Msi Associates

Msi Associates

Share

29/01/2026

وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے خلاف تمام اپیلیں خارج کر دیں، حکومت کو 300 ارب روپے سے زائد آمدنی کی توقع — کاروباری حلقوں کے لیے بڑا دھچکا۔۔۔

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے منگل کو سپر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف دائر تمام اپیلیں خارج کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4B کو بحال کر دیا گیا۔ عدالت نے طویل سماعت کے بعد مختصر فیصلہ جاری کیا، جس سے حکومت کے محصول میں 300 ارب روپے سے زائد اضافے کی توقع ہے۔

سپر ٹیکس سب سے پہلے 2015 میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے عائد کیا گیا تھا، جس کے تحت سالانہ منافع 30 کروڑ روپے سے زائد والے افراد اور اداروں پر 5 فیصد اضافی ٹیکس لگایا گیا۔ بعد میں 2022 میں اس کی حد کم کر کے 15 کروڑ روپے کر دی گئی اور شرح بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 10 فیصد کر دی گئی۔

کاروباری شخصیات، بینک اور کارپوریٹ اداروں نے اس ٹیکس کو مختلف ہائی کورٹز میں چیلنج کیا، جن میں بنیادی دلائل میں سابقہ اطلاق اور دوہری ٹیکسیشن کے الزامات شامل تھے۔ تاہم تمام ہائی کورٹز نے سپر ٹیکس کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا۔

سپر ٹیکس کا کیس پہلی بار 2019 میں سپریم کورٹ پہنچا اور بعد میں 26ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی بینچ کو منتقل ہوا۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد نئ وفاقی آئینی عدالت نے 17 سماعتوں کے بعد مختصر فیصلہ سنایا۔

عدالت کے بینچ میں چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس حسن رضوی اور جسٹس ارشاد حسین شاہ شامل تھے۔ سماعت کے دوران ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی نمائندگی حافظ احسان کھوکھر نے کی، جبکہ کمشنر کراچی اور لاہور کی نمائندگی ڈاکٹر شاہ نواز اور اسما حمید نے کی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد سپر ٹیکس نافذ العمل رہے گا، جس سے حکومت کے اختیار اور محصول کی قانونی بنیاد مضبوط ہوئی ہے، جبکہ کاروباری کمیونٹی کے لیے یہ فیصلہ مالی دباؤ میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔

Want your business to be the top-listed Finance Company in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


Multan
60000

Opening Hours

Monday 10:00 - 06:00
Tuesday 10:00 - 06:00
Wednesday 10:00 - 06:00
Thursday 10:00 - 06:00
Friday 10:00 - 06:00
Saturday 10:00 - 06:00
Sunday 10:00 - 06:00