Smiles unofficial
افتخار اجمل بھوپال صاحب کی ایک تحریر " نام کس نے رکھا" نظر سے گزری اس کا ایک اقتباس حاضر خدمت ہے جس میں عمران خان کے بزرگ جہانگیر خآن کا تذکرہ بھی موجود ہے آپ کے معلومات میں اضافہ کے لئے شئیر کررہا ہوں
۔
"
اس زمانہ میں جو ہندوستانی مسلمان انگلستان میں زیرِ تعلیم تھے وہ اپنے لیڈروں کی ہر بات پر غور و عمل کرتے تھے ۔ ان میں محمد اسلم خٹک ۔ پیر احسن الدین ۔ چوہدری رحمت علی ۔ خواجہ عبدالرحیم اور محمد جہانگیر خان معروف ہیں ۔
۔
محمد جہانگیر خان اس اِنڈین کرکٹ ٹیم کے رُکن تھے جس نے 1932 عیسوی میں انگلستان کا دورہ کیا تھا اور تعلیم کی خاطر وہ وہیں رُک گئے تھے ۔ اِن لوگوں کی جد و جہد کے عینی شاہد میاں عبدالحق تھے جنہوں نے اس زمانہ میں انگلستان کا دورہ کیا تھا ۔ ان کے جون 1970 عیسوی میں ندائے ملت لاہور میں چھپنے والے ایک مضمون سے اقتباس ۔
۔
محمد اسلم خٹک نے 21 دسمبر 1987 کو ایوانِ وقت راولپنڈی میں بتایا تھا کہ آکسفورڈ میں خیبر یونین آف سٹوڈنٹس کے ایک اِجلاس میں انہوں نے صدارت کی تھی جس میں انہوں نے پاکستان کا نام تجویز کیا تھا اور یہ کہ اس اِجلاس میں چوہدری رحمت علی اور خواجہ عبدالرحیم بھی موجود تھے ۔
ڈاکٹر محمد جہانگیر خان ایم اے پی ایچ ڈی (کینٹ) بار ایٹ لاء ۔ ساکن ۔ 6 ۔ کنال بنک ۔ زمان پارک ۔ لاہور کے 25 اکتوبر 1983 کے تحریر کردہ حلف نامہ کے مطابق "محمد جہانگیر خان 1932 میں آل انڈیا کرکٹ ٹیم کے رکن کی حیثیت سے انگلستان گئے اور یونیورسٹی آف کیمبرج میں داخلہ لے کر وہیں رک گئے ۔ ان کی رہائش چوہدری رحمت علی کی رہائش گاہ سے صرف ایک سو گز کے فاصلہ پر تھی ۔
۔
انہی دنوں لندن میں دوسری گول میز کانفرنس ہوئی جس میں مسلمانوں کی نمائندگی علامہ محمد اقبال نے کی ۔ لندن میں قیام کے دوران علامہ بیمار پڑ گئے ۔ چوہدری رحمت علی ۔ خواجہ عبدالرحیم اور محمد جہانگیر خان ان کی عیادت کے لئے لندن گئے ۔
۔
وہاں چوہدری رحمت علی نے خواجہ عبدالرحیم کی طرف اشارہ کر کے علامہ اقبال سے کہا کہ پاکستان کا لفظ اس نے تخلیق کیا تھا اور اس کے اجزاء کی ترکیب بھی بتائی ۔ چوہدری رحمت علی نے علامہ سے استفسار کیا کہ کیا وہ بہتر نام تجویز کر سکتے ہیں ؟ علامہ نے کہا کہ اس کے اجزاء کی ترکیب ایک کاغذ پر لکھ کر سامنے دیوار پر لٹکا دیں میں کل آپ کو بتاؤں گا ۔ دوسرے دن پھر تینوں لندن علامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو علامہ نے فرمایا کہ اس سے بہتر نام ان کے ذہن میں نہیں آیا اس لئے اسی کو رکھا جائے اور اس کے قائم ہونے کی دعا بھی کی” ۔
۔
چنانچہ چوہدری رحمت علی کو نام تجویز کرنے والوں میں شامل تو کہا جا سکتا ہے لیکن ان کو نام کا خالق نہیں کہا جا سکتا ۔ چنانچہ نام کے خالق خواجہ عبدالرحیم ہی ثابت ہوتے ہیں ۔ ایک اور بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جموں کشمیر کے بغیر نام کے لحاظ سے بھی پاکستان ابھی نامکمل ہے ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Multan