Squad Gallery

Squad Gallery

Share

03/04/2025

*میرا ہے کون تیرے سوا آہ لے خبر*

03/04/2025

❤‍🩹

03/04/2025

ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوش نہ ہوں جو مہنگے لباس پہنتے ہیں، مہنگے جوتے پہنتے ہیں، بہت پکوان تیار کرتے اور کھاتے ہیں وغیرہ۔ یہ تو بس دنیاوی چیزیں ہیں۔

بلکہ ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوش ہوں جو نماز زیادہ اچھی پڑھتے ہیں، جو قرآن پڑھتے اور اس کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، جو دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں، جو اللہ کے بہت ہی قریب ہوتے ہیں۔

کیونکہ اگر خود کو بدلنا ہی ہے تو ہم کیوں نہ نیک لوگوں کو دیکھ کر خود کو بدلیں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

🌹🌿🌹

02/04/2025

*اے حسرتوں میں ڈوبی عید الوداع ♥️
زندہ رہیں تو پھر دیکھیں گے تیرے عروج کا موسم*😘

02/04/2025

* جو حق کو پا لے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے پائے گا۔
* جو عمل صالح کرے، اپنے فائدے کیلئے کرے گا۔
* جو شکر کرے، وہ اپنے ہی فائدے کیلئے کرے گا۔
* جو اپنا تزکیہ کرے، اپنے لیے ہی کرے گا۔
* جو مجاھدہ کرے گا، وہ خود فائدے اٹھائے گا۔
* جو ہدایت پر چلے گا، اسے ہی فائدہ ہوگا۔
* جو بخل کرے، خود نقصان اٹھائے گا۔
* جو عہد شکنی کرے، وہ اپنے ہی خلاف (عمل) کرے گا۔
* جو نیکی کرے گا، سو فائدہ اٹھائے گا۔

"قیامت کے دن تمہاری نجات ملنا ہر ایک کا ذاتی معاملہ ہوگا، تم دوسروں کی کوتاہیوں کا بہانہ نہیں بنا سکو گے۔"✨🖤

02/04/2025

🫠

16/02/2025
13/02/2025

شب برات (نصف شعبان کی رات) کے بارے میں تفصیلی تحقیق

شب برات یعنی 15 شعبان کی رات کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں، لیکن اس کی حقیقت اور فضیلت کے متعلق کیا صحیح اور کیا ضعیف ہے، آئیے تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

---

1. شب برات کی فضیلت کے متعلق احادیث

بعض روایات میں نصف شعبان کی رات کی فضیلت بیان کی گئی ہے، لیکن محدثین نے ان میں سے اکثر کو ضعیف یا موضوع قرار دیا ہے۔ چند اہم روایات درج ذیل ہیں:

(1) اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی رات؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے، تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔"
(ابن ماجہ: 1389، ترمذی: 739، احمد: 6642)

▶ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں راوی ابن لَہِيعَہ ضعیف ہیں۔ تاہم، بعض اہل علم نے اس کی دیگر شواہد کی بنا پر اسے حسن لغیرہ کہا ہے۔

(2) اعمال نامہ پیش ہونے کی رات؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ 15 شعبان کی رات لوگوں کے سال بھر کے اعمال نامے پیش کیے جاتے ہیں اور تقدیری فیصلے ہوتے ہیں، لیکن یہ نظریہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔

قرآن میں ذکر ہے:
"ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اسی رات میں ہر حکمت والا کام طے کیا جاتا ہے۔"
(الدخان: 3-4)

▶ یہ آیات لیلۃ القدر کے بارے میں ہیں، نہ کہ شب برات کے بارے میں۔

(3) عبادت کی مخصوص رات؟

"جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو۔"
(ابن ماجہ: 1388)

▶ یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس میں راوی ابوبکر بن عبد اللہ مجہول ہیں۔ امام بخاری، ابن الجوزی، اور امام البانی رحمہم اللہ نے اسے ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے۔

---

2. نصف شعبان کی رات کے بارے میں سلف صالحین کا موقف

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"بعض سلف صالحین اس رات کی فضیلت کے قائل تھے، اور بعض اہل حدیث اس رات میں انفرادی عبادت کو مستحب سمجھتے تھے، لیکن اسے عید یا باقاعدہ اجتماع کی شکل دینا بدعت ہے۔"
(مجموع الفتاویٰ: 23/131)

