Urdu Bulletin
17/02/2021
اخلاق کا تعلق ڈگریوں سے نہیں ہے۔ لیکن پڑھے لکھوں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ با اخلاق ، بلند مزاج ہوں گے لیکن اکثرہماری امیدوں پر پانی پھر جاتاہے۔ میں نے سادہ لوح کم پڑھے لکھوں کے منہ سے تو کبھی شٹ اپ نہیں سنا لیکن شاپنگ مالز، فوڈ پوائنٹ، اور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایسے مظاہرے بہت دیکھے ہیں کہ ہر زبان کو یوز کرتے ہوئے گالیاں دی جا رہی ہوتی ہیں۔ہاتھ سے اشارے کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ زیر لب بڑبڑایا جا رہا ہوتاہے۔ جب کبھی آپ ایسے پبلک پلیس پر ہوتے ہیں جہاں کسی کو بیٹھنے کی ضرورت پیش آجائے تو لوگ اور پھیل کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ کوئی ان کے ساتھ آکر نہ بیٹھ جائے۔ بجائے جگہ بنانے کے ، جگہ کو گھیر لیا جاتاہے۔یہ دیکھ لینے پربھی کہ کوئی بیٹھنا چاہتاہے، وہ جگہ نہیں چھوڑتے۔سڑک پر نکلیں تو لوگ راستہ نہیں دیتے۔یہ جو اخلاق ہے، بلند مزاجی ہے اگر ہم اپنی روز مرہ زندگی میں اپلائی نہیں کریں گے تو کہاں کریں گے؟ اخلاق دکھانے اور نبھانے کا موقعہ کہاں آئے گا؟ تعلیم کو ایک طرف رکھتے ہیں، *لیکن تربیت کو تو ایک طرف نہیں رکھا جا سکتا۔*
سمیراحمید
14/02/2021
منگول حملے سے پہلے کا بغداد کچھ اس طرح کا تھا، عراقی آرکیٹیکچر کی طرف سے بنائی گئی بغداد کی 3D پکچر، بغداد جو کہ علم و حکمت کا گہوارہ ہوا کرتا تھا، منگول لانت ہلاگو خان نے ایسا تباہ کیا کہ نہ سر باقی رہا نہ دیوار حتا کہ شہر کے جانور،کتے بلیاں اور چوہوں کو بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا، حاملا خواتیں کے پیٹ چیر کر بچے باہر نکال کر مارے گئے، شہر میں موجود تمام کتابوں کو نزدیکی دریاہ میں ڈالا گیا، تاریخ لکھتی ہے کہ دریاہ کا پانی تین دن تک سیاہ بہتا رہا،(کتابوں کی سیاہی کی وجہ سے) جب ہلاگو خان بغداد سے باہر پڑاؤ ڈالے بیٹھا تھا بغداد کے مسلمان کیا کر رہے تھے،یہ ایک الگ ہی موضوع ہے مگر بہت سے دوستوں کو معلوم ہوگا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Multan
22000