Knowledge Hub
Physics Maths important farmulas, Knowledge of every field , Social activities
Knowledge For All۔ thanks 👍
معلوماتی اخلاقی اور طنز و مزاح سے بھرپور پوسٹوں کے لئے فالو کریں ۔شکریہ
if anyone has objection on our post please contact us we Will try our best
30/05/2026
ریاضی میں کمزور ایک نوجوان پولیس کی نوکری کیلئے انٹرویو دینے گیا۔
پولیس آفیسر:
اگر سیب 170 روپے کلو ہوں تو 100 گرام کی قیمت کیا ہو گی؟
نوجوان:
صاحب اگر 100 گرام سیب کے مجھے پیسے دینے پڑیں تو پولیس کی نوکری کس کام کی؟
آفیسر:
چلو مان لیا تمہاری بیوی بازار گئی اور اسے سیب لینے ہوں تو 170 روپے کلو کے حساب سے 100 گرام کتنے کا ہو گا؟
نوجوان:
صاحب، آپ اسے نہیں جانتے،اسکو اگر 100 گرام سیب لینا ہو گا تو وہ 100 گرام کا ہی ریٹ پوچھے گی یہ مجھے پکا پتہ ہے۔
آفیسر:
چلو مان لیا، تمہارا بھائی بازار گیا سیب لینے تو
نوجوان:
اسکی بات ہی مت کرو صاحب، وہ ایک نمبر کا کام چور سارا دن بس کھا کر پڑا رہتا ہے، وہ جائے گا ہی نہیں۔
آفیسر نے ہار نہیں مانی اور پوچھا:
اگر تمہارے والد جائیں تو 100 گرام کتنے کا پڑے گا 170 روپے کلو کے حساب سے؟
نوجوان:
میرے والد کے منہ میں دانت ہی نہیں ہیں وہ کیلا کھاتے ہیں، اس لئے نہ وہ کھاتے ہیں نہ سیب لینے جائیں گے نہ ریٹ پوچھنے کی ضرورت ہے انکو۔
آفیسر بھی ڈھیٹ تھا، اس نے کہا:
چلو مجبوری میں تمہاری بہن کو جانا پڑا سیب لینے تو اس ریٹ میں 100 گرام کے کتنے پیسے ہوئے؟
نوجوان:
صاحب ہم اسکی شادی پانچ سال پہلے کر چکے۔ اب وہ جانے اور بہنوئی جانے وہ چاہے سیب خریدیں کیلا لیں یا لیچی اپنے سے کیا مطلب۔
ویسے بھی نو کری میں کروں گا یا پورا خاندان کرے گا؟
آفیسر کے صبر کا باندھ اب ٹوٹنے لگا، بہت غصے میں بولا:
بھائی کوئی بہت ہی عام ادمی سیب لینے جائے تو 100 گرام سیب کتنے کا ہوا، بتاؤ!
نوجوان:
صاحب، عام آدمی کو سرکار اور ہمارے سسٹم نے سیب کھانے لائق چھوڑا ہی کہاں ہے، وہ بیچارہ تو دال روٹی میں ہی پریشان ہے۔ عام آدمی تو سیب کی ریڑھی لگاتا ہے اور خاص آدمی ہی سیب خرید کر کھاتا ہے، اس لئے عام ادمی کو سیب کے ریٹ سے کیا مطلب!
