Organic Eats

Organic Eats

Share

09/05/2026

اگر گلی میں جاتے ہوئے تم عورت ذات کو دیکھ کر جلدی گزر جاتے ہو کہ کہیں وہ خواتین یہ نہ سمجھیں کہ تم ان کا پیچھا کر رہے ہو۔۔۔۔
تو سُنو! تم اس معاشرے کے بہترین مرد ہو۔♥️🌸

18/02/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ The News International کے مطابق پاکستان میں 30 سے 80 سال کی عمر کے 42% افراد ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں؟

یعنی تقریباً ہر دوسرا بالغ انسان بلڈ پریشر کے مسئلے میں مبتلا ہے۔

یہ اعداد و شمار انہوں نے WHO (World Health Organization) کی رپورٹ کے حوالے سے شائع کیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ڈاکٹرز کے مطابق پاکستان میں 15 سال سے زیادہ عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں بھی 18% افراد کو ہائی بلڈ پریشر پایا گیا ہے۔
یعنی یہ بیماری اب صرف “بوڑھوں” کا مسئلہ نہیں رہی۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات کی ایک بڑی وجہ ہائی بلڈ پریشر ہے۔
یہ بیماری سیدھا ہمیں اسٹروک دیتی ہے یا گردوں کی خرابیاور دل کا دورہ کا باعث بنتی ہے

اب ذرا خوراک کی بات کریں۔

AHA (American Heart Association) اور WHO دونوں کے مطابق روزانہ سوڈیم انٹیک صرف 1.5 سے 2 گرام ہونا چاہیے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ خوراک میں یہ مقدار 4 سے 6 گرام تک پہنچ چکی ہے۔

وجہ؟
ہماری پلیٹ میں سموسے ، پکوڑے کچوریاں بازار کے مصالحے، اچار ااور ڈبہ بند اور ریڈی میڈ چیزیں ہمہ وقت موجود ہوتی ہیں

اور یہ سب کچھ نمک اور سوڈیم سے بھرا ہوا ہے۔

اب کچھ نئے نئے “نیوٹریشن کے ماہر” صرف یہ سکھائیں گے کہ
تیل کم کرو، کیلوریز گھٹاؤ، وزن کم ہو جائے گا۔

لیکن بھائی…
صرف وزن کم ہونا صحت نہیں ہے۔
اوور آل ہیلتھ کے لیے آپ کو فوڈ گروپس سمجھداری سے منتخب کرنا ہوں گے۔

آج ہماری خوراک میں سوڈیم بڑھتا جا رہا ہے اور پوٹاشیم کم ہوتا جا رہا ہے
Omega 3کم
اومیگا 6 زیادہ

اور یہی عدم توازن بلڈ پریشر کی جڑ ہے۔

اس رمضان میں کم از کم اتنی نیت ضرور کریں کہ
روزانہ سوڈیم انٹیک 2 گرام سے زیادہ نہ ہو۔

کیونکہ یاد رکھیں:
نمک کم، زندگی زیادہ

06/04/2025

پاکستان میں غذائیت کے نام پر ملنے والا زہراوراسٹرابری اور دیگر پھلوں کی حقیقت

اہم نوٹ:مجھ پر سازشی، ایجنٹ یا پروپیگنڈا کرنے والا لیبل لگانے سے پہلے براہ کرم پوری پوسٹ پڑھیں اور دیے گئے تحقیقاتی لنکس کا مطالعہ کریں۔

پاکستان میں کاروبار کا جو ماڈل اپنایا گیا ہے، وہ ایک خودکش ماڈل ہے—آج کا فائدہ، کل کی بربادی۔ ہم نے زمین سے لے کر کھانے کی میز تک ہر چیز کو زہر آلود کر دیا ہے، اور جب نقصان ہوتا ہے تو حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔
اس کاروباری ماڈل کی حالیہ مثال اسٹرابری کی ہے جسے ہمارے کسان بھائیوں نے ایک فروٹ کی جگہ زہر بنا دیا ہے.

اسٹرابری قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے، جو نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتی ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، جو جسم میں مضر فری ریڈیکلز کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں وائٹامن C، فائبر، اور فولیٹ وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، جو قوت مدافعت بڑھاتے ہیں، جِلد کو جوان رکھتے ہیں اور دل کی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

اسٹرابری میں موجود polyphenols اور anthocyanins دماغی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں، جو یادداشت کو بہتر بناتے اور نیورولوجیکل بیماریوں کے خطرات کم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ جسم میں انسولین کی حساسیت کو بڑھاتی ہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ پھل اپنے خالص ترین، قدرتی انداز میں انسانی صحت کے لیے حیرت انگیز فوائد رکھتا ہے، مگر ہم نے اسے بھی زہر میں بدل دیا۔

کیسے ہم نے اسٹرابری کو زہر میں بدلا؟

اسٹرابری ایک نازک پھل ہے، جو قدرتی طور پر 24 سے 48 گھنٹوں میں نرم پڑنے لگتی ہے۔ مگر مارکیٹ میں دستیاب اسٹرابری پانچ سے سات دن تک بالکل تازہ دکھائی دے رہی تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا؟