امام ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"نصف شعبان کی رات کے بارے میں کوئی صحیح حدیث موجود نہیں، لہٰذا اسے خصوصی طور پر عبادت کے لیے مختص کرنا درست نہیں۔"
(لطائف المعارف: 261)

---

3. کیا 15 شعبان کے روزے کا ثبوت ہے؟

بعض لوگ 15 شعبان کے روزے کو خاص اہمیت دیتے ہیں، لیکن اس کی کوئی مستند دلیل نہیں۔

نبی کریم ﷺ نے عمومی طور پر شعبان میں زیادہ روزے رکھے، لیکن کسی مخصوص دن (مثلاً 15 شعبان) کا روزہ رکھنے کی تاکید نہیں فرمائی۔

اگر کوئی شخص شعبان میں نفلی روزے رکھتا ہے، جیسے ایامِ بیض (13، 14، 15 تاریخ کے روزے) تو وہ 15 شعبان کا روزہ بھی رکھ سکتا ہے، لیکن اسے خاص فضیلت والا روزہ سمجھنا درست نہیں۔

---

4. شب برات پر اجتماعی عبادات، چراغاں اور حلوا پکانے کی حقیقت

(1) مساجد میں مخصوص عبادات؟
بعض لوگ اس رات میں مساجد میں اجتماعی عبادات، نوافل، دعا اور ذکر کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن یہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔

(2) قبروں کی زیارت؟
بعض لوگ اس رات میں قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کرتے ہیں، چراغاں کرتے ہیں، یا خصوصی دعائیں کرتے ہیں، لیکن یہ عمل نبی ﷺ اور صحابہ سے ثابت نہیں۔

(3) حلوا، کھانے پینے کا اہتمام؟
بعض علاقوں میں شب برات پر حلوہ یا خاص کھانے پکانے کی روایت ہے، جو ایک بے بنیاد رسم ہے اور شریعت میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

---

5. صحیح عمل کیا ہے؟

✅ 1. نوافل اور انفرادی عبادت
اگر کوئی شخص انفرادی طور پر نوافل، ذکر و اذکار، استغفار کرنا چاہے تو یہ درست ہے، کیونکہ رات کے وقت عبادت عمومی طور پر مستحب ہے۔ لیکن اس کے لیے 15 شعبان کی رات کو خاص کرنا ضروری نہیں۔

✅ 2. بدعات اور غیر ثابت شدہ چیزوں سے اجتناب
شب برات پر اجتماعی عبادات، چراغاں، قبر پرستی، حلوے کی رسم، یا مخصوص روزے جیسی بدعات سے اجتناب ضروری ہے۔

✅ 3. زیادہ سے زیادہ استغفار
ہر وقت استغفار کرنا نیک عمل ہے، لیکن 15 شعبان کو خاص طور پر مغفرت کی رات سمجھنا ثابت نہیں۔

✅ 4. رمضان کی تیاری
شعبان کا مہینہ رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے، اس میں زیادہ سے زیادہ نوافل اور روزے رکھنا نبی ﷺ کی سنت ہے۔

---

نتیجہ

1. 15 شعبان کی رات کی فضیلت کے متعلق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں۔

2. اس رات کی عبادات، اجتماعی محافل، قبر پرستی اور مخصوص کھانے پینے کی رسم بدعت ہیں۔

3. 15 شعبان کے روزے کی کوئی خاص فضیلت نہیں، ہاں اگر ایامِ بیض کے طور پر رکھا جائے تو جائز ہے۔

4. شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا اور نوافل ادا کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے، لیکن کسی مخصوص دن یا رات کو خاص کرنا غلط ہے۔

لہٰذا، شب برات منانا، اس رات کو خاص عبادات کے لیے مخصوص کرنا، اور اس پر مختلف رسومات ادا کرنا شرعی طور پر ثابت نہیں ہے۔
اللہ ہمیں دین کو صحیح طریقے سے سمجھنے او
ر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

11/02/2025

پیغامِ مصطفی ﷺ 💚

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Lodhran?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Dera Jund
Lodhran