😅😅😅
24/05/2026
پاکستان میں کاروبار شروع کرنا بعض اوقات ایسے لگتا ہے جیسے کوئی آدمی بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہو کر ماچس جلا رہا ہو۔
صبح دکان کھولتے ہیں، دوپہر تک تین لوگ ادھار مانگ لیتے ہیں، شام تک بجلی چلی جاتی ہے اور رات کو بینک کا میسج آ جاتا ہے کہ قسط جمع کروائیں۔ پھر لوگ کہتے ہیں، “یار اپنا کام کیوں نہیں کرتے؟ نوکری سے بہتر تو بزنس ہے۔”
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں کاروبار نوکری سے نہیں، جنگ سے ملتا جلتا ہے۔
ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ اس نے ایم بی اے کیا ہوا تھا۔ اس کے پاس بزنس پلان تھا، پاور پوائنٹ پریزنٹیشن تھی، مارکیٹ ریسرچ تھی، یہاں تک کہ اس نے اپنی دکان کے لیے اٹلی سے لائٹس بھی منگوائی تھیں۔
چھ ماہ بعد دکان بند ہو گئی۔
میں نے پوچھا، “کیوں؟”
وہ خاموش ہو گیا۔
پھر آہستہ سے بولا، “سر… لوگ پیسے واپس نہیں کرتے تھے۔”
یہ جملہ سن کر مجھے لاہور کے شاہ عالم مارکیٹ کا ایک بوڑھا تاجر یاد آ گیا۔
وہ کہا کرتا تھا، “بیٹا، پاکستان میں کاروبار مال سے نہیں، نقدی سے چلتا ہے۔”
یہ ایک لائن پورے اکنامکس کی قبر پر لکھی جا سکتی ہے۔
کیونکہ ہمارے ہاں گاہک چیز خریدنے نہیں آتا، تعلق بنانے آتا ہے۔ وہ پہلے چائے پیتا ہے، پھر آپ کو بھائی بناتا ہے، پھر ادھار لیتا ہے، اور آخر میں نمبر بدل لیتا ہے۔
آپ اگر یہ نفسیات نہیں سمجھتے تو آپ کاروبار نہیں کر سکتے۔
پھر ایک اور حقیقت دیکھیے۔
امریکہ میں کمپنی کا نام بکتا ہے۔ پاکستان میں آدمی کا نام بکتا ہے۔
یہاں لوگ برانڈ سے پہلے بندہ دیکھتے ہیں۔
اگر بازار میں یہ مشہور ہو جائے کہ “یہ شخص وقت پر پیسے دیتا ہے” تو پھر اسے سرمایہ ڈھونڈنا نہیں پڑتا، سرمایہ خود اسے ڈھونڈ لیتا ہے۔
میں فیصل آباد کے ایک صنعتکار کو جانتا ہوں۔ اس نے زندگی میں کبھی کسی کا چیک باؤنس نہیں ہونے دیا۔ ایک دفعہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ اس نے اپنی بیوی کے زیورات بیچ دیے لیکن وعدہ پورا کیا۔
آج اس کی تین فیکٹریاں ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ پاکستان میں اعتبار بینک بیلنس سے بڑا اثاثہ ہوتا ہے۔
پھر ہمارے نوجوان ایک اور غلطی کرتے ہیں۔
یہ کاروبار شروع کرنے سے پہلے سیٹھ بن جاتے ہیں۔
مہنگا آفس، چمکتی میز، نئی گاڑی، برانڈڈ گھڑی۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گاہک کو آپ کی گھڑی سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اسے صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ کی چیز اس کے پیسے کے قابل ہے یا نہیں۔
دنیا کا ہر بڑا کاروبار ابتدا میں چھوٹا تھا۔
لیکن ہمارے ہاں ہر چھوٹا کاروباری آغاز ہی میں بڑا نظر آنا چاہتا ہے۔
اور یہی خواہش اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
پھر ملازمین کا معاملہ آتا ہے۔
پاکستان کا مزدور عجیب انسان ہے۔
یہ بھوکا رہ لے گا لیکن بے عزتی برداشت نہیں کرے گا۔
آپ اگر اسے عزت دے دیں، اس کے بچوں کا پوچھ لیں، اس کے دکھ میں کھڑے ہو جائیں تو وہ آپ کے لیے دیوار بن جاتا ہے۔
لیکن اگر آپ نے اسے صرف نوکر سمجھا تو وہ صرف تنخواہ کے وقت آپ کا ہوگا۔
باقی پورا مہینہ وہ آپ کے خلاف ہوگا۔
پھر ایک دلچسپ بات سنیں۔
پاکستان میں نئی چیزیں بہت آہستہ چلتی ہیں۔
یہاں کامیاب وہ نہیں ہوتا جو سب سے نیا آئیڈیا لے آئے۔
