Water Management Vehari
On-Farm Water Management (اصلاح آبپاشی)
Vehari Department
Specialized Services:
- Drip Irrigation Systems
- Water Courses Improvement
- Laser Land Leveling
- Solarization Projects
- Water Storage Pond
- Tubewell Irrigation Scheme
01/01/2026
27/03/2025
میلسی سائفن – دریائے ستلج پر ایک شاندار انجینئرنگ منصوبہ
پاکستان میں آبپاشی کے بڑے منصوبوں میں میلسی سائفن ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ یہ منصوبہ پنجاب کے تاریخی شہر میلسی میں، جو ملتان سے تقریباً 50 میل مشرق میں واقع ہے، دریائے ستلج پر تعمیر کیا گیا۔ اس کا مقصد پاکستان کے زرعی نظام کو مستحکم کرنا اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا تھا۔
1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان کو ایک بڑے آبی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ دریاؤں کا قدرتی بہاؤ کئی مقامات پر بھارت کے کنٹرول میں چلا گیا، جس کی وجہ سے پاکستان کے زرعی علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہو گئی۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے متعدد آبپاشی منصوبے شروع کیے گئے، جن میں میلسی سائفن بھی شامل تھا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دریائے ستلج کے موسمی بہاؤ کو قابو میں رکھنا اور متبادل بیراجوں سے پانی کی منتقلی کو ممکن بنانا تھا، تاکہ پاکستان کا زرعی نظام بھارت پر انحصار سے آزاد ہو سکے۔
تکنیکی ڈیزائن اور تعمیر
یہ منصوبہ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (WAPDA) کے تحت Coode and Partners نامی برطانوی انجینئرنگ فرم نے ڈیزائن کیا، جبکہ تعمیراتی کام میں بین الاقوامی کمپنیوں Gammon Pakistan اور فرانسیسی فرم Companie Francaise d’Entreprises نے حصہ لیا۔
بیراج کی بنیاد میں چار بڑے کنڈوئٹس (13 فٹ 6 انچ کے چوکور سرنگ نما راستے) تعمیر کیے گئے، جو پانی کو دوسرے بیراجوں سے لے کر دریا کے پار منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
تعمیراتی مراحل اور چیلنجز
اگست 1962 میں، ابتدائی ٹیم نے میلسی پہنچ کر سائٹ انفراسٹرکچر اور رہائش کی تیاری شروع کی۔ اس دوران مزدوروں کے لیے عارضی نسان ہٹ طرز کی رہائش گاہیں قائم کی گئیں، کیونکہ علاقے کا موسم شدید گرم تھا۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تھا، جبکہ سردیوں میں ٹھنڈ شدید ہو جاتی تھی۔
مقامی وسائل کا استعمال
اینٹیں مقامی سطح پر تیار کی گئیں اور انہیں بیل گاڑیوں کے ذریعے سائٹ تک پہنچایا جاتا تھا۔
خانما بدوش خواتین دھات کے برتنوں میں کنکریٹ لے کر سیڑھیوں کے ذریعے اوپر چڑھتیں اور چھتیں تیار کرتیں۔
کنکریٹ کا خام مال (ریت اور پتھر) جہلم اور سرگودھا سے ریل کے ذریعے لایا گیا۔
دریائے ستلج اور پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی
تعمیر کے دوران سب سے بڑا چیلنج دریائے ستلج کے غیر متوقع بہاؤ کو کنٹرول کرنا تھا۔ ابتدائی منصوبے میں دریا کے ایک حصے پر بیراج مکمل ہونے کے بعد پانی کا رخ موڑ کر دوسرے حصے پر تعمیر جاری رکھنی تھی۔ تاہم، سر تھامس فوئے نامی ماہر انجینئر نے ایک منفرد تجویز دی کہ دریا کے گرد ایک متبادل راستہ (Diversion Cut) بنایا جائے۔ یہ تجویز کامیاب ثابت ہوئی اور 1963 کے سیلاب کے دوران دریا نے اس راستے کو اختیار کر لیا، جس سے تعمیراتی کام بلا تعطل جاری رہا۔
تیزی سے مکمل ہونے والا منصوبہ
مزدوروں نے فرانسیسی ماہرین سے ہیوی مشینری کا استعمال سیکھ کر خود ہی زمین کی کھدائی اور دیگر کام سنبھال لیے۔
روزانہ 1000 مکعب گز کنکریٹ استعمال کیا جاتا تھا، جو بڑے Pan Mixers میں تیار ہوتا اور Crawler Cranes کے ذریعے سائٹ پر منتقل کیا جاتا۔
گرمیوں میں کنکریٹ کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کے لیے پانی کو ٹھنڈا کیا جاتا، جو کہ گہرے Dewatering Wells سے حاصل کر کے چِلنگ پلانٹ میں ٹھنڈا کیا جاتا تھا۔
نوٹ: یہ یہ معلومات ماہر انجنئیر جنہوں نے اس منصوبے پر کام کیا ان کی ڈائری کا ترجمعہ یے اور اس دوران وہ میلسی شہر میں رہائش پذیر رہے۔
A warm welcome to Mr. Tomas Rosada,
We're deeply grateful for your visit and acknowledgement of our on-farm water management activities. Your support and efforts have been instrumental in making this project a success.
Thank you for the World Bank's continued partnership and commitment to our region's development. We're excited about the prospect of future collaborations and wish our joint ventures all the best.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the organization
Telephone
Website
Address
Opposite GOVT Girls College Near Nimra Masjid, Model Town
Mailsi
61200
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 16:00 |
| Tuesday | 09:00 - 16:00 |
| Wednesday | 09:00 - 16:00 |
| Thursday | 09:00 - 16:00 |
| Friday | 09:00 - 13:00 |
| Saturday | 09:00 - 16:00 |