پاکستانی مارکیٹ میں موجود اسٹرابری پر لیب میں کی گئی ریسرچ سے پتہ چلا کہ:

1. اینٹی فنگل کیمیکلز کا بے تحاشا استعمال
اسٹرابری کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے Fludioxonil اور Iprodione جیسے کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں ان کی مقدار عالمی معیار سے تین گنا زیادہ پائی گئی۔

2. کیڑے مار زہریلی ادویات
پاکستان میں سبزیاں اور پھل اگانے کے لیے Chlorpyrifos, Cypermethrin, اور Malathion جیسے زہریلے کیمیکلز عام طور پر استعمال ہوتے ہیں، جو انسانی جسم میں پہنچ کر جگر اور گردوں پر تباہ کن اثرات ڈالتے ہیں۔

3. مصنوعی رنگ اور چمک
کچھ کسانوں نے اسٹرابری کو زیادہ سرخ اور چمکدار بنانے کے لیے Erythrosine (Red No. 3) جیسے کیمیکلز کا چھڑکاؤ کیا، جو کہ دماغی صحت اور ہارمونی نظام کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

یہ زہر ہمارے جسم میں کیا کر رہا ہے؟

جگر اور گردوں پر حملہ: یہ زہریلے کیمیکلز جسم میں داخل ہو کر hepatic toxicity پیدا کرتے ہیں، جس سے جگر متاثر ہوتا ہے اور گردوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔

ہارمون سسٹم کی خرابی: بہت سے کیڑے مار زہر endocrine disruptors ہوتے ہیں، جو ہارمون سسٹن کو متاثر کرتے ہیں، جس سے مردوں میں اسپرم کی کمزوری، خواتین میں ہارمونی عدم توازن اور بچوں میں غیر معمولی نشوونما جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

دماغی مسائل اور یادداشت کی کمزوری: تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ مقدار میں organophosphate pesticides کا استعمال نیورانز (دماغی خلیات) کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے یادداشت کمزور ہونے، توجہ کی کمی، اور نیورولوجیکل بیماریاں جیسے پارکنسنز اور الزائمر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کینسر کا بڑھتا ہوا خطرہ: WHO کے مطابق، Malathion اور Chlorpyrifos جیسے کیڑے مار ادویات کینسر کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں، کیونکہ یہ جسم میں DNA mutations پیدا کر سکتی ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں صرف اسٹرابری نہیں، ہر چیز زہریلی ہو چکی ہے.
اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اسٹرابری کے ساتھ ہے، تو ذرا دھیان دیں کہ ہم روزانہ کیا کھا رہے ہیں:

دودھ میں یوریا، واشنگ پاوڈر، اور فارملین شامل کیے جا رہے ہیں۔
مرچ، ہلدی، اور دھنیا پاوڈر میں اینٹوں کا برادہ، لکڑی کا برادہ، اور کیمیکل رنگ ملائے جا رہے ہیں۔
دالیں چمکدار بنانے کے لیے زہریلے پالش کیمیکلز سے لیس کی جا رہی ہیں۔
گھی اور آئل میں صنعتی کیمیکلز شامل کیے جا رہے ہیں جو دل کی بیماریوں اور کولیسٹرول کا سبب بنتے ہیں۔
چینی میں سلفر ڈائی آکسائیڈ اور بلیچنگ ایجنٹس ڈالے جا رہے ہیں، جو آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

یہ صرف خوراک نہیں، ہم نے اپنا پورا نظام زہر آلود کر دیا ہے۔ ہم خود کو، اپنی زمین کو، اور اپنی معیشت کو زہر دے رہے ہیں۔
اور پھر جب کوئی صحت مند خوراک مانگے تو کہتے ہیں: "بھائی! پاکستان میں یہی چلتا ہے، ورنہ کھانے کو کچھ نہیں ملے گا!"

یہی سوچ ہمیں لے ڈوبے گی۔ آج یورپی یونین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک ہماری زرعی مصنوعات لینے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ ہم خود اپنی زمین کو زہریلا کر چکے ہیں۔ جو فصلیں پاکستان میں عام آدمی کھا رہا ہے، وہی فصلیں اگر کسی ترقی یافتہ ملک میں ٹیسٹ کرائی جائیں تو سیدھا کچرے میں پھینک دی جائیں گی۔

کیا ہمیں جاگنے کی ضرورت ہے؟ نہیں، بلکہ ہلایا جائے گا!