کامیاب وہ ہوتا ہے جو پرانی چیز کو بہتر بنا دے۔
بہتر چائے، بہتر برگر، بہتر پیکنگ، بہتر اخلاق۔
بس۔
کامیابی اکثر انہی چھوٹے فرقوں میں چھپی ہوتی ہے جنہیں لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔
پھر ای کامرس والوں کی ایک الگ کہانی ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی آن لائن پیمنٹ کرے گا۔
لیکن پاکستانی گاہک ابھی بھی دروازہ کھول کر پارسل ہاتھ میں لیتا ہے، دو دفعہ الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے، پھر پیسے دیتا ہے۔
کیونکہ اس ملک میں اعتماد آہستہ پیدا ہوتا ہے۔
اور دھوکا بہت تیزی سے یاد رہ جاتا ہے۔
پھر بجلی کی کہانی سن لیجیے۔
دنیا میں لوگ کاروبار کے لیے مارکیٹنگ پلان بناتے ہیں۔
پاکستان میں لوگ پہلے یو پی ایس اور جنریٹر خریدتے ہیں۔
کیونکہ یہاں بجلی صرف بجلی نہیں، کاروبار کی سانس ہے۔
یہ چلی جائے تو منافع رک جاتا ہے۔
پھر آخر میں ایک راز۔
پاکستان کے پرانے سیٹھ آج بھی صدقہ نکالتے ہیں۔
آپ اسے روحانیت کہیں یا نفسیات، لیکن وہ مانتے ہیں کہ کاروبار صرف محنت سے نہیں چلتا، دعا سے بھی چلتا ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ بعض نقصان حساب کتاب سے نہیں رکتے۔
بعض طوفان صرف نیکی سے ٹلتے ہیں۔
لہٰذا اگر آپ واقعی پاکستان میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ایک بات یاد رکھیے۔
یہ ملک کمزور لوگوں کے لیے نہیں بنا۔
یہاں وہی شخص آگے نکلتا ہے جو دھوکے کے بعد بھی سیدھا کھڑا رہے، نقصان کے بعد بھی دوبارہ آغاز کرے، اور مشکل کے باوجود اپنا وعدہ نہ توڑے۔
کیونکہ پاکستان میں کاروبار کرنا واقعی بہادروں کا کام ہے۔
نیکسٹ ایج سلوشنز
بچوں کو مالی سمجھ بوجھ (Financial Literacy ) کیسے سکھائی جائے؟
ہمارے بچوں کو اسکول میں ریاضی، سائنس اور زبانیں تو سکھائی جاتی ہیں مگر پیسے کو سمجھنے، بچانے، خرچ کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کی تعلیم بہت کم دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ بڑی عمر میں بھی مالی مسائل، قرضوں اور غیر ضروری اخراجات کا شکار رہتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مستقبل میں ذمہ دار، خودمختار اور کامیاب انسان بنیں تو ہمیں انہیں بچپن سے مالی شعور دینا ہوگا تاکہ وہ پیسے کی قدر، محنت کی اہمیت اور سمجھداری سے فیصلے کرنا سیکھ سکیں۔
مالی سمجھ بوجھ (Financial Literacy )کیا ہے؟
* پیسے کی اہمیت کو سمجھنا
* آمدنی اور اخراجات کا حساب رکھنا
* بچت کرنا
* بجٹ بنانا
*جائز و حلال پیسہ کمانے کے ذرائع کا فہم رکھنا
* فضول خرچی سے بچنا
* سرمایہ کاری اور کاروبار کی بنیادی Terms کی سمجھ رکھنا
یہ زندگی کی ایسی مہارت ہے جو انسان کو مالی طور پر مضبوط اور پُراعتماد بناتی ہے۔
بچوں کو Financial Literacy کیوں سکھانی چاہیے؟
1۔ پیسے کی قدر سمجھنے کیلئے
جب بچے جانتے ہیں کہ پیسہ محنت سے حاصل ہوتا ہے تو وہ فضول خرچی کم کرتے ہیں اور چیزوں کی قدر کرنا سیکھتے ہیں۔
2۔ مستقبل میں مالی مشکلات سے بچنے کیلئے
مالی شعور رکھنے والے بچے بڑے ہوکر قرضوں، بے جا خرچ اور مالی دباؤ سے بہتر انداز میں نمٹ سکتے ہیں۔
3۔ خودمختاری پیدا کرنے کیلئے
کیونکہ Financial Literacy بچوں میں خوداعتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ اپنی زندگی کے مالی فیصلے بہتر انداز میں لینا سیکھتے ہیں۔
4۔ کاروباری سوچ پیدا کرنے کیلئے
پاکستان میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر بچوں کو مالی تعلیم دی جائے تو وہ نوکری کے ساتھ کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کرنا سیکھتے ہیں۔
5۔ ذمہ دار شہری بنانے کیلئے
مالی طور پر باشعور لوگ معاشرے میں زیادہ ذمہ دار کردار ادا کرتے ہیں اور اپنے خاندان کی بہتر کفالت کر سکتے ہیں۔
بچوں کو Financial Literacy کیسے سکھائی جائے؟
1۔ جیب خرچ کا صحیح استعمال سکھائیں
بچوں کو محدود جیب خرچ دیں اور انہیں سکھائیں کہ:
* کچھ خرچ کریں
* کچھ بچائیں
* کچھ ضرورت مندوں کیلئے رکھیں
اس سے ان میں مالی توازن پیدا ہوگا۔
2۔ بچت کا تصور عملی طور پر سکھائیں
گھر میں بچوں کیلئے ایک “Saving Box” یا “Money Jar” رکھیں تاکہ وہ اپنی بچت جمع کریں اور کسی اچھے مقصد کیلئے استعمال کریں۔
3۔ بجٹ بنانا سکھائیں
بچوں کو سادہ انداز میں بجٹ بنانا سکھائیں:
* کتنے پیسے آئے؟
* کتنے خرچ ہوئے؟
* کتنے پیسے بچائے؟
یہ عادت مستقبل میں بہت فائدہ دیتی ہے۔
4۔ ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھائیں
بچوں کو بتائیں:
* “ضرورت” وہ ہے جو زندگی جینے کیلئے ضروری ہو
* “خواہش” وہ ہے جو صرف دل چاہتا ہو
یہ فرق سمجھنا مالی کامیابی کی بنیاد ہے۔
5۔ گھر کے مالی معاملات میں مناسب شمولیت دیں
بچوں کے سامنے سادہ انداز میں گفتگو کریں کہ:
* بجلی کا بل کیسے آتا ہے؟
* گھر کا بجٹ کیسے بنتا ہے؟
* اخراجات کیسے کنٹرول کئے جاتے ہیں؟
*پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے ؟
اس سے وہ حقیقی زندگی کو سمجھتے ہیں۔
6۔ محنت اور کمائی کا تعلق سکھائیں
بچوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں کی ذمہ داری دیں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ پیسہ محنت سے حاصل ہوتا ہے۔پیسہ کمانے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اپنا وقت ،ہنر ،علم ،انرجی اور آرام دے کر بدلے میں پیسہ خریدتا ہے
7۔ کہانیوں اور کھیلوں کے ذریعے سکھائیں
بچے کھیل اور کہانیوں سے جلد سیکھتے ہیں۔
انہیں کاروبار، بچت اور محنت کے موضوعات پر کہانیاں سنائیں۔
8۔ ڈیجیٹل مالی شعور بھی سکھائیں
آج کے دور میں بچوں کو یہ بھی سکھانا ضروری ہے:
* آن فراڈ (Online Fraud )سے کیسے بچنا ہے؟
* اے ٹی ایم ATM ،کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ اور ڈیجیٹل والٹ کیا ہوتے ہیں؟
* آن لائن شاپنگ (Online Shopping )احتیاط سے کیسے کرنی ہے؟
9۔ مثال بن کر سکھائیں
بچے والدین کی نقل کرتے ہیں۔
اگر والدین خود فضول خرچی سے بچیں، بجٹ بنائیں اور بچت کریں تو بچے بھی یہی سیکھتے ہیں۔
10۔ سرمایہ کاری کی بنیادی چیزوں کی سمجھ دیں
بڑی عمر کے بچوں کو سادہ انداز میں سمجھائیں:
* کاروبار کیا ہوتا ہے؟
* سرمایہ کاری کیا ہوتی ہے؟
* منافع کیسے حاصل ہوتا ہے؟
والدین اور اساتذہ سے میری خصوصی گزارش
مالی سمجھ بوجھ سیکھنا اور سکھانا صرف امیروں کیلئے نہیں بلکہ ہر طبقے کے بچوں کیلئے ضروری ہے۔ اگر والدین اور اساتذہ بچوں کو شروع سے مالی شعور دیں تو ہماری آنے والی نسل:
* زیادہ ذمہ دار ہوگی
* معاشی طور پر مضبوط اور خودمختا ہوگی
* قرضوں اور مالی پریشانیوں سے بہتر انداز میں بچے گی
* اور پاکستان کی معیشت میں مثبت کردار ادا کرے گی۔انشاء اللہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Website
Address
Mardan
Mardan
23200