Gaseous Fuel-Bio Gas Program

Gaseous Fuel-Bio Gas Program

Share

11/07/2024

اوشو کے ایک دوست نے اوشو سے کہا کہ "میں آپ کو اپنی والدہ سے ملوانا چاہتا ہوں کیونکہ میری والدہ بہت مذہبی ہیں" اوشو نے کہا "ٹھیک ہے، میں آپ کی والدہ سے ملوں گا کیونکہ مجھے مذہبی لوگوں سے ملنا پسند ہے۔"

جب اوشو اپنے دوست کی والدہ سے ملا تو اس کے دوست کی والدہ نے اوشو سے پوچھا کہ تم بہت کتابیں پڑھتے ہو، ان دنوں کیا پڑھ رہے ہو؟

اوشو نے کہا آج کل میں قرآن پڑھ رہا ہوں

یہ سن کر میرے دوست کی والدہ غصے میں آگئیں اور کہنے لگیں کہ تم کس قسم کے ہندو ہو جو قرآن پڑھتے ہو، تم اپنے مذہب کی کتابیں پڑھو۔

بعد میں اوشو نے اپنے دوست سے کہا کہ تم کہتے تھے کہ تمہاری ماں مذہبی ہے لیکن وہ مذہبی نہیں بلکہ فرقہ پرست ہے۔

آج کل آپ کو بہت سے لوگ ملیں گے جو خود کو مذہبی کہتے ہیں، لیکن وہ فرقہ پرست ہیں، "مذہبی" ہونے اور "فرقہ وارانہ" ہونے کے درمیان بہت باریک لکیر ہے۔

جگدیش شرما کے قلم سے

24/04/2024

ایرانی صدر کا دورہِ پاکستان
اور پاکستان کی بے خبر عوام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1965 میں جب بھارت کے ساتھ جنگ کا ماحول بن رہا تھا حالات انتہائی کشیدہ تھے اور دوسری طرف ایران بھی جس کا ہمیشہ سے جھکاؤ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی طرف رہا ہے وہ بھی پاکستان کا شدید مخالف تھا تو اس خوفناک صورتحال میں کہ ایک طرف بھارت سے ہماری جنگ لگ جائے اور پیچھے سے ایران کہیں ہماری پیٹھ میں چھرا نہ گھونپ دے ایوب خان جو اس وقت صدر پاکستان تھے انہوں نے اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو ایران بھیجا جو ایرانیوں کے داماد بھی تھے بھٹو سے ایوب خان نے کہا کہ جاؤ اور شاہ ایران کے پاس اور جس طرح بھی وہ راضی ہوتا ہے اسے راضی کرو اور پاکستان کے خلاف ایران کے حملے سے بچنے کی تدبیر کرو بھٹو صاحب ایران گئے اور انہوں نے شاہ ایران سے جا کے کہا کہ اپ کیا چاہتے ہیں تو اس پر شاہ ایران نے دو باتیں کی پہلی بات سیندک کے حوالے سے سیندک کا وہ علاقہ جہاں پر کاپر کے اور قیمتی معدنیات کے ذخائر ہیں اس کا وہ بڑا حصہ جہاں پر زیادہ ذخائر ہیں ایران نے اس پہ نشان لگا کے کہا کہ یہ آپ ہمیں دیں سیندک کا علاقہ شروع سے متنازہ چل رہا تھا تو بھٹو صاحب نے شاہ ایران کی یہ بات مان لی اور دوسری شرط شاہ ایران نے بھٹو صاحب کے ساتھ یہ رکھی کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب سے بلوچستان کے اندر سے تیل نہیں نکال سکتا اور ایران پاکستان کی سرحد کے قریب سے اپنے بلوچستان سے جو ایران کے اندر کا ہے وہاں سے تیل نکالے گا بھٹو صاحب نے یہ شرط بھی مان لی اور 30 سال تک کا یہ معاہدہ طے پایا کہ 30 سال تک پاکستان اپنے بلوچستان سے تیل نہیں نکالے گا ایران پاکستان کی سرحد کے قریب سے تیل نکال سکے گا اور تیل کا معاملہ اس طرح ہوتا ہے کہ جب ایک جگہ سے نکالا جائے تو بہہ کر دور دور سے تیل وہاں ا جاتا ہے تو ہوا یہ کہ ایران نے تیل نکالنا شروع کر دیا پاکستان کا تیل بہ کر زمین کے اندر اندر ایران کی طرف جاتا ہے اور ایران وہی تیل نکالتا ہے اور سستا تیل ہے ایران کا جس کے بارے ہمارے ہاں بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ایران سے پاکستان سستا تیل کیوں نہیں خریدتا اور یہ وہی تیل ہے جس کی سمگلنگ ایران پاکستان کی طرف کرتا ہے جس کی ویڈیوز اور تصویریں ہم سوشل میڈیا پر اکثر دیکھتے رہتے ہیں یہ معاہدہ 30 سال تک تھا پھر اگلے 30 سالوں میں کبھی کوئی ایرانی سربراہ حکومت پاکستان نہیں آیا 1965 سے 30 سال کے بعد 1995 میں اس وقت کے ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی پاکستان تشریف لائے اور اس وقت کی پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو سے جو ایرانیوں کی نواسی تھیں ان سے اس معاہدے کی مزید 30 سال کے لیے توثیق کروا لی گئی تو اب پھر اس معاہدے کے 30 سال پورے ہونے جا رہے ہیں 2025 میں تو اصولی طور پر تو ایران کے صدر کو 2025 میں پاکستان انا تھا لیکن وہ ایک سال قبل ہی اگئے کیونکہ اج کل پھر بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کرسی صدارت پر براجمان ہیں اور پاکستان کی ایک بڑی شخصیت وزیر داخلہ بھی ایران نواز ہیں تو ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پاکستان تشریف لائے ہیں اور اسی معاہدے کو مزید اگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تو میری پاکستان کے محب وطن لوگوں سے گزارش ہے کہ اب مزید اس معاہدے کی توثیق نہیں ہونی چاہیے اس کو اگے نہیں بڑھا نا چاہیے ہم اپنا تیل نکال سکیں ہماری ضرورت ہے ہم باہر سے مہنگا تیل خریدتے ہیں جبکہ ہمارا تیل ایران مفت میں نکالے جا رہا ہے اور الٹا ہمیں ہی وہ سمگل کر کے فروخت کرتا ہے تو اس پر پاکستان کے مقتدر حلقوں اور محب وطن لوگوں کو خصوصی توجہ دینی چاہیے ۔