یہ نظام خود کو تباہ کرنے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب دنیا ہمیں صرف "زہریلی خوراک تیار کرنے والا ملک" کہے گی، جہاں عوام کا جسمانی اور دماغی زوال کاروباری لالچ کی بھینٹ چڑھ چکا ہوگا۔

یہ وقت ہے کہ:
زرعی شعبے میں سخت قوانین لائے جائیں۔
زہریلی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر سخت پابندیاں لگائی جائیں۔
عوام کو آگاہی دی جائے کہ وہ زہریلے پھل اور سبزیاں خریدنا بند کریں۔

اپنے اور اپنے خاندان کو ان زہریلے کیمیکلز سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پھلوں اور سبزیوں کو صحیح طریقے سے صاف کریں۔ کچھ آسان طریقے اپنا کر ہم کافی حد تک اس خطرے کو کم کر سکتے ہیں:

1. سرکے اور پانی سے دھونا – ایک پیالے میں پانی لیں اور اس میں تھوڑا سا سفید یا سیب کا سرکہ ڈال کر پھلوں اور سبزیوں کو 15-20 منٹ کے لیے بھگو دیں۔ اس کے بعد انہیں صاف پانی سے دھو لیں۔ یہ نہ صرف کیمیکلز کو کم کرتا ہے بلکہ جراثیم بھی مار دیتا ہے۔

2. بیکنگ سوڈا کا استعمال – اگر آپ کے پاس سرکہ نہیں ہے تو ایک لیٹر پانی میں ایک چمچ بیکنگ سوڈا ڈال کر سبزیوں اور پھلوں کو کچھ دیر بھگو کر رکھیں، پھر دھو لیں۔ یہ بھی زہریلے اثرات کو کم کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے.

3. نمک ملے پانی میں دھونا – اگر سرکہ یا بیکنگ سوڈا نہیں ہے تو ایک لیٹر پانی میں دو چمچ نمک ڈال کر سبزیوں کو دھو سکتے ہیں۔ یہ بھی نقصان دہ کیمیکلز کو ہٹانے میں مدد دیتا ہے۔

4. برش یا اسکریبر کا استعمال – سیب، کھیرے، آلو اور گاجر جیسی سبزیوں اور پھلوں کو برش سے رگڑ کر دھونا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے سطح پر لگی ہوئی مضر چیزیں نکل جاتی ہیں۔

5. چھیل کر یا ابال کر کھائیں – جہاں ممکن ہو، سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے اتار کر یا انہیں ہلکا سا ابال کر استعمال کریں تاکہ کسی حد تک کیمیکل کا اثر کم ہو سکے۔

یہ چھوٹے مگر مؤثر اقدامات ہمیں اور ہمارے بچوں کو زہریلے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو کوشش کریں کہ قابلِ اعتماد ذرائع سے سبزیاں اور پھل خریدیں اور بازار کے چمکدار نظر آنے والے پھلوں سے ہوشیار رہیں، کیونکہ زیادہ چمک کا مطلب اکثر زیادہ کیمیکل ہوتا ہے۔ اپنی صحت کو خود محفوظ بنائیں!

اس پوسٹ کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کھانے پینے کی اشیاء، خاص طور پر پھلوں اور سبزیوں پر استعمال ہونے والے نقصان دہ کیمیکلز کے اثرات کو اجاگر کیا جائے۔ یہ تحریر میرے محدود مطالعے، تحقیق، اور مختلف رپورٹس کے تجزیے پر مبنی ہے۔ میں کسی حتمی دعوے کا دعویدار نہیں، اور ممکن ہے کہ مجھ سے غلطی ہو۔
میری نیت صرف شعور بیدار کرنا اور ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے۔ اگر کسی کو اختلاف ہو تو یہ ایک علمی مکالمے کا حصہ ہے، اور میں ہر مثبت اور تحقیق پر مبنی تنقید کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ علم مستقل ارتقا پذیر ہے، اور میں بھی سیکھنے کے عمل میں ہوں۔

مختلف ریسرچز کے لنکس جو کیمیکل کے نقصانات پر کی گئی ہیں.

https://www.researchgate.net/publication/357193581_Determination_of_Pesticide_Residues_in_Strawberry_Fragaria_ananassa_Duch_from_Upper_Punjab_Districts_of_Pakistan

https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/39414624/

https://journals.internationalrasd.org/index.php/jmps/article/view/1173

https://www.food-safety.com/articles/9329-ewg-publishes-2024-dirty-dozen-list-of-produce-most-contaminated-with-pesticides

17/12/2024

The human brain requires around 2,000 liters of blood per day to function optimally.
The human brain requires around 2,000 liters of blood per day to function optimally. Here's how it works:

The brain depends on a continuous blood supply to deliver oxygen and glucose, which are essential for energy and proper functioning.
Your heart pumps about 5 liters of blood per minute, and roughly 15-20% of this output is directed to the brain. Over 24 hours, this amounts to approximately 2,000 liters.
This massive flow highlights how critical the circulatory system is for brain health. Even a few minutes without blood can cause severe damage due to oxygen deprivation.
Your brain is a blood-thirsty organ! To function properly, it needs an astonishing 2,000 liters of blood every single day—enough to fill a small tanker! This constant flow delivers oxygen and nutrients to keep your neurons firing and your thoughts sharp. Amazingly, even though the brain makes up only 2% of your body weight, it consumes 20% of your total oxygen and energy supply. The heart pumps tirelessly to ensure the brain gets what it needs, as even a brief interruption could lead to serious damage.

Impressed? share this on, stay connected, and let others learn this mind-blowing fact!

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Multan