Muhammad Adil
03/04/2026
کل جب پٹرول مہنگا ہوا تو دل میں شدید تکلیف محسوس ہوئی۔ لگا کہ یہ صرف میرا نہیں، پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ میں نے فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر پر آواز اٹھائی اور سب کو جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج کے لیے بلایا۔
اور پھر میں خود بھی اپنی مسجد میں نماز کے بعد کھڑا ہوا اور بلند آواز میں کہا:
“ہم اس ظلم کے خلاف احتجاج کریں گے، اور میں آپ سب کو اس احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔”
لیکن جب میں مسجد سے باہر نکلا تو حقیقت کچھ اور تھی۔ ہزاروں کی بات کرنے والی قوم میں صرف 5 لوگ کھڑے تھے… اور جیسے ہی پولیس کی گاڑی آئی، صرف 2 رہ گئے۔
اسی دوران ایک پولیس افسر کی بات دل میں گھر کر گئی:
“یار، آپ کس دور میں رہتے ہو؟ یہاں احتجاج صرف سوشل میڈیا پر ہوتا ہے۔ مسجد میں نمرود اور فرعون کے خلاف بولنا آسان ہے کیونکہ وہ زندہ نہیں ہیں، لیکن جو آج زندہ ہیں ان کے خلاف کوئی نہیں بولتا۔”
یہ الفاظ صرف جملے نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہیں۔
ہم سوشل میڈیا کے شیر بن چکے ہیں، لیکن حقیقت میں خاموش ہیں۔ ہم نے لائکس اور شیئرز کو بہادری سمجھ لیا ہے، جبکہ اصل بہادری میدان میں نظر آتی ہے۔
اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو:
صرف پوسٹس نہیں، اپنی موجودگی دکھائیں۔
صرف باتیں نہیں، عمل کریں۔
صرف غصہ نہیں، ہمت بھی پیدا کریں۔
یہ ملک ہم سب کا ہے۔ اگر ہم ہی نہیں بولیں گے تو کون بولے گا؟
اٹھو، سوچو، اور اپنے اندر کے خوف کو ختم کرو۔
قومیں تب بنتی ہیں جب لوگ کھڑے ہوتے ہیں، صرف لکھنے سے نہیں۔
15/03/2026
نن سبا پیسہ تعلق ھم جوڑئ او پیسہ ہر ہر سہ کئ ۔
د دنیا یو تریخ حقیقت دے کہ سوک یی زما سرہ منی او کہ نہ، خو چی پیسہ درسرہ وہ نو خبرہ بہ دی وزن لری ، او کہ ڈیر ھم اوخیار یی خو چی پیسہ نہ لری نو ستا پہ دی دنیا کی د مور او پلار نہ علاؤہ ھیسوک پہ طرف نہ وی ۔
یو خبرہ کیگی وایی پہ پیسہ کی سکون نیشتہ ، یاد ساتئ دہ خبرہ مالدارو ایجاد کڑی دہ د دی خبری باوجود ھم ھغوی لگیا دی خپلو پیسو کی نورہ ھم اضافہ کئ ۔ ،
حالانکہ وئئ چی پیسہ کی سکون نیشتہ ۔
اصل خبرہ دا دہ چی نن سبا ہر سہ پہ پیسہ کی دی ستا رشتہ دار، ستا ملگری او حتیٰ چی ستا اوخیار توب ھم سوک نہ منی کہ ستا سرہ پیسی نہ وی ۔
نو ځوانانو د چا پہ خبرو پسی مہ رازئ کہ پہ وطن کی سہ نیشتہ نو بہر بل وطن تہ لاڑ شئ او پیسہ وگٹئ ۔
سوک لگیا دی وایی دنیا فانی دہ ، دا خبرہ خو مونگ منو پہ دی کی شک نیشتہ ، خو د دی مطلب دا نہ دے چی دنیا فانی دہ جو کور کینہ او ٹک کار مہ کوہ دنیا مطلب دے او اخرت مقصد دے ۔
چی تر سو مونگ پہ دنیا کی یو چی وقت پہ امید تیر کړو او زان تہ سہولیات پیدا کړو، نو ھلہ بہ انسان پہ جوند پوھیگی کنہ غریب سڑے نن سبا د چا پہ سترگو خہ نہ ورزی ۔
کوشش اوکئ پیسہ اوگٹئ پہ کلی وطن کی بہ مو عزت پیدا شی ۔
✍️۔
26/02/2026
تمہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ اگر کوئی پانچ سوٹ لے تو میں ایک سوٹ مفت دوں گا، رمضان میں ہر جگہ اس طرح کی آفرز لگتی ہیں۔ لیکن تم یہ کہہ رہے ہو کہ جو پانچ سوٹ لے گا میں اس کی فیملی سے بات کروں گا۔ تم ہو کیا چیز جو لوگوں کی فیملیوں سے بات کرو گے؟ کیا لوگوں کی فیملیاں تمہاری باتوں کے لیے بیٹھی ہوئی ہیں؟
تم کہہ رہے ہو کہ پٹھان لوگوں کی فیملیوں کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کروں گا، تم خود کو کیا سمجھتے ہو؟ جو عزت تمہیں ملی تھی وہ ہم نے دی تھی، اس عوام نے دی تھی، لیکن آج تم نے اپنی عزت خود خراب کر لی۔ جب تمہارا کاروبار نہیں چل رہا تو تم اس طرح کی آفرز دے رہے ہو۔
ایک وقت تھا جب تم کرکٹ میچ میں نہیں ہوتے تھے تو ہم کرکٹ نہیں دیکھتے تھے، لیکن اس طرح کی بات کوئی نہیں کر سکتا جیسی تم نے کی۔ جب تمہارے اپنے علاقے وادی تیراہ میں لوگوں کو مدد کی ضرورت تھی، تم نے ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ان کے خلاف بات کی۔ اور اب تم توقع رکھتے ہو کہ ہم تمہاری دکان سے پانچ سوٹ خریدیں اور تم ہم سے بات کرو؟
ایک پٹھان بابا جی نے شاہد آفریدی کو اس کی آفر پر کھری کھری سنا دیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Address
Fatehkhel
Malakand