Lahore Tour Guide

Lahore Tour Guide

Share

Lahore Known as the city of gardens it was the city of festivals and the hub of cultural activities
Lets Enjoy the cultural and heritage tours of Lahore with our professional guides lets explore lahore with us and make your tour memorable Lahore is Pakistan,s most interesting city the cultural and intellectual center of the nations.Its faded elegance and busy streets and bazaars and wide variety of Islamic and British architecture make it is city full of atmosphere contrast and surprise.

Photos from Lahore Tour Guide's post 26/03/2024

لاھور جو ایک شہر تھا اب ایک ہجوم ہے

لاھور کا شالیمار باغ اور کچھ پرانی یادیں والد صاحب کی زبانی
شعلہ ماہ سے شالیمار باغ تک کا سفر
یادش بخیر: تحریر و تصاویر عادل لاھوری

شالیمار باغ کا نام سنتے ہی میرے دماغ میں میلہ چراغاں کا خیال ا جاتا ہے لاہور کا سب سے بڑا میلہ یہاں تک کہ جب اس میلہ میں اگ لگائ جاتی تو ان کے پھبنڑوں کو اندرون شہر کی چھتوں سے باآسانی دیکھا جا سکتا تھا آسمان لال سرخ ہو جاتا تھا اور اندھی نہ آئے ایسا ہوتا ہی نہیں تھا کتنے ہی سالوں تک میلہ شالامار کے نام سے میلہ شالیمار رہا بعد اس کو مادھو لال حسین کا میلہ کہا جانے لگا اصل میلہ تو باغ کے اندر لگتا تھا لوگ کئ دنوں پہلے ہی اپنے اپنے خیمے لگا لیتے تھے کیا سیکھ کیا ہندو سبھی دھرم کے لوگ اس میلے میں شرکت کرتے تھے لاھور کے باسی اس کو خوشیوں والا میلہ بھی کہا کرتے تھے اندرون شہر سے ٹانگوں پر بھر بھر کر ٹولیاں آتی تھی کئ دنوں پہلے ہی اس میلہ کی تیاریاں شروع ہو جاتی یہ لاھور کا واحد میلہ تھا جہاں لوگ کئ دنوں پہلے ہے ڈیرے ڈال لیتے اور میلہ کے ختم ہونے کے بعد بھی اس کا زکر کئ دنوں تک رہتا یہی اس کے بعد قدموں کا میلہ آتا تھا اس کا زکر پھر کبھی ۔کھانے پینے کی عارضی دکانیں کپ سٹور سے شروع ہو کر اخری منٹ سے آگے تک جاتی تھی لاھور میں ان دنوں کوئ بھی ٹانگہ نہیں ملتا تھا
والد صاحب بتاتے ہیں کہ طفیل نیازی ، عالم لوہار اس میلہ میں دو دن پرفارم کرتے تھے اور لوگوں سے داد وصول کرتے تھے ایک ہندو گلوکار مدن بھی یہاں پرفارم کرتا تھا
لاھور میں طرح طرح کے مزیدار پکوان پکتے تھے قیام پاکستان سے قبل بھائیوں کی مٹھائی کی ہٹی انارکلی میں ہوا کرتی تھی جو اس میلہ کے موقع پر خصوصی پکوان تیار کرتے تھے اسی روایات کو آج بھی اندرون شہر چوہٹہ مفتی باقر کے صدیق حلوائی نے زنده رکھے ہوئے ہے جو ہر سال اس میلہ پر کھوئے والی کچوریاں بناتے ہیں جن کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے
ہمارے گھروں میں بھی اس مناسبت سے کھانے پکاتے تھے کھیر تو بہت عام تھی
اس میلہ میں کوئ گتکا پرفارم کر رہا ہے تو کوئ سازندے بجا کر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے اجکل کی طرح چادروں کا رواج بلکل نہ تھا البتہ ڈھول کی تھاپ آپکو ہر کونے میں سنائ دیتی گجرات کے ایک جوان یہاں ہر روز تین بار اپنے فن کا مظاہرہ کرتا جس کو دنیا عالم لوہار کے نام سے جانتی ہے ملک تھیٹریکل کمپنی بھی اپنا رنگ خوب جماتی تھی اور کئ لوگ فنکاروں کو مشہور کرنے میں ان میلوں کا بہت اہم کردار تھا
لاھور کے مشہور ہوتے فنکار تیسرے دن جب رش قدرے کم ہو جاتا تو اپنے چہرے کو ڈھانپے اس میلہ میں ضرور شرکت کرتے تھے
ایک ایسا فنکار جس نے لاھور کی گلیوں میں نعت " شاہے مدینہ یثرب کے والی " پڑھ کر لوگوں کے دل جیت لیے جب سرد راتوں میں لوگ اپنے بستروں میں لیٹے ہوتے تھے تو اس کی آواز رونگٹے کھڑے کر دیتی تھی اس فنکار کا تعلق ایک میسحی خاندان سے تھا اور لوگ کس قدر فنکاروں کی قدر کرتے تھے اجکل ایسا ممکن نہیں مجھے یہ میلہ آج سے کوئ 25 سال قبل دیکھتے کا اتفاق ہوا ہے اب کے میلہ میں بہت فرق ہے اب زرا باغ کی طرف واپس آتے ہیں
