MAT SNAP Healthcare System

MAT SNAP Healthcare System

Share

25/08/2024

بچے کو کس عمر میں ڈیری مِلک ( گائے، بھینس، بکری
وغیرہ کا دودھ ) پلانا شروع کریں ؟
1۔ دو سال کی عمر تک ڈیری مِلک نہ پلائیں ۔ دو سال تک ماں کا دودھ پلائیں۔
2۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو ہر بچے کے حوالے سے بہت سے عوامل مثلاً اسکی صحت، ضرورت، کھانے کی عادات و تربیت، ٹھوس غذا شروع کروانے کے طریقۂ کار ، کسی بیماری کی موجودگی یا امکانات وغیرہ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
3۔ پاکستان کے حالات کے پیش نظر کافی بچوں میں ڈیری مِلک (گائے، بھینس، بکری وغیرہ کا دودھ) تقریباً ایک سال کی عمر میں شروع کروانا پڑ سکتا ہے۔ مگر اسکے لئے ضروری ہے کہ اُس بچے کے متعلق مستند ڈاکٹر سے رہنمائی لی جائے۔
4۔ ڈیری ملک کا شیر خوار (ایک سال کی عمر تک کے) بچوں میں استعمال بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے جن میں خون کی کمی سر فہرست ہے۔
بظاہر بچوں کو دودھ پلانا اور انکی خوراک بہت سادہ کام ہے مگرحقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر آپ اس ذیل میں دلچسپی رکھتے ہیں تو صرف ماں کے دودھ پلانے کے حوالے سے ہمارے تحقیقی مقالے کا مطالعہ کیجئے۔مقالے (ریسرچ آرٹیکل) کا مطالعہ کرنے کیلئے کمنٹس میں موجود لنک پر کلک کریں۔

31/07/2024

شوگر کی بیماری کی عام طور پر جانی جانے والی Types یا اقسام Type 1 اور Type 2 کہلاتی ہیں اور ان کے بارے میں عمومی خیال یہ کیا جاتا ہے کہ Type 1 بچپن میں اور Type 2 ادھیڑ عمری یعنی چالیس سے پچاس برس کی عمر کے لگ بھگ لاحق ہوتی ہے۔ یہ تصور کافی حد تک درست تو ہے مگر کافی پرانا بھی ہے۔ جدید تحقیق سے شوگر کی بیماری کو سمجھنے میں بہت بہتری اور اصلاح ہوئی ہے۔ شوگر کے صحیح علاج کیلئے ان نئے سائنسی حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔

-
-
-
-
-
-
-
-
-
-

18/07/2024

پیدائش کے فوری بعد یرقان کی بیماری کی بہت سی وجوہات ہیں۔ علاج کیلئے پہلے اصل وجہ معلوم کرنا لازم ہے۔ پھر اُس وجہ کاعلاج کیا جائے گا تو ہی شفا ملے گی۔
عام طور پر یرقان کو بیماری سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ ایک علامت ہے۔ اسی طرح یرقان کی وجہ جگر میں خرابی سے تعبیر کی جاتی ہے۔ جبکہ جگر کے علاوہ بھی بہت سے اعضا اور جسمانی نظام اسکا باعث ہو سکتے ہیں۔
ضروری ہے کہ پہلے یرقان کی وجہ کا تعین کیا جائے اور پھر اُسکے مطابق علاج تجویز کیا جائے۔ ورنہ فائدے کی بجائے زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔

12/07/2024

شوگر کی بیماری کے سماجی آگاہی سلسلے کی پہلی کڑی🔗
❄️ شوگر "ایک بیماری" نہیں بلکہ بیماریوں کا ایک مجموعہ ہے۔ اسی بنا پر اسکا علاج پیچیدہ اور محنت طلب ہے۔ سمجھنے میں آسانی کیلئے ہم اسکے علاج کو درج ذیل تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
1۔ زندگی کے طریقہ کار اور رویوں میں تبدیلی۔
2۔ خوراک و غذا میں تبدیلی۔
3۔ ادویات۔
اگر ان تینوں عوامل کو ایک ساتھ اور درست طور پر بروئے کار لایا جائے تو بہت اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں

08/07/2024

بچے کو پیدائش کے بعد فیڈ شروع کروانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
پیدائش کے فوری بعد پہلی اہم ترین ضرورت بچے کی سانس اور دوسری بچے کی خوراک ہے۔ بچے کی غذائی ضروریات ماں کے دودھ سے پوری کرنے کیلئے لئے بچے کی پیدائش سے پہلے ماں کی تربیت اور تیاری کروانا ضروری ہے۔ فیملی سپورٹ کے بغیر ماں کیلئے اکیلے یہ مقصد حاصل کرنا تقريباً ناممکن ہے۔ اگر ماں کی تربیت و تیاری اور خاندان کی سپورٹ درست طور پر بروئے کار لائی جائے تو بچے کی دونوں طریقوں (نارمل ڈلیوری اور آپریشن) سے پیدائش کے بعد خوراک کی ابتدا ماں کے دودھ سے کی جا سکتی ہے۔ ماں کا پہلا دودھ جو اکثر ضائع ہو جاتا ہے بچے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ یہ خوراک کے ساتھ ساتھ حفاظتی انجیکشن(ویکسین) کا کام بھی کرتا ہے۔ بچے کی خوراک کی ماں کے دودھ سے ابتدا اور تسلسل بچے کی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے اور اسکا کوئی نعم‌البدل نہیں۔ اسکے علاوہ یہ ماں کی صحت کیلئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ ابتدا میں بچے کو ڈبے کا دودھ پلانے کے بعد بچہ اسکے ذائقے کا عادی ہو جاتا ہے اور بعد ازاں ماں کا دودھ نہیں پیتا۔ ماں کا دودھ نہ پینے کی صورت میں بچے اور ماں دونوں میں بیماریوں کا شکار ہونے کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق ماں کے دودھ سے محروم بچوں میں تمام عمر مختلف جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ والدین بچے کی پیدائش سے پہلے اسکی پرورش ماں کے دودھ سے کرنے کیلئے مناسب تربیت اور رہنمائی حاصل کریں۔

1.
2.
3.
4.
5.
6.
7.
8.
9.
10.

Want your practice to be the top-listed Clinic in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan