Baldiyat News

Baldiyat News

Share

20/09/2014

لاہور20ستمبر14(بلدیات نیوز) پنجاب حکومت نے مجوزہ مسودہ قانون میں بلدیاتی انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں کے اختیارات الیکشن کمیشن کو دے دیئے ہیں۔اس سلسلہ میں تیار کیا گیامسودہ قانون باقاعدہ منظوری کے لیے وفاقی وزارت قانون و پارلیمانی کو بھجوا دیا گیا ہے۔اس ترمیمی مسودہ قانون کے مطابق ریٹرنگ و اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی نامزگیاں بھی صوبائی حکومت کی بجائے الیکشن کمیشن ہی کرے گا۔صوبائی حکومت کے پاس میٹرو پولیٹن،میونسپل کارپوریشن،میونسپل کمیٹیوں،ضلع کونسلوں،یونین کونسلوں اور وارڈز کی حد بندیوں کا اختیار رہے گا۔بلدیاتی اداروں کی حد بندیوں کے نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کو یقینی بنائے گا۔یونین کونسلوں کی آبادی کا تعین کر کے شمارتی بلاکس کو مد نظر رکھ کر حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔پنجاب حکومت کی ہدایت پر محکمہ بلدیات کی جانب سے وفاقی وزارت قانون و پارلیمانی امور کو بجھوائے گئے مسودہ قانون کی الیکشن کمیشن سے بھی ختمی رائے لینے کی استدعا کی گئی ہے تاکہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء اور لوکل گورنمنٹ ڈی لیمیٹیشن رولز میں بھی ترامیم کی جا سکیں۔مجوزہ ترمیمی مسودہ قانون میں پہلے طعے کی گئی یونین کونسلوں کی جنرل اور مخصوص نشستوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔یہ مسودہ قانون سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں تیار کروا کر بھجوایا گیا ہے۔واضع رہے کہ قابل ا زیں حلقہ بندیوں،حلقہ بندی افسران کی امزدگیوں سمیت اس حوالے سے تمام اختیارات صوبائی حکومت نے اپنے ہاتھ میں رکھے تھے۔

Photos 29/05/2014
Untitled album 24/05/2014
30/04/2014

ورلڈ بنک نے پنجاب میونسپل سروسز امپورمنٹ پراجیکٹ کو ناکام قرار دے دیا۔فیز ٹو کے لیے فنڈز روک لیے
لاہور26اپریل(بلدیات نیوز) ورلڈ بنک نے پنجاب کی ٹی ایم ایز کی مالی حالت و استعداد کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ٹی ایم ایز کی استعداد کار نہ ہونے کے باعث ورلڈ بنک کا پنجاب میونسپل سروسز امپورومنٹ پراجیکٹ کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔اس منصوبہ کے لیے ورلڈ بنک سے50 ملین ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا۔صوبہ کی پانچ شہری حکومتوں کے ٹاؤنز کو نظر انداز کر کے جن37تحصیل میونسپل انتظامیہ کو پارٹنر بنایا گیا ان میں فنانشل مینجمنٹ سسٹم،کیمپلینٹ ٹریکنگ سسٹم،پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم،جی آئی ایس میپ اور آئی ٹی بیس سسٹم کے دیگر منصوبوں پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ورلڈ بنک کے اس پراجیکٹ کی ٹیم لیڈر شہناز ارشاد نے اپنی رپورٹ میں منصوبہ پر عمل درآمد نہ ہونے کی جو اہم وجوہات بتائی ہیں ان میں ٹی ایم ایز کی کمزور مالی حالت اور اس حوالے سے صلاحیتوں اور استعداد کار کا نہ ہونا ہے۔پہلے فیز میں متوقع کامیابی نہ ہونے کے باعث مزید68ٹی ایم ایز میں پنجاب میونسپل سروسز امپرومنٹ پراجیکٹ کا دوسرا فیزشروع نہیں ہو سکا۔پہلا فیز30نومبر2013ء تک مکمل ہونا تھا۔ جس میں احمد پور سیال،اٹک،بھلوال،چکوال،چنیوٹ،دنیا پور،گوجرہ،جہلم، قصور،ملکوال،سرگودھا،نورپورتھل،سلیانوالی،بہاؤلنگر،بھکر،بورے والا،چیچہ وطنی،ڈسکہ،فتح جنگ،حسن ابدال،خان پور،کوٹ مومن،پنڈ دانخان، وہاڑی،لیاقت پور،میلسی،منڈی بہاؤلدین،اوکاڑہ،رینالہ خورد،سرائے عالمگیر،شور کوٹ،ٹوبہ ٹیک سنگھ ،لودھراں ،سمبڑیال وغیرہ کی ٹی ایم ایز شامل تھیں۔

26/04/2014

کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیوں کا قیام۔۔پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترمیم کے لیے قانونی مسودہ تیار
لاہور24اپریل( بلدیات نیوز) محکمہ بلدیات نے ڈویڑنل سطع پر کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سمری منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی ہے۔لاہور،ملتان،گوجرانوالہ،راولپنڈی،فیصل آباد،سرگودھا،ساہیوال،بہاؤلپور اور ڈی جی خان میں کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے قیام کے لیے پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ء میں ترمیم کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس کی منظوری پنجاب اسمبلی سے حاصل کی جائے گی اور ٹی ایم ایز سے اختیارات کمپنیوں کو منتقل ہو جائیں گے۔کمشنرز،آرپی اوز کے علاوہ تحصیل وٹاؤن ناظم یا ایڈمنسٹریٹرز بھی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہونگے۔چمبر آف کامرس کے نمائندوں،فارمرز،لائیوسٹاک کے ماہرین،سول سوسائٹی سے ممبران کے نام تجویز کئے گئے ہیں ڈویڑنل سطع پر کمپنیوں میں بطور ممبر ارکان اسمبلی کے ناموں کی ختمی منظوری ایوان وزیر اعلیٰ دے گا۔پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ء کے ترمیمی مسودہ کے مطابق سیکشن 195بی کے تحت بلدیاتی اداروں کے اختیارات کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو منتقل کئے جا رہے ہیں سیکشن146اے کے ذریعے بھی ترمیم ہو گی۔اسی طرز پر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء میں بھی ترمیم کی جائیں گی جو ابھی لاگو نہیں ہوا ہے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Lahore
54000