ہی تھا جس کا پہلے ذکر کیا کہ وہ انگریزی کے پرچے کے دوران ایک لڑکے کو خصوصی طور پر نقل کروا رہا تھا۔ اس مرتبہ بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا جبکہ ہال میں کیمرہ بھی لگا ہوا تھا۔ اس بات کا مجھے کیسے پتا چلا یہ میں آگے چل کر بتاؤں گا۔
خیر! وہ میرے پاس آیا اور تلاشی لینے لگا۔ پھر مجھے کہا کہ بٹوہ نکال کر دکھاؤ۔ میں نے جیب سے نکال دیا۔ مجھے پرانی کرنسی کا شوق ہے تو چند نوٹ میں نے اپنے بٹوے میں بھی رکھے ہوئے ہیں۔ان پیسوں کو دیکھ کر وہ ناٹے سے قد والا نگران زور زور سے بولنے لگا کہ واہ واہ۔۔۔بٹوے میں ڈالر ہی ڈالر رکھے ہوئے ہیں۔(لڑکے مڑ مڑ کر میری طرف دیکھنے لگے جیسے سچ میں میرے پاس ڈالر ہوں)
پھر اس نے مایوس ہو کر کہا کہ کچھ نہ کچھ تو آپ کی جیبوں سے نکلنا چاہیے تھا۔ مجھے اب اس کی بات پر غصہ آیا لیکن اس کی داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر خاموش رہا۔ اس کا کام جو ہے وہ وہی کرے، طنز کرنے اور مذاق اڑانے کا اس کو حق کس نے دیا؟
چند منٹ بعد ہمارے ہاتھوں میں معروضی کا پرچہ آگیا۔ اس پر نظر ڈالی تو خوشی ہوئی کہ قریباً نو(9) سوالات کے جوابات مجھے معلوم تھے۔ میں نے ببل شیٹ پر خانے بھر دیے اور فوراً ہی انشائیہ کا پرچہ (بی) دے دیا گیا۔
آٹھ میں سے پانچ سوالوں کے جوابات لکھنے ہوتے ہیں لیکن میں تو ایک سرے سے شروع ہوگیا تھا اور پانچ جوابات لکھنے کے بعد یاد آیا کہ سارے نہیں لکھنے۔ افسوس بھی ہوا کہ مجھے آسان جوابات لکھنے چاہییں تھے لیکن اب تو کام تمام ہو چکا تھا۔
آٹھ عربی الفاظ کا ترجمہ کرنا تھا۔ جو مجھے یاد تھے میں نے پانچ الفاظ کے معنی لکھ دیے۔
پھر نیچے پانچ عربی جملوں میں سے تین کا اردو میں بامحاورہ ترجمہ کرنا تھا۔ اب عربی زبان سے تو کوئی شد بد نہیں اور میں نے پڑھا بھی بس ایک دو دن ہی تھا۔ تھوڑا بہت جو سمجھ آیا اس کا اردو ترجمہ لکھ دیا۔( کمی کوتاہی اللہ معاف کرے)
پھر حصہ دوم تھا جس میں دو سورتوں میں سے کسی ایک پر تفصیلی مضمون لکھنا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ہو پایا اور میں نے اس حصے کو چھوڑ دیا۔
رول نمبر سلپ میں نے لکھنے کے دوران اپنی جوابی کاپی میں رکھ لی تھی۔ ایک نگران جو کچھ دور کھڑا تھا فٹافٹ میرے پاس آیا اور میری کاپی اٹھا کر دیکھنے لگا کہ اس کے اندر تم نے کیا رکھا ہے؟
میں نے کہا کہ سر! میری سلپ ہے۔
اس نے الٹ پلٹ کر دیکھی پھر مجھے دے دی۔
خیر میں نے پرچہ حل کیا پھر جوابی کاپی نگران کو دے کر ہال سے نکل آیا۔ پارکنگ میں آ کر فیس دی، بائیک لے کر کچھ دیر مارکیٹ میں گھوما اور چند کام کرنے کے بعد گھر آگیا۔
جس وقت اپنی جیب سے بٹوہ نکال کر دراز میں رکھنے لگا تو اچانک یاد آیا کہ میری رول نمبر سلپ تو وہیں ہال میں رہ گئی ہے۔ مجھے یکلخت بہت پریشانی ہوئی۔چھوٹا بھائی ابھی تک سویا ہوا تھا۔ اس کو کہا کہ میرے ساتھ چلو لیکن وہ نہیں اٹھا۔ پھر میں موٹر سائیکل لے کر واپس سکول پہنچا۔ گیارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔(پرچے کا وقت ختم ہونے والا تھا) ہال میں چند لڑکے ابھی تک پرچہ لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے نگران کو اپنا رول نمبر بتایا تو اس نے بنڈل میں سے میری جوابی کاپی مجھے نکال دی۔ تبھی وہی لڑکا وہاں جوابی کاپی دینے آگیا جس کو وہ نگران نقل کروا رہا تھا۔ دونوں آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔
میں نے اپنی جوابی کاپی کو کھولا تو اندر میری سلپ رکھی ہوئی تھی۔ میں نے جھٹ سے اٹھا لی۔ تب تک وہ بھی باتوں سے فارغ ہوگئے تھے۔ میں نے نگران کو شکریہ کہا پھر واپس آگیا۔۔۔ مجھ سے آگے وہی لڑکا چلا جا رہا تھا۔ میرا دل تو کیا کہ اس سے پوچھوں یہ نگران تمھارا کوئی رشتہ دار ہے یا کسی کی سفارش کی ہوئی ہے جو ہر پرچے میں تمہیں جوابات بتاتا ہے؟
پھر میں نے سوچا ایسا نہ ہو وہ نگران خواہ مخواہ میرا دشمن بن جائے۔ وڑے پراں۔۔۔ سانوں کی۔۔۔

#رودادایگزام
#محمداحمدرضاانصاری

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Multan