اصل باغ وہ تھا جو جہانگیر بادشاہ نے کشمیر میں بنوایا تھا جس میں دن بھر فوارے بہتے تھے اور جس کی سات پرتے تھیں پھل دار درختوں کی بہتات تھی جس کی وجہ رنگ برنگ کے پرندوں نے باغ کو ایک منفرد سماع بخشا تھا آج تو آپ کو لاھور میں سبز طوطا تک نظر نہیں آتا مجھے یاد ہے کوئ 25 سال پہلے تک طوطوں کی ٹولیاں آسمان پر صبح سویرے گزرتی اور شام گئے واپس لوٹ آتی کیا خوبصورت نظارہ تھا آنکھیں ترس گئ ہیں ان ٹولیوں کو دیکھنے کے لیے
والد صاحب کے بقول اس میلہ میں سہیلیوں کی ٹولیاں بھر بھر گلی محلوں سے بے خوف آیا کرتی تھی سکھیاں گدا اور کیکلی ڈالتی تھیں لوگ داستانوں والے خوب رنگ جماتے تھے لوگ سارا سال ان کا انتظار کرتے تھے افسوس سب ختم ہو گیا
جب شاہجاں کی توجہ لاہور پر مرکوز ہوئی تو دہلی سے لاہور آنے والے مہمانوں کے استقبالئے کیلئے لاہور سے باہر ایک باغ بنانے کا ارادہ کیا تاریخ کے جھروکوں میں یہ بات زباں زدِ عام ہے کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اس باغ کا نام کچھ اور رکھا تھا تاہم لوگوں نے اسے شالیمار باغ کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ شروع میں اس باغ کا نام شعلہِ ماہ تھا جس کے معنی ہیں چاند کی روشنی۔ اس باغ کی خوبصورتی کی وجہ سے اسے چاند کا شعلہ کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس باغ کا نام شعلہِ ماہ سے بگڑ کر شالیمار باغ کے نام سے پکارا جانے لگا لیکن شاہ جہاں کے ذہن میں نقشہ کشمیر کے شالیمار باغ کا تھا۔ لیکن ادھر مسئلہ یہ تھا کہ کشمیر کا پہاڑی علاقہ فواروں کو مسلسل رواں رکھنے کیلئے کافی سازگار تھااور پانی کی بھی خوب فراوانی تھی۔لیکن لاہور میں حالات مختلف تھے انجینیرز نے یہ چیلنج قبول کرلیا اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا ۔
جس جگہ آج شالیمار باغ موجود ہے یہ علاقہ لاہور شہر سے کوئی پانچ کلومیٹر دور باغبانپورہ کے علاقے میں آتا ہے۔باغ کیلئے جس جگہ کو پسند کیا گیا وہ ایک ارائیں فیملی کی ملکیت تھی لہذا طے یہ پایا گیا کہ اس باغ کو شاہدرہ سے پار بنوایا جائے اس وقت اس خاندان کے سربراہ محمد یوسف مانگا تھے جنہوں نے بادشاہ کے الیچی کو یہ پیغام بھیجا کہ ہماری جاگیر آپ کے باغ کے لیے وقف ہے لہذا یہ اراضی حکومت کے حوالے کردی۔جس پر بادشاہ نے ناصرف ہمیشہ کیلئے اس خاندان کو باغ کا نگران مقرر کردیا بلکہ میاں کے خطاب سے بھی نوازا ۔اور یوں اگلے ساڑھے تین سو سال تک یہ باغ میاں خاندان کی ملکیت رھا مگر ایوب خان نے 1962 میں اسے قومیا لیا۔پاکستان کے پہلے چیف جسٹس میاں عبدلرشید اور پاکستان ٹائمز اور روزنامہ امروز کے مالک میاں افتخار الدین کا تعلق اسی خاندان سے تھا اور بھی بہت سے نامور لوگ اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں
باغ کو تین ڈھلوانوں پر بنایا گیا اور ان کے الگ الگ نام رکھے گئے۔باغ کے گرد اونچی چار دیواری بنائی گئی جو مغلیہ عہد کی ہر عمارت کی پہچان رہی ہے۔410 فواروں کی تنصیب کی گئی اور سفید اور سرخ سنگ مرمر سے باغ کو سجایا گیا
یہ لاھور کا واحد ایسا باغ تھا جس میں سب سے زیادہ پھلوں کے درخت تھے والد صاحب کے بقول وہ یہاں دستوں کے ساتھ لاھور کے بہترین پھل کھانے آیا کرتے تھے ایسی مٹھاس ہوتی تھی کہ آج کے پھلوں میں وہ کہاں باغ کے لیے درختوں کے پودے قندھار اور کابل سے منگوائے گئے۔ شالیمار باغ جو 80 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا سنگِ بنیاد 1637ء میں رکھا گیا اور اِس باغ کی تعمیر 1641ء میں مکمل ہوئی۔
باغ جنوب سے مشرق کی سِمت تین خطوں پر تیار کیا گیا ہے اور یہ تینوں خطے الگ الگ باغ ہیں۔
ان کے نام فرح بخش، فیض بخش اور حیات بخش ہیں (جن کے ناموں کے محلہ اس علاقے میں آج بھی اباد ہیں ) یہ ایک دوسرے سے تقریباً بارہ فٹ بلندی پر ہیں۔ نیچے اترنے کیلئے خوبصورت سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ پہلے درجے پر 105، دوسرے پر 152 اور تیسرے درجے پر 153 فوارے تعمیر کیے گئے ہیں۔
کچھ دن پہلے مجھے اس باغ کو دیکھنے کا موقع ملا تو اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا یہ تحریر لکھتے وقت مجھے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی وہ نظم یاد آگئی جو ہمیں ہماری امی اس میلہ کے موقع پر ضرور سناتی تھیں