اللہ محافظ پاکستان کا۔جاگو دیر ھونےسےپہلے

FAR #

30/12/2023

👈 قطب الدین ایبک __!!

ایک بار ایک تاجر غلاموں کی منڈی میں گیا تو اسے ایک تُرک لڑکا ملا جو بہت پسند آیا اور اسے تاجر نے فوراً خرید لیا۔ تاجر نے بچے سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے۔ لڑکے نے جواب دیا : جناب میں اپنا نام بتا کر اپنے نام کی توہین نہیں کرنا چاہتا ۔ میں غلام ہوں اس لئے آپ جس نام سے پکاریں گے وہی میرا نام ہوگا ۔ تاجر کو اس جواب پر حیرت ہوئی لیکن اسے یہ بات پسند بھی آئی کہ بچے میں عزت نفس کا احساس باقی ہے۔ تاجر نے اس بچے پر خاص توجہ دی اور اسکی تعلیم اور تربیت کا انتظام کیا ۔
بچے نے بہت جلد تیر اندازی، تلوار بازی اور شہسواری میں ایسی مہارت حاصل کی کہ خود تاجر حیران رہ گیا ۔ غزنی کا بادشاہ شہاب الدین غوری ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ دیکھ رہا تھا ۔ تاجر اپنے غلام کو لے کر اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ حضور میرے اس غلام کو گھڑ سواری میں کوئی نہیں ہرا سکتا ۔
بادشاہ نے مسکرا کے لڑکے سے پوچھا : تم کتنا تیز گھوڑا دوڑا سکتے ہو۔ لڑکے نے نہایت ادب سے جواب دیا : حضور گھوڑے کو تیز دوڑانے سے زیادہ ضروری اسے اپنا مطیع بنانا ہوتا ہے۔ غوری نے چونک کر اسے دیکھا اور ایک بہترین گھوڑا اسے دیتے ہوئے کہا: لڑکے تم اس گھوڑے کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا کر دکھاؤ۔
لڑکا اچھل کر گھوڑے پر بیٹھا اور کچھ دور اسے چلا کر لے گیا اور پھر پلٹ کر واپس آیا۔ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ واپسی میں بھی گھوڑا اپنے سُموں کے نشان پر ہی چلتا ہوا آیا۔
سلطان غوری نے سوچا جو شخص ایک جانور کو اس طرح اپنا فرمانبردار بنا سکتا ہے اس کے لئے انسانوں کو مُطیع بنانا کیا مشکل ہو سکتا ہے ۔ اس نے فوراً اس غلام کوخرید لیا جس کا نام قطب الدین تھا ۔
ترکی میں ایبک انگلی کو کہتے ہیں اور شل کا مطلب ہوتا ہے ، ٹوٹا ہوا ۔ چونکہ اس غلام کی ایک انگلی ٹوٹی ہوئی تھی اس لئے عموماً سب اسے ایبک شل کہتے تھے پھر ایبک اس کے نام کا جزو بن گیا اور اس نے قطب الدین ایبک کے نام سے ہندوستان پر حکومت کی ۔دہلی کی قوت الاسلام مسجد، اور قطب مینار اس کی یادگاریں ہیں..!!`

