Tafseer e Quraan

Tafseer e Quraan

Share

مفتی قاسم صاحب کی لکھی ہوئی قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر "صراط الجنان فی تفسیر القرآن" سے قران پاک کی تحریری تفسیر، دیگر قرآنی سلسلے، اللہ کا پیغام ایمان والوں کے نا، مولانا عبدالحبیب عطاری صاحب کے آڈیو تفسیر کے کلپس اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی آیات، قرآن پاک سے متعلق احادیث، بزرگان دین کے معمولات، پیغامات، روحانی وظائف اور بہت کچھ اسی ایک پیج سے حاصل کیجئے

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 068-072"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- انعاماتِ الہی کا بیان اور کفار کو تنبیہ:
- ایندھن حاصل کرنے کے موجودہ ذرائع اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ (۶۸) ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (۶۹) لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ (۷۰) اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ (۷۱) ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِــٴُـوْنَ (۷۲)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اسے بادلوں سے اتارا یا ہم ہی اتارنے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہتے تو اسے سخت کھاری کردیتے پھر تم کیوں شکر نہیں کرتے؟ تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔ کیا تم نے اس کادرخت پیدا کیا یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں ؟

*🌸👈 { اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا تم نے اس پانی پر غور نہیں کیا جو تم زندہ رہنے کے لئے پیتے ہو اور اس سے اپنی پیاس بجھاتے ہو، کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، ایسا ہر گز نہیں بلکہ ہم ہی اپنی قدرت ِکاملہ سے اسے اتارنے والے ہیں اور جب تم نے یہ جان لیا کہ ہم ہی اس پانی کو نازل کرنے والے ہیں تو صرف میری عبادت کر کے اس نعمت کا شکر ادا کیوں نہیں کرتے اور دوبارہ زندہ کرنے پر میری قدرت کا انکار کیوں کرتے ہو؟

(تفسیر قرطبی، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹، ۹/۱۶۱-۱۶۲، الجزء السابع عشر، ابو سعود، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۸-۶۹، ۵/۶۷۷، ملتقطاً)

*🧆👈 { لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا: اگر ہم چاہتے تو اسے سخت کھاری کر دیتے۔}*

ارشاد فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو اس پانی کو سخت کھاری کردیتے ،اور ایسا ہو جاتا تو تم نہ اسے پی سکتے تھے، نہ اس سے شجر کاری اور کھیتی باڑی کر سکتے تھے ۔یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے تمہاری معاشی بہتری، تمہارے فائدے اور پینے کے لئے میٹھا پانی نازل فرمایا اور تمہیں نقصان سے بچانے کے لئے کھاری پانی نازل نہ فرمایا تو پھر تم اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے احسان و کرم کا کیوں شکر نہیں کرتے؟

(تفسیر طبری، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۰، ۱۱/۶۵۵، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۰، ۴/۲۲۲، ملتقطاً)

*💥👈 { اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مجھے اس آگ کے بارے میں بتاؤ جو تم دو تر لکڑیوں سے روشن کرتے ہو، کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے؟ ایسا ہر گز نہیں بلکہ ہم ہی اسے پیدا کرنے والے ہیں، تو جب تم نے میری قدرت کو پہچان لیا تو میرا شکر ادا کرو اور دوبارہ زندہ کرنے پر میری قدرت کا انکار نہ کرو۔

❗اہلِ عرب *(اس زمانے میں)* دو مخصوص لکڑیوں کو ایک دوسرے سے رگڑ کر آگ جلایا کرتے تھے، اوپر والی لکڑی کو وہ زَند اور نیچے والی لکڑی کو زَندہ کہتے تھے اور جن درختوں سے یہ لکڑیاں حاصل ہوتی تھیں انہیں مَرْخ اور عَفَار کہتے تھے۔

(تفسیر قرطبی، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲، ۹/۱۶۲، الجزء السابع عشر، مدارک، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲، ص۱۲۰۳، ملتقطاً)

*🪵👈 ایندھن حاصل کرنے کے موجودہ ذرائع اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں:*

یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے فی زمانہ ہمارے لئے ایندھن حاصل کرنے کے بہت سے ذرائع جیسے کوئلہ، گیس اور تیل وغیرہ ظاہر فرما دئیے ہیں اور ان سے ہم آسانی کے ساتھ اپنی ضروریّات پوری کر رہے ہیں ۔ جس طرح اُس درخت کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا جسے رگڑ کر ایندھن حاصل کیا جاتا تھا اسی طرح کوئلہ، گیس اور تیل وغیرہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے، لہٰذا ہر بندے پر لازم ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

22/06/2025

*_"Tafseer Surat-ul-Waqiah Verse #: 062-067"_*
*--------------------------------------------*
*🫐..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..🫐*
*--------------------------------------------*
- انعاماتِ الہی کا بیان اور کفار کو تنبیہ:
- تعجب کے قابل شخص:
*--------------------------------------------*
*◉...❁✾ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" ✾❁...◉*
*--------------------------------------------*

📮👈 وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ (۶۲) اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ (۶۳) ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ (۶۴) لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ (۶۵) اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ (۶۶) بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ (۶۷)

*🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:*

اور بیشک تم پہلی پیدائش جان چکے ہو تو پھر کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ تو بھلا بتاؤ تو کہ تم جو بوتے ہو۔ کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم ہی بنانے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہتے تو اسے چورا چورا گھاس کردیتے پھر تم باتیں بناتے رہ جاتے۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا ہے۔ بلکہ ہم بے نصیب رہے۔

*🌸👈 { وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى: اور بیشک تم پہلی پیدائش جان چکے ہو۔}*

ارشاد فرمایا کہ تم اپنی پہلی پیدائش کے بارے میں جان چکے ہو کہ ہم تمہیں عدم سے وجود میں لائے ہیں تو پھر *(اسے سامنے رکھتے ہوئے دوسری پیدائش کے متعلق)* کیوں غور نہیں کرتے کہ جو ربّ تعالیٰ پہلی بار تمہیں عدم سے وجود میں لا سکتا ہے تو وہ تمہارے مرنے کے بعد تمہیں دوسری بار زندہ کرنے پر بھی یقینا قادر ہے۔

(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۲، ۴/۲۲۱، ملخصاً)

*🌻👈 تعجب کے قابل شخص:*

حضرت عبد اللہ بن مِسور ہاشمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

*’’اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک کرتا ہے۔ اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو پہلی بار کی پیدائش کو دیکھنے کے باوجود دوسری بار کی پیدائش کا انکار کرتا ہے۔ اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو موت کے گھیر لینے کو جھٹلاتا ہے حالانکہ وہ دن رات مرتا اور زندہ ہوتا ہے۔ اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو ہمیشگی کے گھر* (یعنی جنت) *کی تصدیق کرنے کے باوجود دھوکے کے گھر* (یعنی دنیا) *کے لئے کوشش میں مصروف ہے۔ اس بندے پر انتہائی تعجب ہے جو اِتراتا اور فخر و غرور کرتا ہے حالانکہ وہ نطفہ سے پیدا ہوا، پھر وہ سڑی ہوئی لاش بن جائے گا اور اِس دوران اُس پر کیا بیتے گی وہ اُسے معلوم ہی نہیں۔"*

(مسند شہاب قضاعی، الباب الاوّل، یا عجباً کل العجب۔۔۔ الخ، ۱/۳۴۷، الحدیث: ۵۹۵)

*🫐👈 { اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ: تو بھلا بتاؤ تو کہ تم جو بوتے ہو۔}*

یہاں سے اللہ تعالیٰ نے حشر و نشر پر اپنی قدرت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! تم اس کھیتی میں غور کیوں نہیں کرتے جسے تم زمین میں کاشت کرتے ہو، کیا تم اس کی نَشو ونُما کرکے کھیتی بناتے ہو یا ہم ہی اسے کھیتی بنانے والے ہیں اور اس بات میں کوئی شک ہی نہیں کہ اگرچہ زمین میں بیج ڈالنا تم لوگوں کا کام ہے لیکن اس بیج سے بالیں بنانا اور اس میں دانے پیدا کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور کسی کا نہیں ہے، تو جب اللہ تعالیٰ بیج سے فصل پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ تمہاری موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔

(تفسیر سمر قندی، الواقعۃ، تحت الآیۃ:۶۳-۶۴،۳/۳۱۸، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۳-۶۴، ۴/۲۲۱، روح البیان، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۳-۶۴، ۹/۳۳۲، ملتقطاً)

*🪵👈 {لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا: اگر ہم چاہتے تو اسے چورا چورا گھاس کر دیتے۔}*

اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اپنے لطف و رحمت سے اس کھیتی کی نَشوونُما کرتے ہیں اور تم پر رحمت کرتے ہوئے اسے تمہارے لئے باقی رکھتے ہیں ورنہ اگر ہم چاہتے تو زمین میں جو بیج تم بوتے ہو اسے پوری طرح پھلنے پھولنے سے پہلے ہی چُورا چُورا کردیتے جو کسی کام کا نہ رہے، پھر تم حیرت زدہ اور نادم و غمگین ہو کر یہ باتیں بناتے رہ جاتے کہ ہمارا مال بیکار ضائع ہوگیا، بلکہ ہم اپنے رزق سے محروم رہے۔

*(ابن کثیر، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷، ۸/۲۸، خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷، ۴/۲۲۱-۲۲۲، روح البیان، الواقعۃ، تحت الآیۃ: ۶۵-۶۷، ۹/۳۳۳، ملتقطاً)*

*⎙ ⌲*
*ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
*💠"•• ══ ༻◉مدینـــــــه◉༺ ══ ••"💠*
*🙏💥➖عاجِزَانہ مَدَنی اِلتجاء➖💥🙏*
اللّٰه پاکﷻ کی رضا اور ثواب کی نیت سے اس تفسیر کو دوسرے گروپس میں شیئر کیجئے۔
*--------------------------------------------*
*Whatsapp Contact:*
*https://wa.me/message/CZV6UOLTNWP4N1*
*page:*
*https://fb.me/tafseeriquraan*
*YouTube Channel:*
*https://youtube.com/c/tafseerequraan*
🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁
*╭┄┅─══════════════─┅┄╮*
*༻◉فیضانِ تفسیر القرآن جاری رہے گا◉༺*
*╰┄┅─══════════════─┅┄╯*
🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

Want your place of worship to be the top-listed Place Of Worship in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


NLC By Pass, Main Khanewal Road
Multan