Virtual Academia

Virtual Academia

Share

We aim to provide accessible international education without the barrier of location, including IGCSE & A levels. Aiming to be one the leading professional educational institutes of Pakistan, we adhere to abide by our core values of:

•“Complete Student Satisfaction”,
Continuously striving to present an alternative approach resulting in student’s overall satisfaction with his/her educational exper

14/07/2025

اغیار کے افکار و تخیّل کی گدائی!
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟
(علامہ اقبال)

منظوم فارسی ترجمہ:
از غیر کنی فکرت و اندیشه گدایی!
آیا به خودی خویشتنت نیست رسایی؟
(مترجم: محمد افسر رھبین)

تشریح:
اس شعر میں اقبال نہایت دُکھ، تاسف اور طنز بھرے انداز میں امتِ مسلمہ کو مخاطب کر رہے ہیں۔ "اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی" میں اقبال اُس ذہنی غلامی پر ضرب لگا رہے ہیں جو مسلمان قوم مغرب کے فلسفے، سائنس، ثقافت اور فکری نظام کو اندھا دھند قبول کر کے اپنا چکی ہے۔ "گدائی" کا لفظ یہاں نہ صرف انحطاطِ فکر کی علامت ہے بلکہ اس سے غیرتِ ایمانی کا فقدان بھی ظاہر ہوتا ہے — کہ ایک ایسی قوم، جسے وحی، نبوت، اجتہاد، اور تہذیبِ اسلامی جیسی اعلیٰ اقدار عطا کی گئی تھیں، اب وہ دوسروں کے خیالات کی بھیک مانگ رہی ہے۔
"کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟"یہاں "خودی" اقبال کا وہ مرکزی تصور ہے جو انسان کی باطنی قوت، روحانی شناخت، اور تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے مسلمان! تُو دوسروں کے علم و فن کا محتاج کیوں بن گیا؟ کیا تجھے اپنی حقیقت، اپنی فطرت، اپنے جوہر کا ادراک نہیں؟ اگر تُو اپنی خودی کو پہچان لے تو تجھ سے افلاک روشن ہو سکتے ہیں، خورشید تیرے شرر سے نور حاصل کرے گا، اور قدرت تیرے فن پر رشک کرے گی۔
یہ شعر اقبال کے فکری پیغام کا نچوڑ ہے ، وہ محض تنقید نہیں کرتے، بلکہ تعمیر کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ امت کو یاد دلاتے ہیں کہ تقلیدِ مغرب اور فکری گدائی سے نکل کر اپنے باطن کی خودی کو دریافت کرو، کیونکہ جدت کی اصل بنیاد بھی خودی کی آگہی سے ہی پھوٹتی ہے۔

نظم: جِدّت
کتاب: ضربِ کلیم

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Lahore