29/12/2023

آپریشن سے دو گھنٹے پہلے
مریض کے کمرے میں ایک نرس داخل ھوئی اور وہاں کمرے میں رکھے ھوئے گلدستے کو سنوارنے اور درست کرنے لگ گئی. ایسے میں جبکہ وہ اپنے پورے انہماک کے ساتھ اپنے اس کام میں مشغول تھی، اس نے اچانک ھی مریض سے پوچھ لیا: سر کونسا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کر رہا ھے؟ مریض نے نقاہت کی حالت میں، نرس کو دیکھے بغیر ھی اچاٹ سے لہجے میں کہا: ڈاکٹر کاشف۔ نرس نے حیرت کے ساتھ ڈاکٹر کا نام سنا اور اپنا کام چھوڑتے ہوئے، مریض سے قریب ہو کر پوچھا: سر کیا واقعی ڈاکٹر کاشف نے آپ کا آپریشن کرنا قبول کر لیا ھے؟

مریض نے کہا: جی میرا آپریشن وہ ھی کر رھے ہیں۔

نرس نے کہا: بہت ھی عجیب بات ھے، مجھے یقین نہیں آ رہا۔ مریض نے پریشان ھوتے ھوئے پوچھا: مگر اس میں ایسی کونسی عجیب بات ھے؟ نرس نے کہا: دراصل اس ڈاکٹر نے اب تک ہزاروں آپریشن کیئے ہیں ان کے آپریشن میں کامیابی کا تناسب سو فیصد ھے۔ ان کی شدید مصروفیت کی بناء پر، ان سے وقت لینا انتہائی دشوار کام ھوتا ھے۔ میں اسی لئے حیران ھو رھی ھوں کہ آپ کو کس طرح ان سے وقت مل گیا ھے؟ مریض نے ایک طمانیت کے ساتھ نرس سے کہا بہرحال، یہ میری خوش قسمتی ھے کہ مجھے ڈاکٹر کاشف سے وقت ملا ھے اور وہ ھی میرا آپریشن کر رھے ہیں۔ نرس نے ایک بار اپنی بات دہراتے ھوئے کہا کہ: یقین جانیئے میری حیرت ابھی تک برقرار ھے کہ اس دنیا کا سب سے اچھا ڈاکٹر آپ کا آپریشن کرے گا!!

اس گفتگو کے بعد مریض کو آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا، مریض کا کامیاب آپریشن ھوا اور اب مریض بخیر وعافیت ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ھے۔۔۔۔

ایک بات جو بتانے والی ھے وہ یہ کہ مریض کے کمرے میں آنے والی عورت کوئی عام نرس نہیں بلکہ اسی ہسپتال کی ایک ماہر نفسیات لیڈی ڈاکٹر تھی جس کا کام مریضوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر آپریشن کیلیئے، کچھ ایسے طریقے سے تیار اور مطمیئن کرنا تھا جس کی طرف مریض کا شک بھی نہ جا سکے اور اس بار اس لیڈی ڈاکٹر نے اپنا کام نرس کی یونیفارم میں مریض کے کمرے میں رکھے گلدستے کو سنوارتے سنوارتے کر دیا تھا۔ اور مریض کے دل و دماغ میں یہ بات بہت ھی خوب صورتی سے بٹھا دی تھی کہ جو ڈاکٹر اس کا آپریشن کرے گا وہ دنیا کا مشہور اور کامیاب ترین ڈاکٹر ھے جس کا ہر آپریشن ایک کامیاب آپریشن ھوتا ھے۔ اور ان سب باتوں سے مریض بذات خود ایک مثبت انداز میں بہتری کی طرف لوٹ آیا۔ امید اور اچھا احساس دلانا اور مثبت سوچنے پر مجبور کرنے کیلئے آپ کا ماہر نفسیات ھونا ضروری نہیں

کسی مایوس شخص کو تسلی اور خوش امیدی کے دو بول جادوئی اثر اور وہ توانائی دیتے ہیں جو کسی دوا میں نہیں اس لیئے ہمیشہ اچھا بولیئے۔ دوسروں کو نئی امید دلائیے۔۔۔

Want your business to be the top-listed Business in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


More Khunda Distt. Nankana Sahib
Lahore
54000