دہقانوں کی ٹولیاں گاتی آئی بولیاں
آؤ منائیں شوق سے میلہ شالامار کا

اس سے آگے مجھے بکل بھی یاد نہیں اب بھی بہت کچھ لکھنے کو باقی ہے مگر تحریر کافی لمبی ہو جائے گی اس لیے اگلی نشست میں
اب نہ وہ میلہ رہے نہ وہ لوگ داستانوں والے اب نہ تو لال آندھی آتی ہے اور نہ ہی آگ کے بھانبھڑ کو چھتوں سے دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اب ٹولیاں نظر آتی ہیں اب تو وہ میلہ رہا ہی نہیں
البتہ محمکہ آرکیالوجی کے افسران اس باغ پر بھرپور توجہ دے رہیں ہیں

اگر میری یہ چھوٹی سی کوشش پسند آئے تو حوصلہ افزائی ضرور کیجئے گا تاکہ لاھور کی خوبصورت یادوں کے سلسلے کو جاری رکھ سکوں
شکریہ
لاھور جو ایک شہر تھا اب ایک ہجوم ہے ۔

28/07/2022

Let's join our weekly customized guided tours of old Lahore organized by
The best tour company of Lahore

Want your business to be the top-listed Travel Agency in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


7/bagwan Das Building
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 08:00 - 20:00
Tuesday 08:00 - 20:00
Wednesday 08:00 - 20:00
Thursday 08:00 - 20:00
Friday 08:00 - 20:00
Saturday 08:00 - 20:00
Sunday 08:00 - 20:00